سماجی و حساس مسائل پر اظہار خیال اور عوامی شعور بیداری میں شاعرات کا اہم رول - ایوان احمد میں "محفل عصرانہ" برائے خواتین سےپروفیسر اشرف رفیع، فہیم جلیلی ایلزیبتھ مونا کا خطاب۔
حیدرآباد 30- جولائی (پریس نوٹ) پروفیسر اشرف رفیع صاحبہ سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد نے کہا کہ 1968 سے اردو زبان سے متعلق خواتین میں کافی شعور پیدا ہو چکا تھا موجودہ دور میں اردو ہندی کا بہترین امتزاج دیکھنے کو ملا ہے انہوں نے شاعرات کو مبارکباد دی کہ وہ بھی شعرا برادری کے شانہ بشانہ شاعرانہ انداز میں سماج کے مختلف حساس پہلوؤں کو اجاگر کر رہی ہیں شاعرات میں سماجی مسائل ،سماجی بیداری کے علاوہ دیگر مسائل جو وقت اور حالات کے مناسبت سے متعلق ہوتے ہیں ان پر اظہار خیال کا بھی مکمل جذبہ پایا جاتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد شعبہ خواتین کے زیر اہتمام ہفتہ واری محفل میں عصرانہ برائے خواتین کی ساتویں نشست سے مخاطب کرتے ہوئے کیا پروفیسر اشرف رفیع نے مزید کہا کے آج کا دور مختلف مسائل اور چیلنجس سے بھرپور ہے وہی شاعر یا شاعرہ کامیاب کہلائے جانے کے مستحق ہوتے ہیں جو حکومتوں کی زیادتی کے علاوہ نئی نسل کو اپنے ماں باپ ،اساتذہ , ماحول اور اپنے احباب کے ساتھ حسن اخلاق کی تلقین کرتے ہیں موجودہ معاشرہ اس بات کا متقاضی ہے کہ نوجوان نسل بالخصوص لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کردار بھی پیدا کرنے پر ابھارا جائے اور یہ کام شعرا برادری بہترین انداز میں کر رہی ہے انہوں نے خواتین کا مشاعرہ منعقد کرنے پر بانی ایوان احمد پروفیسر مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر اور بیگم مسعود احمد کو دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ خواتین کی محفلیں یوں تو ہوتی رہتی ہیں لیکن پروفیسر مسعود احمد اور بیگم مسعود احمد نے بھی ایوان احمد ملک پیٹ میں خواتین کی نشست مقرر کرتے ہوئے ایک مستحسن اقدام کیا ہے ابتدا میں بیگم مسعود احمد نے تمام شاعرات اور بالخصوص پروفیسر اشرف رفیع صاحبہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ ایوان احمد کی یہ ساتویں نشست بالخصوص شاعرات کے لیے مختص کی گئی ہے ہمارا مقصد یہی ہے کہ نئے لکھنے اور پڑھنے والوں کو ایک مستحکم پلاٹ فارم فراہم کیا جائے انہوں نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی خصوصی دلچسپی کی وجہ سے ایوان احمد ملک پیٹ حیدرآباد میں ہر منگل کو بہ عنوان "محفل عصرانہ " ایک نشست منعقد کی جا رہی ہے جس میں ممتاز شعراء کرام اور ادیب ودیگر معزز اصحاب فکر و نظر شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار اور سماجی و مذہبی اصلاح کی فکر کر رہے ہیں محترمہ فہیم جلیلی نے شاعرات کے لیے اس نشست کے اہتمام پر اپنی دلی مسرت کا اظہار کیا اور پروفیسر مسعود احمد وبیگم مسعود احمد کو دلی مبارکباد دی کولکتہ سے تشریف لانے والی ممتاز و معروف شاعرہ محترمہ شہناز رحمت کا ممتاز وہ معروف ادیبہ محترمہ شبینہ ادیب فرشوری نے تعارف پیش کیا اور ان کے خصائل کو بیان کیامعروف شاعرہ محترمہ صبیحہ تبسم نے منفرد انداز میں نظامت کی گنگا جمنی تہذیب کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سبیتا سونی کے کلام سے محفل کا آغاز ہواپروفیسر اشرف رفیع،شبینہ فرشوری، شہناز رحمت کولکتہ،ایلزیبتھ کورین مونا، ارجمند بانو، آرزو مہک،ثمینہ بیگم، عذراسلطانہ، اوما دیوی نے ادبی و شعری تخلیقات پیش کی کنوینر کے شکریہ پر ساتوی ادبی نشست محفل عصرانہ ،پر تکلف عصرانہ کے ساتھ اختتام کو پہنچی۔
Comments
Post a Comment