بارش اور غرباء کے گھر - از قلم : شعیب احمد محمدی۔


بارش اور غرباء کے گھر - 
از قلم : شعیب احمد محمدی۔

بارش رحمت ہے۔ آسمان سے اترتی ہر بوند اللہ کی نعمت ہے۔ کھیت سرسبز ہوتے ہیں دریا بھر جاتے ہیں دل خوش ہو جاتے ہیں۔ 
لیکن یہی رحمت جب غریب کے ٹوٹے چھت پر گرتی ہے تو زحمت بن جاتی ہے۔ امیر کے لیے بارش موسم ہے غریب کے لیے امتحان۔

1 دینی پہلو 
اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ بارش اللہ کی رحمت کے ساتھ آزمائش بھی ہے۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش دیکھ کر دعا فرماتے اللہم صیبا نافعا اے اللہ نفع دینے والی بارش برسا۔

دین کا حکم ہے کہ جو خود محفوظ چھت کے نیچے ہے وہ ان کا خیال رکھے جن کی چھت ٹپکتی ہے۔ 
اللہ فرماتا ہے ویطعمون الطعام علی حبہ مسکینا و یتیما و اسیرا 
اور وہ اللہ کی محبت میں مسکین یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں

بارش کے دن غریب کے گھر کا چولہا نہ جلے تو امیر کا روزہ بھی مکمل نہیں۔

2 معاشرتی پہلو 
ہمارے معاشرے میں بارش آتے ہی دو منظر بنتے ہیں۔ 
ایک طرف لوگ چھت پر بیٹھ کر چائے اور پکوڑے کھاتے ہیں۔ 
دوسری طرف کچی بستی میں ماں بچوں کے ساتھ بالٹی اور برتن رکھ کر پانی روک رہی ہوتی ہے۔

غریب کا گھر کچا ہوتا ہے۔ ایک رات کی تیز بارش اس کی دیوار گرا دیتی ہے بستر گیلا کر دیتی ہے راشن خراب کر دیتی ہے۔ 
پھر وہ قرض لے کر مرمت کرتا ہے۔ اگلی بارش تک قرض نہیں اترتا۔

معاشرے کا فرض ہے کہ ہم موسم انجوائے کرنے سے پہلے پڑوسی کا گھر دیکھیں۔

3 اخلاقی پہلو 
اخلاق کا تقاضا ہے کہ تکلیف میں دوسرے کا ہاتھ تھامو۔ 
بارش کے دن اخلاق یہ نہیں کہ آپ نئی گاڑی میں گھومیں۔ اخلاق یہ ہے کہ رکشے والے مزدور گارڈ کا حال پوچھیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا خیر الناس انفعہم للناس بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو نفع دیں۔

اگر آپ کے گھر چھت سلامت ہے تو یہ اللہ کا احسان ہے۔ اس احسان کا شکر یہ ہے کہ کسی بے چھت کا سہارا بنیں۔

4 جذباتی پہلو 
سوچیں رات 2 بجے تیز بارش ہو۔ بجلی گئی ہو۔ 
امیر کا بچہ کمبل میں سو رہا ہے۔ 
اور غریب کی بیٹی ماں کے ساتھ بیٹھی پانی نکال رہی ہے۔ اسے ڈر ہے دیوار گر نہ جائے۔

اس بچے کے دل پر کیا گزرتی ہوگی جب وہ سکول میں سنے گا بارش کتنی اچھی ہے۔ 
اس کے لیے بارش اچھی نہیں خوف ہے۔

5 سماجی پہلو 
حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کچی بستیوں کی نکاسی پختہ مکانات اور ہنگامی ریلیف کا انتظام کریں۔ 
NGOs اور فلاحی تنظیمیں بارش سے پہلے غریب علاقوں میں ترپال راشن اور ادویات کا بندوبست کریں۔ 
محلے کے نوجوان ایک بارش امدادی ٹیم بنا لیں جو گھروں سے پانی کی نکاسی اور متاثرہ گھروں کی مدد کرے۔

میڈیا کو بھی چاہیے کہ بارش کی خوبصورتی دکھانے کے ساتھ غریب کے ٹپکتے گھر بھی دکھائے۔

زیادہ بارش کی دعا 
جب بارش حد سے بڑھ جائے زمین جل تھل ہو جائے مکانات منہدم ہونے لگیں اور راستے بند ہو جائیں تو ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے۔ 
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی حالت میں یہ دعا سکھائی 
اللہم حوالینا ولا علینا اللہم علی رؤوس الظرا ب ومنابت الشجر وبطون الاودیہ وظہور الاکام 
ترجمہ اے اللہ ہمارے اطراف میں برسائیں ہم پر نہیں اے اللہ پہاڑوں اور ٹیلوں پر اور کھیت کھلیانوں اور باغوں میں ندیوں نہروں اور دریاؤں میں برسائیں۔ آمین

عبرت کا مقام 
ہمارے شہر کے معروف شاعر الطاف ضیاء نے کیا خوب کہا ہے 
میں خوش تھا پڑوسی کی ٹپکتی ہوئی چھت پر 
اس بار میرے گھر کی بھی دیوار گری ہے

یہی ہماری اجتماعی بے حسی ہے۔ جب تک مصیبت دوسرے کے گھر ہو ہم تماشائی بنے رہتے ہیں۔ جس دن اپنی دہلیز پر آتی ہے تب آنکھ کھلتی ہے۔ یاد رکھیں آج جس کے گھر پانی ٹپک رہا ہے کل ہماری باری بھی ہو سکتی ہے۔ اس لیے دوسروں کے زخموں پر نمک نہ چھڑکیں مرہم رکھیں۔

ہم کیا کر سکتے ہیں 5 عملی کام 
1 پڑوسی کا خیال بارش سے پہلے آس پاس کے 3 غریب گھروں کا چکر لگائیں۔ 
2 سامان دیں چادریں چھت پر لگانے والی پلاسٹک چھتری کسی ضرورت مند کو دیں۔ 
3 کھانا بارش والے دن اضافی روٹی پکا کر کسی مزدور کو دے دیں۔ 
4 مرمت میں مدد چند لوگ مل کر کسی ایک غریب کا گھر درست کروا دیں۔ صدقہ جاریہ ہے۔ 
5 دعا نماز میں ان سب کے لیے دعا کریں جن کے گھر بارش سے متاثر ہوتے ہیں۔
آخر میں بارش اللہ کی رحمت ہے۔ اس رحمت کو زحمت نہ بننے دیں۔ اگر آپ کے گھر میں بارش کے وقت سکون ہے تو سمجھیں یہ اللہ کا کرم ہے۔ اور کرم کا تقاضا ہے کہ دوسروں پر کرم کریں۔
قیامت کے دن اللہ نہیں پوچھے گا کہ تم نے کتنے موسم انجوائے کیے۔ وہ پوچھے گا جب تیرے پڑوسی کا گھر ٹپک رہا تھا تو نے کیا؟
وما توفیقی الا باللہ 
اللہ ہمیں غریبوں کا درد سمجھنے اور ان کا سہارا بننے کی توفیق دے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔