پونے میں نذیر فتح پوری کی دو نئی کتابوں کی پُروقار رسمِ اجرا - ادبی شخصیات کا خراجِ تحسین، تخلیقی خدمات کا اعتراف۔


پونے: (راست) بزمِ خدمتِ اردو، پونے کے زیرِ اہتمام معروف شاعر، ادیب، نقاد اور مدیرِ رسالہ اسباق نذیر فتح پوری کی دو نئی کتابوں "جوش پونہ میں" اور "منٹو پونہ میں" کی رسمِ اجرا کی ایک باوقار تقریب 12 جولائی 2026 کو اکثر ویل سبھا گرہ، سداشیو پیٹھ، پونے میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں پونے، ممبئی، بھیونڈی اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے اہلِ قلم، ادیبوں، شاعروں اور ادب دوستوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی صدارت مراٹھی ادب کی ممتاز شخصیت اور سابق صدرِ مراٹھی ساہتیہ سمیلن ڈاکٹر بھارت ساسنے نے کی، جبکہ معروف مترجم چندر کانت بھونچال (ممبئی) اور ممتاز ادیب ایم مبین (بھیونڈی) مہمانانِ خصوصی تھے۔ تقریب کے مہمانِ اعزازی خود نذیر فتح پوری تھے۔
اس موقع پر نذیر شناسی اور اردو ادب کی ترویج میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں محترمہ شبانہ رضوان عرب کو نذیر فتح پوری کے ہاتھوں خصوصی اعزاز سے نوازا گیا۔
ادبی نشست میں اختر کاظمی (ممبئی) اور رفیق قاضی (پونے) نے نذیر فتح پوری کی شخصیت اور فن پر جامع اور مدلل مضامین پیش کرتے ہوئے ان کی شعری، تنقیدی اور تحقیقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
محسن رضا ضیائی نے کتاب "منٹو پونہ میں" پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف سعادت حسن منٹو کے فن و فکر کو نئے زاویے سے پیش کرنے کے ساتھ پونے سے ان کے تعلق کو بھی مؤثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔
ایم مبین نے اپنے خطاب میں نذیر فتح پوری سے اپنی دیرینہ وابستگی، محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلسل ادبی ریاضت اور علمی خدمات کے ذریعے اردو ادب میں منفرد اور باوقار مقام حاصل کیا ہے۔
مہمانِ خصوصی چندر کانت بھونچال نے سعادت حسن منٹو کے افسانوں کے مراٹھی تراجم کے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان تراجم نے مراٹھی قارئین کو منٹو کی حقیقت پسندانہ فکر سے روشناس کرانے کے ساتھ ان کے بارے میں پائے جانے والے کئی غلط تصورات بھی دور کیے۔ انہوں نے مختلف زبانوں کے درمیان ادبی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر بھارت ساسنے نے نذیر فتح پوری کو ان کی 120 کتابوں کی اشاعت پر مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تصانیف غیرمعمولی تخلیقی صلاحیت، وسیع مطالعے اور علمی بصیرت کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ اس نوعیت کی تقریبات اردو اور مراٹھی ادبی حلقوں کے درمیان باہمی روابط کو مزید مستحکم کرتی ہیں۔
اپنے خطاب میں نذیر فتح پوری نے منتظمین، مقررین اور شرکائے تقریب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادیب کے لیے سب سے بڑا اعزاز قارئین اور اہلِ علم کی محبت اور پذیرائی ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے پہلے ناول کی رسمِ اجرا کو یاد کرتے ہوئے اپنے اولین استاد، مرحوم دلؔدار ہاشمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا: "اگر دلؔدار ہاشمی نہ ہوتے تو آج نذیر فتح پوری بھی نہ ہوتا۔" انہوں نے اردو ادب کی خدمت کا سفر اسی جذبے اور اخلاص کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
آخر میں بزمِ خدمتِ اردو، پونے کے روحِ رواں عتیق شیخ نے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے آئندہ بھی اسی طرح معیاری ادبی پروگراموں کے انعقاد کے عزم کا اظہار کیا۔
یہ تقریب نہ صرف دو اہم کتابوں کی رسمِ اجرا تھی بلکہ نذیر فتح پوری کی گرانقدر ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور اردو و مراٹھی ادبی حلقوں کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنے کا ایک یادگار موقع بھی ثابت ہوئی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔