آصف ملاک: مردوں کے مسیحا اور میت کے خیر خواہ! کورونا کی ہولناکی سے لیکر لاوارث لاشوں تک، ہر میت کے سچے ہمدرد، ۳۰ سالوں سے شریوردھن میں بے لوث خدمتِ خلق کی ایک درخشاں مثال۔
شریوردھن، رائے گڑھ۔( اظہر ظہیر الدین کردمے) موجودہ دور میں جہاں انسان مادی فائدہ، مال و دولت اور جائیداد کی ہوس میں اندھا ہو چکا ہے، وہیں شریوردھن سے محض دو کلومیٹر دور ’آراٹھی‘ گاؤں میں ایک ایسی درویش صفت اور نیک دل شخصیت رہائش پذیر ہے جس نے اپنی زندگی کو بے لوث خدمتِ خلق کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں جناب آصف ملاک صاحب کی، جو اپنی سادگی، رحمدلی، ملنساری اور دینداری کی وجہ سے پورے شریوردھن شہر میں انتہائی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں دنیاوی مال و زر کی کوئی لالچ نہیں، وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق پر صابر و شاکر رہ کر ایک باوقار زندگی بسر کر رہے ہیں۔
۳۰ سالہ طویل سفر اور مسلم بزمِ اتحاد و ترقی کا تعاون
جناب آصف ملاک صاحب گزشتہ ۳۰ سال سے زائد عرصے سے (سنہ 1995 سے) ’مسلم بزمِ اتحاد و ترقی شریوردھن‘ کے زیرِ اہتمام میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کا مقدس فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ اس تنظیم کی جانب سے انہیں ماہانہ معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ آصف صاحب کے گھر پر کفن کے کپڑوں سے لے کر آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے درکار تمام ضروری سامان ہمیشہ دستیاب رہتا ہے۔ شریوردھن میں کہیں بھی کسی کا انتقال ہو، سب سے پہلی خبر آصف ملاک کو ملتی ہے۔ وہ نہ صرف فوراً پہنچتے ہیں، بلکہ خود اپنی آواز میں آڈیو کلپ بنا کر واٹس ایپ پر لوڈ کرتے ہیں تاکہ شہر بھر کے لوگوں تک انتقال کی خبر بروقت پہنچ سکے۔
گزشتہ تین دہائیوں میں شریوردھن کا تقریباً ہر متوفی آصف ملاک ہی کے ہاتھوں غسل پاکر اپنی آخری قیام گاہ (قبر) کی طرف روانہ ہوا ہے۔
لاوارث میتوں کے سچے ولی اور سرپرست
آصف ملاک کی انسانیت نوازی کا یہ عالم ہے کہ شریوردھن میں کسی عام یا امیر آدمی کے علاوہ، اگر باہر سے آنے والا کوئی غریب، فقیر یا کوئی لاوارث انسان بھی انتقال کر جائے، تو عوام صرف آصف صاحب کو اطلاع دے کر بے فکر ہو جاتی ہے۔ وہ اس لاوارث میت کے غسل، کفن سے لے کر قبرستان میں تدفین تک کے تمام مراحل میں ہمیشہ پہلی صف میں کھڑے نظر آتے ہیں۔
کورونا کا ہولناک دور اور آصف ملاک کا مجاہدانہ کردار
سال 2020 کا وہ نفسا نفسی کا دور تاریخ کبھی نہیں بھلا سکتی جب کورونا وائرس کی عالمگیر وباء نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ سرکاری سطح پر سخت لاک ڈاؤن، ہسپتالوں میں خوف کا ماحول اور ہر طرف موت کا رقص جاری تھا۔ پرائیویٹ ڈاکٹرز سردی بخار کے مریضوں کو چھونے سے کتراتے تھے اور انہیں سرکاری ہسپتالوں میں ریفر کر دیتے تھے۔ لوگ اپنے سگے رشتہ داروں کی عیادت، جنازوں میں شرکت اور میت کا دیدار کرنے سے بھی خوفزدہ تھے۔
ایسے سرکاری و سماجی بائیکاٹ کے دور میں جہاں خونی رشتے پیچھے ہٹ گئے، وہاں آصف ملاک نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ثابت قدمی دکھائی۔ شریوردھن میں کورونا سے ہونے والی ہر میت کو انہوں نے غسل دیا اور کفن پہنایا۔ یہاں تک کہ جب خوف کے مارے لواحقین میت کو قبر میں اتارنے سے ڈرتے تھے، تب آصف ملاک خود قبر میں اتر کر میت کو لحد میں سجاتے تھے۔ وہ لوگوں کو حوصلہ دیتے ہوئے کہتے تھے:
"ڈرو نہیں، یہ وباء ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، زندگی اور موت صرف رب کے ہاتھ میں ہے، یہ ہمارے ایمان کی آزمائش ہے، اللہ پر بھروسہ رکھو اور خدمتِ خلق کے لیے آگے بڑھو۔"
خدمتِ خلق کی فضیلت اور اخروی وراثتی فائدہ
اسلام میں میت کو غسل و کفن دینے اور تدفین کرنے کی بے پناہ فضیلت ہے۔ احادیث کے مطابق جو شخص کسی میت کو غسل دے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈالے، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یہ ایک ایسی تجارت ہے جس کا فائدہ انسان کو دنیا میں عزت کی صورت میں اور آخرت میں جنت کی ابدی وراثت کی شکل میں ملتا ہے۔ آصف ملاک صاحب نے آج اپنی اس خدمت سے آخرت کا وہ عظیم سرمایہ اکٹھا کر لیا ہے جو ان کی نسلوں کے لیے بھی برکت کا باعث بنے گا۔
شریوردھن کے تمام عوام کی جانب سے اس مردِ مجاہد اور مخلص خادمِ دین کی صحت، تندرستی، سلامتی اور طویل عمر کے لیے کثرت سے دعائیں کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے۔ (آمین)
خراجِ تحسین پیش کرتا ہوا ایک بہترین شعر
تیرے جیسے ہی لوگ ہوتے ہیں دنیا کا وقار
جو انسانیت کی خدمت کو ہی جینا کہتے ہیں
اظہر ظہیر الدین کردمے
شریوردھن ضلع رایگڈھ
Comments
Post a Comment