افسانہ - آدھی روٹی - سعید پٹیل جلگاؤں۔


افسانہ - 
آدھی روٹی - 
سعید پٹیل جلگاؤں۔

راجو اسکول کے درمیانی وقفے میں گھر آیا۔۔۔۔۔۔۔یوں تو وہ اس سے پہلے کبھی کبھی اس وقت آیا کرتا تھا جب اسے بھوک محسوس ہوتی تھی۔۔۔۔۔کیونکہ جب وہ پرائمری سے ہائی اسکول کی جماعتوں میں زیر تعلیم تھا ، اس لیۓ اس کی اسکول کا وقت صبح سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ہوا کرتا تھا۔ اس لیۓ درمیانی چھٹی کا وقفہ پندرہ منٹ کا ہی ہوتا تھا۔لیکن امسال وہ جونیئر کالج کی گیارویں جماعت کامیاب ہوکر بارھویں جماعت کا طالب علم تھا۔۔۔۔اب اس کے کالج کا وقت صبح ساڑھے دس بجے سے شام پانچ بجے تک کا ہوگیا تھا۔۔۔۔ کالج سے وہ دو مضامین کی کلاسیس کے لیۓ بھی جاتا تھا ، اور درمیانی وقفے کا وقت دوپہر میں تیس منٹ تک تھا۔۔۔۔۔طے وقت کے مطابق وقفہ میں وہ کبھی آتا یا ماں اس کے ساتھ میں کچھ ناشتہ دیتی تھیں۔لیکن آج راجو کو بھوک محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔اس لیۓ وہ درمیانی وقفہ میں گھر آیاتھا۔۔۔۔۔۔اس کے والدین یومیہ مزدور تھے۔۔۔۔اس لیۓ کھانا صبح ہی تیار ہوجاتا تھا۔۔۔۔۔ وہ اپنے راجو اور منی کےلیۓ کھانا سلقے سے رکھ دیتے اور مزدوری کےلیۓ چلے جاتے تھے۔ راجو نے باس کی کمڑیوں سے بنی روٹی کی ٹوکری کو دیکھا تو اس میں ایک روٹی کا آدھا حصہ کپڑے میں لیپٹا ہوا تھا۔۔۔پاس میں رکھے ہوۓ ایک چھوٹے سے ڈبہ میں پیاز کی چٹنی تھی۔۔۔۔۔اس نے دس ضرب پندرہ فٹ کے جھونپڑہ نما مکان کے ایک کونے میں زمین پر پھیلے ہوۓ کھانا بنانے کی جگہ پر رکھّے ہوۓ ہر ڈبے کو کھول کھول کردیکھا کہ ماں کے ہاتھ کی بناکر رکھی ہوئی کوئی کھانے کی چیز مل جاۓ ، لیکن کہیں کوئی بھی چیز نہیں ملی۔۔۔۔۔۔ راجو کی بھوک زیادہ تھی لیکن گھر کے ہر ہر ڈبے سے ضرورت اور غریبی بیاں ہورہی تھی۔۔۔۔، چولہے کے پاس کا ہر برتن ضرورت سے خالی تھا۔۔۔۔
راجو نے باہر دروازے کے پاس رکھی مٹکی سے پانی پیا اور کالج کےلیۓ چل پڑا۔۔۔۔۔۔۔شام ہونے سے پہلے جب اس کے والدین نے گھر میں قدم رکھا تو گھر کا ایک ایک سامان بیکھرا پڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ماں سمجھ گئ تھیں کے راجو درمیانی چھٹی میں گھر آیا ہوگا اور اس نے کھانے کےلیۓ تلاش کیا ہوگا؟ ماں نے سامان کو سلیقے سے لگاتے ہوۓ۔۔۔۔۔۔۔آنگن میں اپنی چھوٹی بیٹی جو اسکول سے آنے کے بعد اپنے حصے کا گھر کام کرنے میں مصروف تھیں۔منی اسکول سے آتے ہی گھریلوں کاموں میں اپنی ماں کا ہاتھ بٹاتی تھیں۔۔۔۔۔کیونکہ ماں بیٹی کو گھریلوں کام۔کاج میں بھی تربیت دینے کے حق میں تھیں۔تاکہ سسرال میں اس کو سنسار کے گھریلوں کام کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔۔۔۔۔۔ ماں نے چارپائی پر لیٹے راجو کے باپ سے کہا ” دیکھو میرا بچہ آج پھر آدھا پیٹ کھانا کھاکر کالج گیا ہے ، صبح بھی اسے ناشتہ نہیں ملا تھا۔۔۔، جلدی سے دال چاول کا کرانہ لے آؤ ، راجو کالج کے بعد ٹیویشن سے آۓگا تو ، اس سے پہلے میں کھانا بنا لیتی ہوں “۔۔۔۔۔۔میرا بچہ اس طرح روز روز آدھا پیٹ کھانا کھاۓگا تو۔۔۔۔وہ کمزور ہوجاۓگا۔۔۔۔!!! اسے باہر کی چیزیں کھانے کی عادت پڑ جائیں گی؟ جس سے صحت خراب ہوجاتی ہے؟پھر اسے من لگاکر پڑھائی بھی کرنا ہے اور نمایاں کامیابی بھی حاصل کرناہے۔۔۔۔ہمارے پاس اتنا پیسہ تو ہے نہیں کہ اس پر پیسہ خرچ کرکے پڑھاۓ ۔۔۔۔وہ آدھا پیٹ کھانا کھاکر پڑھائی کیسے کرےگا؟ ماں نے بیٹے کی صحت و تندرستی کی فکر کرتے ہوۓ کہا۔راجو کے باپ نے بیوی کی طرف غصہ ہوتے ہوۓ کہا۔۔۔۔ گذشتہ روز ہی اسکول میں پروگرام تھا ، طلباء کے ساتھ والدین کو بھی بلایا گیاتھا۔ جس میں ایک ماہر تعلیم نے سرپرستوں اور طلباء سے کہاکہ ”آدھی روٹی کھاؤ۔۔۔۔۔لیکن ضرور پڑھو“۔۔۔۔۔۔۔
اور ایک تم ہو کہ بیٹے کی صحت کا رونا رو رہی ہو؟
کوئی بھی کامیابی حاصل کرنےکےلیۓ ایثار کا جذبہ ہونا چاہیۓ۔۔۔۔۔؟ راجو کی ماں نے جواب دیتے ہوۓ کہا۔۔۔۔لیکن یہاں تو ضرورتوں کا انبار ہے ، ایسے میں اپنے بچوں کی تندرست صحت کی فکر ہم نہیں کریں گے تو کون کرےگا؟جاؤ جلدی سے ابھی کی ضرورت کا راشن لے آؤ۔۔۔۔۔۔
میں کہاں سےلاوں گا۔۔۔۔۔۔میرے پاس تو پیسے نہیں ہے۔مالک نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے سب ساتھ ہی لینا۔۔۔۔ماں من ہی من بڑ بڑاتے ہوۓ تھوڑی تھوڑی بچت کرکے رکھے ہوۓ روپیوں میں سے کچھ روپیۓ نکال کر پتی کے ہاتھ میں تھما دیۓ۔۔۔،،،راجو کا باپ تیز تیز قدموں سے سامان لانےکےلیۓ چل پڑا تھا۔۔۔۔کیونکہ وہ خود صبح سے بھوکا تھا۔۔۔۔۔۔۔!!!

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔