بنگلورو چلو - اردو اساتذہ و طلبہ کے حقوق کی مؤثر نمائندگی، نوجوان قیادت کا قومی اعتراف اور شعلہ فاؤنڈیشن کی تعلیمی و سماجی خدمات کا روشن سفر


بنگلورو، 24 جولائی 2026ء (نامہ نگار: رہبر تماپوری) : ریاستِ کرناٹک میں اردو ذریعۂ تعلیم کے استحکام، اردو میڈیم طلبہ و اساتذہ کے حقوق کے تحفظ اور نوجوان قیادت کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے 24 جولائی 2026ء ایک اہم اور یادگار دن ثابت ہوا۔ ریاستی دارالحکومت بنگلورو میں ایک جانب "بنگلورو چلو" مہم کے تحت اردو میڈیم اساتذہ کے امیدواروں اور اردو تعلیم سے وابستہ اہم مسائل پر ریاستی سطح کا ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جبکہ دوسری جانب کرناٹک انتظامی خدمات (کے اے ایس) کے امتحانات میں اردو زبان کو دوبارہ امتحانی زبان کے طور پر بحال کرنے کا مطالبہ بھی بھرپور انداز میں سامنے آیا۔ ان دونوں سرگرمیوں نے اردو برادری کے تعلیمی حقوق، مساوی مواقع اور نوجوان قیادت کے فروغ کے عزم کو مزید مضبوط کیا۔

اردو اساتذہ کے حقوق کے لیے "بنگلورو چلو" مہم

ریاست کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ تعلیم، اساتذہ، سماجی کارکنان، وکلاء اور اردو میڈیم اساتذہ کے امیدوار اس مشاورتی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں اساتذہ کی تقرری کے عمل میں شفافیت، میرٹ کی بالادستی، خالی آسامیوں کی جلد تکمیل، اردو میڈیم امیدواروں کے ساتھ مساوی انصاف اور اردو ذریعۂ تعلیم کے استحکام جیسے اہم موضوعات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اس موقع پر شعلہ فاؤنڈیشن، ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، شاہ پور کے سیکریٹری سید مصباح الرحمٰن شعلہ نے ادارے کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک جامع مطالباتی یادداشت پیش کی۔ یادداشت میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ریاست بھر میں اردو میڈیم اساتذہ کی خالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کیا جائے، تقرری کے عمل میں مکمل شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جائے، اور اردو میڈیم امیدواروں کو دیگر امیدواروں کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ ریاست میں اردو ذریعۂ تعلیم مزید مستحکم اور مؤثر بنایا جا سکے۔

کے اے ایس امتحانات میں اردو زبان کی بحالی کا مطالبہ

اسی روز شمالی کرناٹک کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان اور اردو زبان کے فروغ کے لیے سرگرم افراد پر مشتمل ایک نمائندہ وفد نے صدائے اتحاد کے بانی الحاج مجاہد علی بابا اور سماجی رہنما اشفاق مڑکی کی قیادت میں کرناٹک قانون ساز کونسل کے چیف وہِپ سلیم احمد اور شیواجی نگر کے رکنِ اسمبلی رضوان ارشد سے ملاقات کی۔

وفد نے مطالبہ کیا کہ کرناٹک انتظامی خدمات (کے اے ایس) کے امتحانات میں امیدواروں کو اردو زبان میں سوالات پڑھنے اور جوابات تحریر کرنے کی جو سہولت ماضی میں حاصل تھی، اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔ وفد نے واضح کیا کہ اردو زبان کو امتحانی زبانوں کی فہرست سے خارج کیے جانے کے باعث ہزاروں اردو میڈیم طلبہ شدید تشویش کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ محض ایک زبان کا نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے تعلیمی مستقبل، مساوی مواقع اور آئینی حقوق سے براہِ راست وابستہ ہے۔

چیف وہِپ سلیم احمد نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس مسئلے کو وزیرِ اعلیٰ، نائب وزیرِ اعلیٰ اور متعلقہ حکام کے سامنے مؤثر انداز میں اٹھائیں گے اور اردو زبان کی بحالی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ رکنِ اسمبلی رضوان ارشد نے بھی اردو میڈیم طلبہ کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

ملک کے منتخب چالیس نوجوان قائدین میں سید مصباح الرحمٰن شعلہ کی شمولیت

اسی دوران ایک اور خوش آئند پیش رفت میں آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل نے اپنے قومی قائدانہ منصوبے "چالیس سال سے کم عمر ممتاز قائدین" کے تحت سید مصباح الرحمٰن شعلہ کو ملک بھر سے منتخب کیے گئے چالیس ممتاز نوجوان قائدین میں شامل کیا۔

اس قومی منصوبے کا مقصد ایسے باصلاحیت نوجوان رہنماؤں کی شناخت، تربیت اور حوصلہ افزائی کرنا ہے جو تعلیم، سماجی خدمت، رفاہِ عامہ، تنظیمی قیادت اور معاشرتی اصلاح کے میدان میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہوں۔ ملک بھر سے موصول ہونے والی سینکڑوں درخواستوں کی کثیر مرحلہ جانچ، قائدانہ صلاحیتوں کے جائزے، انٹرویوز اور تربیتی مراحل کے بعد صرف چالیس نوجوان قائدین کا انتخاب عمل میں آیا، جن میں ریاستِ کرناٹک سے سید مصباح الرحمٰن شعلہ کی شمولیت ایک قابلِ فخر اعزاز ہے۔

یہ اعزاز صرف سید مصباح الرحمٰن شعلہ کی انفرادی خدمات کا اعتراف نہیں بلکہ شعلہ فاؤنڈیشن، شاہ پور کی مسلسل تعلیمی، سماجی اور رفاہی خدمات کی قومی سطح پر پذیرائی بھی ہے۔ علمی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے اس کامیابی کو ضلع یادگیر اور ریاستِ کرناٹک کے لیے باعثِ افتخار قرار دیا ہے۔

شعلہ فاؤنڈیشن: تعلیم، خدمت اور سماجی بیداری کا مؤثر ادارہ

شعلہ فاؤنڈیشن، ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، شاہ پور مرحوم الحاج سید فضل الرحمٰن شعلہ کے تعلیمی وژن، سماجی شعور اور خدمتِ خلق کے جذبے کی عملی تعبیر ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے یہ ادارہ ضلع یادگیر اور اطراف کے علاقوں میں تعلیم، سماجی بہبود، نوجوانوں کی کردار سازی اور اردو زبان کے فروغ کے لیے مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔

ادارے کا بنیادی مقصد معیاری تعلیم کو فروغ دینا، تعلیمی بیداری پیدا کرنا، مستحق طلبہ کی معاونت کرنا، اردو زبان و ادب کی ترویج کرنا اور نوجوان نسل میں خدمت، قیادت، اخلاق اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کو پروان چڑھانا ہے۔

شعلہ فاؤنڈیشن ہر سال دسویں جماعت اور قبلِ جامعہ (پی یو سی) کے طلبہ و طالبات کے لیے مفت امتحانی رہنمائی، خصوصی تربیتی نشستوں، تعلیمی و پیشہ ورانہ مشاورت، کیریئر رہنمائی اور شخصیت سازی کے جامع پروگراموں کا انعقاد کرتی ہے۔ ان پروگراموں میں ماہرینِ تعلیم، تجربہ کار اساتذہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ شخصیات طلبہ کی رہنمائی کرتی ہیں تاکہ وہ امتحانات کی بہتر تیاری کر سکیں، اپنی صلاحیتوں کو نکھاریں، خود اعتمادی میں اضافہ کریں اور اپنے روشن تعلیمی و عملی مستقبل کے لیے درست سمت کا انتخاب کر سکیں۔

ادارے کی ایک نمایاں سرگرمی "ٹاپرس اعزازی تقریب" ہے، جس کے ذریعے ہر سال دسویں جماعت اور قبلِ جامعہ (پی یو سی) میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اعزازی اسناد، یادگاری شیلڈز اور تشجیعی انعامات سے نوازا جاتا ہے، تاکہ دیگر طلبہ میں بھی علمی مسابقت، محنت اور اعلیٰ کارکردگی کا جذبہ فروغ پائے۔

اس کے علاوہ فاؤنڈیشن مستحق طلبہ کو درسی کتب، تعلیمی سامان اور دیگر ضروری وسائل فراہم کرتی ہے، والدین میں تعلیمی شعور بیدار کرنے کے لیے آگاہی پروگرام منعقد کرتی ہے، اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے ادبی و ثقافتی تقریبات کا اہتمام کرتی ہے، اور نوجوانوں میں مثبت قیادت، سماجی ذمہ داری اور قومی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے تربیتی، فکری اور اصلاحی نشستوں کا انعقاد بھی کرتی رہتی ہے۔

مختصر مدت میں شعلہ فاؤنڈیشن نے جس اخلاص، نظم و ضبط، مؤثر منصوبہ بندی اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ تعلیمی اور سماجی خدمات انجام دی ہیں، وہ اسے ضلع یادگیر کے ممتاز تعلیمی و رفاہی اداروں میں نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔ قومی سطح پر سید مصباح الرحمٰن شعلہ کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف دراصل اسی مسلسل جدوجہد، عوامی خدمت اور تعلیمی وابستگی کا مظہر ہے۔

"بنگلورو چلو" مہم، کے اے ایس امتحانات میں اردو زبان کی بحالی کی جدوجہد، اردو اساتذہ و طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز، اور آل انڈیا مسلم ڈیولپمنٹ کونسل کی جانب سے سید مصباح الرحمٰن شعلہ کو ملک کے منتخب چالیس ممتاز نوجوان قائدین میں شامل کیا جانا اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ مخلص قیادت، مسلسل محنت، منظم منصوبہ بندی اور خدمتِ خلق کے جذبے سے نہ صرف تعلیمی مسائل کو حکومتی سطح تک مؤثر انداز میں پہنچایا جا سکتا ہے بلکہ قومی سطح پر نمایاں مقام بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

آج شعلہ فاؤنڈیشن، ایجوکیشنل اینڈ چیریٹیبل ٹرسٹ، شاہ پور محض ایک رفاہی ادارہ نہیں بلکہ اردو تعلیم، تعلیمی بیداری، نوجوانوں کی کردار سازی، سماجی خدمت اور مثبت قیادت کی ایک فعال تحریک کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مرحوم الحاج سید فضل الرحمٰن شعلہ کے تعلیمی افکار کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ادارہ نئی نسل کو علم، کردار، خدمت اور قیادت کی راہ پر گامزن کرنے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے، اور اسی تسلسل کی بدولت اس کی خدمات آج مقامی سطح سے نکل کر قومی سطح پر بھی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھی جا رہی ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔