سمندر کی بے رحم موجوں سے ۳ ماہی گیروں کا معجزانہ بچاؤ: 'دیگھی کوئن' جنگم جیٹی انتظامیہ کا کارنامہ - ریڈ الرٹ اور پابندی کے باوجود سمندر - میں اترنے والی کشتی ڈوبی، جیٹی انتظامیہ نے بروقت کارروائی کر کے ۳ کولی بھائیوں کی جانیں بچا لیں، ہر طرف ستائش۔
05 جولائی 2026
دیگھی (رائے گڑھ): خصوصی رپورٹ : موسم کی خرابی اور انتظامیہ کے سخت قوانین کو نظر انداز کرنا ۳ ماہی گیروں کو اس وقت زندگی اور موت کی جنگ میں دھکیل گیا جب ان کی کشتی سمندری طوفان کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔ تاہم، 'دیگھی جنگم جیٹی' (دیگھی کوئن) انتظامیہ کی فوری اور جرات مندانہ کارروائی نے ایک بڑا حادثہ ہونے سے ٹال دیا اور سمندر کی بپھری ہوئی لہروں کے درمیان پھنسے تینوں ماہی گیروں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس وقت پورے علاقے میں جنگم جیٹی انتظامیہ کے اس انسانی جذبے اور کارنامے کی زبردست ستائش کی جا رہی ہے۔
ریڈ الرٹ اور مچھلی پکڑنے پر پابندی
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے ممبئی، تھانے، پالگھر اور رائے گڑھ اضلاع کے لیے 'ریڈ الرٹ' جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت یکم جولائی سے ۱۵ اگست تک سمندر میں ماہی گیری (Fishing) پر مکمل پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود، دیگھی گاؤں کے رہنے والے کولی سماج کے ۳ افراد پہلے سے بچھائے گئے جالوں سے مچھلیاں نکالنے کی غرض سے اپنی چھوٹی ناؤ میں سوار ہو کر سمندر میں اتر گئے۔
اچانک موسم کی تبدیلی اور کشتی کا ڈوبنا
ماہی گیر ابھی کھاڑی کے بیچ پہنچے ہی تھے کہ اچانک موسم نے بھیانک رخ اختیار کر لیا۔ تیز ہوائیں چلنے لگیں، سمندر دیکھتے ہی دیکھتے بپھر گیا اور پانی کا رنگ تبدیل ہو گیا۔ طوفان کی شدت اور بلند و بالا موجوں کا مقابلہ نہ کرتے ہوئے ان کی ناؤ توازن کھو بیٹھی اور سمندر برد ہو گئی۔ کشتی ڈوبنے کے بعد تینوں ماہی گیر سمندر کے بیچوں بیچ، بغیر کسی سہارے کے، موجوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان بچانے کی جدوجہد کرنے لگے۔
'دیگھی کوئن' کا جرات مندانہ ریسکیو آپریشن
خوش قسمتی سے اس حادثے کی خبر 'دیگھی جنگم جیٹی' کی انتظامیہ تک پہنچ گئی۔ صورتحال کی سنگینی کو بھانپتے ہوئے جیٹی انتظامیہ نے ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کیا اور فوراً اپنی بڑی جنگم جیٹی 'دیگھی کوئن' کو حادثے کی جگہ کی طرف روانہ کر دیا۔
جب 'دیگھی کوئن' ماہی گیروں کے قریب پہنچی، تو تینوں ماہی گیر سمندری لہروں سے لڑ لڑ کر شدید تھک چکے تھے اور ان کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ جیٹی کے عملے نے فوری حکمت عملی اپناتے ہوئے ان کی طرف لائف بوائے (گول لائف جیکٹس/ٹیوب) پھینکے۔ ماہی گیروں نے ان لائف بوائے کا سہارا لیا، جس کے بعد عملے نے انتہائی مہارت کے ساتھ تینوں کو کھینچ کر 'دیگھی کوئن' پر سوار کر لیا۔
عوام کی جانب سے زبردست ستائش :
بغیر کسی جانی نقصان کے تینوں ڈوبتے ہوئے ماہی گیروں کو بحفاظت نکالنے پر دیگھی اور آس پاس کے ساحلی علاقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ کولی سماج اور مقامی عوام کی جانب سے دیگھی جنگم جیٹی انتظامیہ کے اس فوری اقدام، فرض شناسی اور جرات مندانہ کارنامے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا جا رہا ہے اور ہر طرف ان کی تعریف ہو رہی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے ایک بار پھر ماہی گیروں سے اپیل کی ہے کہ وہ خراب موسم میں سمندر میں جانے سے گریز کریں۔
اظہر ظہیر الدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ
Comments
Post a Comment