زندگی ایک سفر ہے - ازقلم: شعیب احمد محمدی۔


زندگی ایک سفر ہے - 
  ازقلم: شعیب احمد محمدی۔

چلتے رہنا ہے مسافر، رکنا نہیں  
منزل پہ پہنچ کر ہی دم لینا ہے  
ہر موڑ پر سبق ہے، ہر پل امتحان  
اس سفر کو آخر تک جینا ہے

1. تمہید: پیدائش سے قبر تک  
زندگی کوئی مقام نہیں، ایک سفر ہے۔ پیدائش پہلا اسٹیشن، قبر آخری اسٹیشن۔ بیچ میں بے شمار موڑ، پہاڑ، وادیاں، دھوپ، چھاؤں۔ کوئی مسافر نہیں جانتا کہ سفر کتنا لمبا ہے۔ کسی کا 20 سال میں ختم، کوئی 90 سال چلتا ہے۔ مگر سب کو چلنا ہے۔ نہ کوئی رُک سکتا ہے، نہ واپس مڑ سکتا ہے۔ وقت کا ٹکٹ ون وے ہے۔ اس لیے عقلمند مسافر وہ ہے جو سامان ہلکا رکھے، راستہ صاف رکھے، اور منزل یاد رکھے۔

2. دینی پہلو: مسافر بن کر رہو  
نبی ﷺ نے فرمایا: دنیا میں ایسے رہو جیسے مسافر یا راہ گیر [بخاری]۔ مسافر کیا کرتا ہے؟ ضرورت کا سامان لیتا ہے، فضول بوجھ نہیں اٹھاتا۔ سرائے میں دل نہیں لگاتا، کیونکہ گھر یاد ہوتا ہے۔ ہماری اصل منزل جنت ہے، دنیا سرائے ہے۔ اللہ فرماتا ہے: وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ [آل عمران: 185]۔ دنیا دھوکے کا سامان ہے۔ جس نے سرائے کو گھر سمجھا، وہ خسارے میں رہا۔ 

قرآن نے بھی یہی سفر سمجھایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلَاقِيهِ، اے انسان، تو اپنے رب کی طرف پلٹنے کے لیے محنت کرتا چلا جا رہا ہے، پھر اس سے مل کر رہے گا [الانشقاق: 6]۔ یعنی ہر سانس ایک قدم ہے، ہر دن منزل قریب کر رہا ہے۔ اس لیے اللہ نے حکم دیا: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ، سامان لے لو، اور سب سے بہترین سامان تقویٰ ہے [البقرہ: 197]۔

3. معاشرتی پہلو: ہم سفر بھول گئے  
آج ہم مسافر نہیں، سیاح بن گئے۔ سیاح کا مقصد گھومنا، کھانا، تصویریں بنانا ہوتا ہے۔ منزل کی فکر نہیں ہوتی۔ ہم بھی نوکری، گاڑی، بنگلہ، شادی، بچے، اسی کو زندگی سمجھ بیٹھے۔ ساتھ چلنے والے مسافروں کو بھول گئے۔ بس میں کوئی بوڑھا کھڑا ہے، ہم سیٹ پر سو رہے ہیں۔ پڑوسی بھوکا ہے، ہم پارٹی کر رہے ہیں۔ یتیم کے سر پر ہاتھ نہیں، مگر اسٹیٹس پر Humanity First لکھ رہے ہیں۔ انسانیت سب سے پہلے کہنا آسان ہے، انسانیت نبھانا مشکل۔ سفر اکیلے کٹتا ہے؟ نہیں۔ قافلے میں برکت ہے۔ مگر ہم نے قافلہ توڑ دیا، ہر کوئی اپنی گاڑی میں اکیلا ہے۔ اسی لیے تھک گئے ہیں۔

4. جذباتی پہلو: تھکن، رونا، گرنا سب جائز ہے  
سفر میں تھکن ہوتی ہے۔ کبھی پاؤں میں چھالے، کبھی دل ٹوٹتا ہے۔ کسی کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے، کوئی دھوکہ دے جاتا ہے۔ رونا آتا ہے۔ آئے گا۔ نبی ﷺ اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر روئے [بخاری]۔ یعقوب علیہ السلام یوسف کے غم میں رو رو کر نابینا ہو گئے [یوسف: 84]۔ رونا کمزوری نہیں، انسانیت ہے۔ مگر رونے کے بعد اٹھنا شرط ہے۔ گرا ہوا مسافر اگر وہیں لیٹا رہے تو قافلہ چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ اور جنگل میں رات ہو جائے تو خطرہ ہے۔ اس لیے غم مناؤ، مگر ماتم نہ بناؤ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہو اور آگے بڑھو۔

سوچو ذرا۔ تم سفر پر ہو۔ اچانک خبر آتی ہے کہ ماں چلی گئی۔ تم دوڑے دوڑے گھر آتے ہو۔ ماں کا چہرہ آخری بار دیکھتے ہو۔ لوگ کہتے ہیں مٹی ڈالو۔ تم مٹی ڈالتے ہو۔ بس۔ سفر ختم، ماں کا اسٹیشن آ گیا۔ کل تمہاری باری ہے۔ تمہارے بیٹے نے تم پر مٹی ڈالنی ہے۔ بتاؤ، اس مٹی کے نیچے 50 لاکھ کی گاڑی جائے گی یا 2 رکعت تہجد؟ یہ سوچ لو۔ کیونکہ مسافر کو ہر لمحہ تیار رہنا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اکثروا ذكر هادم اللذات، موت کو بہت یاد کیا کرو، یہ مزوں کو توڑ دیتی ہے [ترمذی]۔

5. اخلاقی پہلو: زادِ راہ تیار کرو  
ہر سفر میں زادِ راہ چاہیے۔ آخرت کے سفر کا زادِ راہ کیا ہے؟ قرآن نے بتا دیا: وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى [البقرہ: 197]۔ تقویٰ بہترین سامان ہے۔  
4 چیزیں بیگ میں رکھو:  
1. نماز: یہ پانی ہے۔ بغیر پانی کے مسافر مر جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: نماز نور ہے [مسلم]۔  
2. حلال رزق: یہ جوتے ہیں۔ حرام کے جوتے سے پاؤں زخمی ہو جائیں گے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: حرام سے پلا ہوا جسم جنت میں نہیں جائے گا [مسند احمد]۔  
3. والدین کی دعا: یہ سایہ ہے۔ دھوپ میں کام آئے گا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ کی رضا باپ کی رضا میں ہے [ترمذی]۔  
4. اچھا اخلاق: یہ کرنسی ہے۔ ہر ملک میں چلتی ہے، قبر میں بھی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ ہوگا جس کا اخلاق سب سے اچھا ہو [ترمذی]۔  
اور فضول بوجھ نکال دو: حسد، کینہ، جھوٹ، تکبر۔ یہ بیگ بھاری کر دیتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا، جنت میں نہیں جائے گا [مسلم]۔

آخری بات:  
سفر مختصر ہے، مگر امتحان سخت ہے۔ اسٹیشن پر اترنے سے پہلے ٹکٹ چیک ہوگا۔ وہاں ڈگری نہیں، نیت دیکھی جائے گی: عمل کا دارومدار نیت پر ہے [بخاری]۔ بنگلہ نہیں، سجدے گنے جائیں گے۔  
اس لیے چلتے رہو، مگر رکنا مت۔ گرتے رہو، مگر ہمت نہ ہارو۔  
يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ [الفجر: 27-28]  
جب بلاوا آئے تو مسکراتے ہوئے کہو: میں تیار ہوں، یا اللہ۔

حاصلِ کلام:  
زندگی سفر ہے، منزل آخرت ہے  
سامان تقویٰ ہے، ساتھی نیکی ہے  
رُک گئے تو لٹ گئے، چل پڑے تو جیت گئے  
اللہ باقی من کل فانی

اللہ ہمیں اس سفر کو کامیاب کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔

---

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔