دراڑیں ہونا برا نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی اندر آتی ہے۔رشتہ داری کی حفاظت : دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز۔ از قلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔


دراڑیں ہونا برا نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی اندر آتی ہے۔
رشتہ داری کی حفاظت: دنیا و آخرت کی کامیابی کا راز۔
از قلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام، کرناٹک۔
M.A., M.Ed.

"دراڑیں ہونا برا نہیں، یہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی اندر آتی ہے۔"
اس خوبصورت جملے کو عموماً لوگ زندگی کی امید، حوصلے اور نئی شروعات کے تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کا ایک اور نہایت گہرا مفہوم بھی ہے۔
عام طور پر جب کسی چیز میں دراڑ پڑ جائے تو وہ پہلے جیسی مضبوط اور مکمل حالت میں واپس نہیں آتی۔ اسی طرح انسانی رشتوں میں بھی جب اختلافات، غلط فہمیاں یا تلخیاں پیدا ہو جائیں تو بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ تعلق پہلے جیسا نہیں رہے گا۔ لیکن اگر اسی حقیقت کو مثبت زاویے سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر دراڑ صرف ٹوٹنے کی علامت نہیں ہوتی، بلکہ وہ روشنی کے داخل ہونے کا راستہ بھی بن سکتی ہے۔
کئی مرتبہ یہی اختلافات ہمیں اپنی کمزوریوں کا احساس دلاتے ہیں، اپنے رویّوں پر نظرِ ثانی کا موقع دیتے ہیں، معاف کرنا سکھاتے ہیں، انا کو توڑتے ہیں اور محبت، صبر، برداشت اور صلہ رحمی کی قدر سکھاتے ہیں۔ اگر انسان اخلاص کے ساتھ صلح، درگزر اور اصلاح کا راستہ اختیار کرے تو یہی دراڑیں اس کی شخصیت میں نور، حکمت اور پختگی پیدا کر دیتی ہیں۔ گویا بعض اوقات آزمائشیں ہمارے لیے تباہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اصلاح اور ہدایت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
اسی لیے رشتوں میں اگر کبھی دراڑ آ بھی جائے تو اسے نفرت کی دیوار نہ بننے دیں، بلکہ محبت، معافی اور خیرخواہی کی ایسی کھڑکی بنا دیں جہاں سے رحمت، روشنی اور برکت ہمارے دلوں میں داخل ہو سکے۔ یہی مثبت سوچ انسان کو ایک بہتر مسلمان، بہترین رشتہ دار اور بہترین انسان بناتی ہے
زندگی میں ہر رشتہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کبھی محبت بڑھتی ہے، کبھی غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں، کبھی دل دکھتے ہیں اور کبھی زبان سے ایسے الفاظ نکل جاتے ہیں جو دلوں میں فاصلے پیدا کر دیتے ہیں۔ لیکن یاد رکھئے، دراڑیں ہونا برا نہیں، بلکہ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے روشنی اندر آتی ہے۔ اگر انسان صبر، معافی اور محبت کا راستہ اختیار کرے تو بکھرے ہوئے دل بھی دوبارہ جڑ سکتے ہیں۔
رشتہ داری اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ یہ وہ بندھن ہے جو صرف خون کا نہیں بلکہ محبت، ہمدردی، تعاون اور قربانی کا رشتہ ہے۔ شیطان ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ لوگوں کے درمیان نفرت پیدا ہو، خاندان ٹوٹ جائیں اور دل ایک دوسرے سے دور ہو جائیں۔ لیکن ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ بگاڑ نہیں بلکہ اصلاح کرتا ہے، نفرت نہیں بلکہ محبت بانٹتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
«"اور اللہ سے ڈرو، جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کا خیال رکھو۔"
(سورۃ النساء: 1)»
ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«"جو لوگ غصہ پی جاتے ہیں، لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔"
(سورۃ آل عمران: 134)»
آج افسوس کی بات یہ ہے کہ معمولی باتوں پر سالہا سال تک رشتہ دار ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے۔ جائیداد، دولت، کاروبار یا معمولی اختلافات کی وجہ سے دلوں میں ایسی دیواریں کھڑی کر لی جاتی ہیں جنہیں گرانے کی کوشش بھی نہیں کی جاتی۔ حالانکہ دنیا کی کوئی دولت، کوئی حسن اور کوئی جائیداد ہمارے ساتھ قبر میں نہیں جائے گی۔ جو چیز ہمارے ساتھ جائے گی وہ ہمارے اعمال ہیں، اور انہی اعمال میں ایک عظیم عمل صلۂ رحمی بھی ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
«"رشتہ داری توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)»
یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ اگر ہم جنت کے امیدوار ہیں تو ہمیں اپنے دلوں سے کینہ، حسد اور نفرت کو نکالنا ہوگا۔
ہم سب انسان ہیں، ہم سے بھی غلطیاں ہوتی ہیں اور دوسروں سے بھی۔ اگر ہمارے رشتہ دار سے کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کر دینا کمزوری نہیں بلکہ ایمان کی طاقت ہے۔ معاف کرنے والا دراصل اللہ تعالیٰ کی صفت کو اختیار کرتا ہے، اور جو بندہ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔
یاد رکھئے!
معاف کرنا انسان کو چھوٹا نہیں کرتا، بلکہ اللہ کے نزدیک اس کا مقام بلند کر دیتا ہے۔
حضرت محمد ﷺ نے فرمایا:
«"جو شخص معاف کرتا ہے، اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے۔"
(صحیح مسلم)»
ہم خود بھی گناہگار ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائے تو ہمیں بھی دنیا میں لوگوں کی لغزشوں کو معاف کرنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
«"انہیں معاف کر دو، درگزر کرو، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے؟"
(سورۃ النور: 22)»
رشتہ داروں سے تعلق صرف خوشی کے دنوں کا نام نہیں بلکہ ناراضی کے وقت بھی تعلق برقرار رکھنے کا نام ہے۔ سلام میں پہل کرنا، خیریت دریافت کرنا، عیادت کرنا، خوشی اور غم میں شریک ہونا، یہی صلہ رحمی ہے۔
رشتوں کی خوشبو سے مہکتا ہے یہ جہاں،
نفرت کی آگ میں نہ جلاؤ اپنا آشیان۔
جو معاف کر دے، وہی دلوں کا امیر ہے،
کینہ رکھنے والا ہمیشہ دل سے فقیر ہے۔
محبتیں بانٹو، یی سرمایۂ حیات ہے،
رشتہ نبھانا ہی اصل عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔
آخر میں یہی کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ ہم ایسے انسان بنیں جن کے جانے کے بعد بھی لوگ انہیں محبت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کی وجہ سے یاد کریں۔ صرف زندہ رہنا کمال نہیں، بلکہ ایسا کردار چھوڑ جانا کمال ہے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے۔
یاد رکھئے! ہمارا اصل گھر یہ دنیا نہیں بلکہ آخرت ہے۔ اس لیے ایسی زندگی گزاریں کہ جب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو ہمارے اعمال میں صلہ رحمی، معافی، محبت اور حسنِ اخلاق بھی شامل ہوں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رشتہ داریوں کی حفاظت کرنے، دلوں کو جوڑنے، معاف کرنے اور اپنی آخرت سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔