میرا دل ایک گلاب ۔ ازقلم : مسرورتمنا۔


میرا دل ایک گلاب ۔ 
ازقلم : مسرورتمنا۔

وہ ریت سے گھروندہ بنا رہی تھی تبھی ایک معصوم بچہ اسکے پاس آیا
کیا آپ مجھے یہ گھروندہ دینگی وہ مسکرای اسکی مسکراھٹ میں کرب تھا
اذیت تھی
لے لو تبھی لہروں نے اس گھر
کو مٹا دیا ندا کا چہرہ فق ہوگیا اس نے پھر ایک گھر
بنایا اور اس بچے کو دے کر
آگے بڑھ گئ
رکو کسی نے پکارا سامنے
ایک خوبرو نوجوان تھا
تم ریت کا گھروندہ دے کر
کسی بچے کو بہلا نہیں سکتی
میں نوید اسی سمندر کے کنارے نہ جانے کب سے شاید  
کافی دنوں سے تمہیں تلاش
کر رہا ہوں آو میرے گھر چلو
نہیں نہیں میں ایک انجان اجنبی کے ساتھ
.... وہ مسکرایا
تم انجان اجنبی نہیں
میں تمہیں جانتا ہوں
ایک رشتہ ہے ہمارا... .    
میرا نام نوید ہے اور میں تمہارا
کزن ہوں چونکہ میری فیملی
تم سب سے الگ تھی ہم لندن 
میں تھے ......   
میں تمہیں کافی دنوں سے تلاش کر رہا ہوں
تم اکیلی رہتی ہو
آج. ملی ہو.. میرے ساتھ میرے گھر چلو
پتہ نہیں اسکی آنکھوں میں کیا تھا وہ سا تھ چلی آی
......................................
ندا نے بچپن سے آپا کو سب کی خدمت میں خوش ہوتے
دیکھا تھا ہارون بھای بہت ہی اکڑ قسم کے تھے آپا انکی بے دام غلام بنی ہر وقت بس خدمت میں مصروف
ندا کو یہ سب بلکل پسند نہ تھا وہ بس پڑھائ کے بہانے
گھر سے بھاگی بھاگی سی رہتی آمی کی بہن بیوہ تھیں
اور ہارون کے ساتھ انہی کے
گھر میں رہتی تھیں ندا کی پھوپھی بھی اپنے اکلوتے بیٹے
آصف کے ساتھ رہتی تھیں 
بہت بڑا خاندان تھا اسکے ابو 
 امی کا. ... امی اور آپا بس مصروف ہی رہتیں. انکو اس طرح خدمت کرتے دیکھ.. ندا کو شادی کے نام سے نفرت ہوگئ .. ..   
ان دنوں اسکی جاب لگ گئ
اور وہ خوشی خوشی سے ممبئ آگئ.  
وہ.بہت خوش تھی اکیلاںپن اسے بھا گیا تھا تنہائ اسکی
چاھت بن چکی تھی
وہ اپنا کام بہت اچھی طرح کرتی بہت مصروف رہتی
آج وہ کیفے میں بیٹھی کافی
پی رہی تھی کیا اتنا سکون اتنی شانتی تھی اس بھرے پرے جواینٹ فیملی میں. ..
...تبھی وہ نوجوان اچانک آیا
کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں
بیٹھ جایں کیوں کے یہاں کچھ میرا نہیں.. وہ ہینڈسم سا نوجوان مسکراتا ہوا بیٹھ گیا
اور تبھی ویٹر کافی لے آیا..   
سر اور کچھ ... نہیں وہ ندا کو دیکھ رہا تھا. بہت اچھی
اور پیاری لڑکی.... وہ اپنا کافی
ختم کر کے جاچکی تھی .
 ..........
وہ احسان تھا کیفے کا آنر
ماں نے شادی کے لیے ہزاروں
لڑکیوں کی تصویر دکھائ
کوی پسند نا آئ
مگر ندا تو دل میں اتر کر چپکے سے محبت کو اواز دے گئ... بہت مشکل سے اس سے 
بات ہوتی تھی کیفے میں روز ملاقات ہوتی تھی
پھر وہ رشتہ لے کر اسکے گھر پہونچ گیا اسکی والدہ امی کی سھیلی نکل آیں واہ بھئ
کیا بات ہے بھرا پرا خاندان
ہے مگر ندا نے کہا مجھے ابھی
شادی نہیں کرنی .. احسان کی شادی اسکی بہن فضاں سے ہوگئ
اور وہ گھر کے ماحول سے بھاگ کر ممبئ آگی
اپنا کمرہ اسے کافی سکون دیتا
وہ اب بھی کافی پینے کیفے
میں جاتی تھی احسان سے ملاقات ہوتی اب وہ انکی سالی تھی ایک پیارا سا
رشتہ...    
اب کافی دنوں سے وہ گھر بھی
نہیں گئ
آج.... فضاں نے گھر پر بلایا تھا.. وہ گھر گئ
دروازہ کھلا تھا احسان فضاں کو اپنے بانہوں میں سمیٹے
کچھ کہ رہا تھا اچانک اسکی نظر ندا پر پڑی تو وہ چونکا
ارے ندا تم آگئ فضاں نے
شرما کر اسے گلے لگایا
بیٹھو میں تمھارے لیے
چایے لے کر آتی ہوں
.. ...............................
کیسی ہو ندا وہ مسکرا کر بولا
میں اچھی ہوں اور آپ جناب
محبت مجھ سے کرتے تھے
شادی ہماری بہن سے کرلی
اور اب انجواے بھری لایف
.. . ندا وہ بولا تم نے انکار کیا تھا. نہیں میں نے کہا تھا
ابھی شادی نہیں کرنی
مگر.. خیر. مجھے یہ ذندگی پسند نہیں غلامی کرتی فضاں کو دیکھو نا بابا میں ایسی ٹھیک ہوں کافی سال اسی طرح گذرگیے... ....وہ ہر
بار انکار کرتی رہی
مگر آمی نے اسکی ایک نا سنی
آج اسکی بارات تھی پھوپھی کا لڑکا آصف جو اسے ہزار جان سے چاھتا تھا آج وہ اسکی ہونے والی تھی
ابو کے ایک بھائ. انڈیا سے باہر تھے. انہیں بھی خبر دی تھی ........... .....آج
ہارون جعفر آصف سب گھر لوٹ رہے تھے 
بعد مغرب ندا ہمیشہ کے لیے انکی ہوجایگی
.................
وہ آپنے خوابوں کی تعبیر دیکھ رہے تھے تبھی انکی جیپ جھٹکے سے اچھلی
اور وہ سنبھل نا پایے انکی
جیپ سامنے آتی لاری سے
ٹکرای اور کھڈ میں جاگری
.. ....................
ہاہا کار مچ گیا ندا کی ہتھیلی سے مہندی کا داغ دھویا نا جاسکا ہارون جعفر توحید احسان.     
کے ساتھ آصف کی بھی
لاش سامنے رکھی تھی
.... .. .. ........
چلی جا منحوس کرم جلی اکیلی رہناچاھتی تھی نا سب کو برباد کردیا...    
اب کبھی اپنی شکل بھی مت دکھانا وہ اپنی روح پر ذخم لیے ذندہ تھی اپنوں سے دور
...................................
ممبئ کی سمندر کے کنارے کبھی کبھی وہ دل کے ہاتھوں
مجبور ہوکر ایک گھروندہ بنا رہی تھی اور تبھی.. .... اچانک اسکی ذندگی میں انقلاب آگیا
.....................................
ندا تم نے کچھ لیا نہیں نوید کی آواز سن کر وہ خیالوں کی دنیا سے لوٹ آی
ندا نوید نے اسکی آنکھوں
میں دیکھا ہم نکاح کرلیں
ہلدی مہندی جیسا تم کہو رسمیں
نہیں نہیں نہیں وہ چینخ پڑ ی
کوی رسم نہیں وہ رورہی تھی
نوید نے اسے آپنے سینے سے لگا
لیا ندا .... میں ابھی اپنے دوستوں کو کہتا ہوں
قاضی صاحب کو لے آے
ندا میرا دل ایک گلاب جسے
تیری قربت نے مہکا دیا 
ندا نے شرما کر انہیں دیکھا

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔