نکاح کا غلط اور صحیح طریقہ - ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔ (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


نکاح کا غلط اور صحیح طریقہ - 
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔ 
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

جی ہاں نکاح کا طریقہ غلط بھی ہے یعنی شریعت کے خلاف اور صحیح بھی یعنی شریعت کے مطابق - دونوں طریقے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے حدیث شریف میں بیان فرمائے ہیں-
فرمایا( تنكح المرأة لأربع لمالها و لحسبھا ولجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين تربت يداك، بخاري و مسلم) عورت سے نکاح چار اعتبار سے کیا جاتا ہے- اس کے مال کو دیکھ کر، اس کے خاندان کو دیکھ کر ، اس کی خوبصورتی کو دیکھ کر، اس کی دینداری کو دیکھ کر، تم اس کی دینداری کو دیکھ کر کامیاب ہو جاؤ ، تمہارے ہاتھ برکتی رہیں گے)- حدیث میں تربت یداک کے الفاظ ہیں جس کا ترجمہ یہ ہوتا ہے ( تو کیا تمہارے ہاتھ مٹی میں مل جائیں گے؟) عربوں میں یہ انداز کسی معاملہ کے انتہائی بلند ہونے کے لئے استمال کیا جاتا ہے- سعودی عرب کے سابق مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ نے یہی بتائیں ہیں-
انتہائی بد قسمتی کے ساتھ بلکہ انتہائی بے غیرتی کے ساتھ انڈیا پاکستان اور بنگلہ دیش کے اکثر نوجوان صرف اور صرف مال کو دیکھ کر شادی کرتے ہیں - ایسے لوگ فقیروں اور دوسرے لالچیوں سے بھی زیادہ لالچی اور فقیر ہیں- اور اصل میں وہ اپنے باپ دادا کے نقش قدم پر ہیں- ان لالچی نوجوانوں کے باپ نے اپنی شادی کے وقت پیسہ اور لڑکی کے باپ کی مالداری ہی دیکھ کر شادی کی تھی- تو ایسے باپ کا بیٹا باپ سے دو قدم آگے کیوں نہ ہو- اس سے زیادہ تعجب کی بات ایسے بیٹوں کی ماؤوں پر ہوتا ہے- انھیں اپنی شادی کا وقت کیوں یاد نہیں آتا جب ان کا مجبور باپ ان کے لالچی شوھر اور اس کے گھر والوں کے رال ٹپکانے کی وجہ سے قرض لے لے کر بیٹی کی شادی کر رہا تھا - تب تو اس وقت بیٹی کو بہت برا لگ رہا تھا- پھر جب اس کے بیٹے کی شادی کا وقت آیا تو وہ اپنا وقت بھلا دے اور وہی غلطی دہرائے جو اس کے وقت اس کے ہونے والے شوہر نے کی تھی- ہونا تو یہ چاھیے کہ بیٹے کی شادی کے وقت اس کی ماں سب سے زیادہ جہیز کی مخالف ہو- مگر سچی دینداری کی کمی اور مال و دولت کی بے غیرت لالچ ، انسان کو ہر طرح کے اخلاق سے ننگا کر دیتی ہے- 
ویسے بڑی حد تک دیندار نوجوان معاشرہ میں جنم لے چکے ہیں مگر اب بھی ان کی تعداد آٹے میں نمک کی طرح ہے- جو لوگ الفاظ کی دنیا میں رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے عشق و محبت کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں اور درود و سلام کی بڑی بڑی مجلسیں کرتے ہیں انھیں اپنے رسول کی ان تعلیمات کو پھیلانے کی سخت ضرورت ہے-
مشہور تابعی حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے وقت کے اموی خلیفہ عبد الملک بن مروان نے اپنے بیٹے ولید سے شادی کے لئے ان کی بیٹی جس کا نام فرسہ یا رباب تھا ، کا رشتہ مانگا - اسی رات اس اللہ کے نیک بندے نے اپنے ایک شاگرد حضرت کثیر جو انتہائی غریب تھے ، ان سے اپنی اس بیٹی کی شادی صرف دو درہم کے مہر کے بدلے کردی-
اس واقعہ میں بہت ساری باتیں سیکھنے کی ہیں- اس وقت کی بے دینی کے باوجود وقت کا بادشاہ بھی علماء کی اولاد سے شادی چاھتا تھا- اور آج کے بڑے سے بڑے دیندار مالدار مسلمان خواب میں بھی ایسا نہیں سوچ سکتے-
اس متقی باپ نے اپنی بیٹی کا مھر صرف دو درھم رکھا- آج کے علماء بھی ایسا مہر رکھنے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں- 
اس زمانہ میں علم کا اور خصوصا دین کے علم کا مرتبہ مال و دولت سے کہیں زیادہ بڑا ہوا تھا- اور آج ہر شخص کی آنکھوں ہر صرف مال و دولت کی پٹی بندھی ہوئی ہے-
میں تمام مسلمان نوجوانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جہیز کی لعنت پر تھوک دیں اور اپنے نبی کی تعلیم پر عمل کریں اور دوسروں سے بھی کروائیں- 
ایک بات اور - وہ یہ کہ آج کل مال و دولت کے مانگنے کا نیا طریقہ چل رہا ہے - وہ یہ کہ نوکری کرنے والی بیوی ملے - کیوں ؟ تاکہ زندگی بھر اس کی کمائی کھاتے رہیں لا حول ولا قوۃ 
اسی کو کہتے ہیں چور تو چور اور سینہ زور- شریعت میں اگر کسی کی بیوی کتنی ہی مالدار ہو ، شوہر کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بیوی سے اس کا مال گھریلو اخرجات پورے کرنے کے لئے مانگے - یہ صرف اور صرف شوہر کی ذمہ داری ہے-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔