محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم نہ کرنے کا مطالبہ، بیڑ کے ضلع کلکٹر کو محضر پیش - رپورٹ: سید فاروق احمد قادری، بیڑ۔


محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم نہ کرنے کا مطالبہ، بیڑ کے ضلع کلکٹر کو محضر پیش - 
رپورٹ: سید فاروق احمد قادری، بیڑ۔

بیڑ : محمد علی جوہر یونیورسٹی کو منہدم نہ کرنے کے مطالبے پر بیڑ کے سماجی کارکنوں اور شہریوں نے ضلع کلکٹر، بیڑ کو ایک محضر پیش کیا۔ محضر کی نقول وزیرِ اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیرِ داخلہ اور اتر پردیش کے وزیرِ اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے نام بھی روانہ کی گئیں۔ محضر میں کہا گیا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی ایک اہم تعلیمی ادارہ ہے جہاں ہزاروں طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اسے منہدم کرنے کے بجائے محفوظ رکھا جائے تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر کوئی منفی اثر نہ پڑے۔
اس موقع پر مقررین نے کہا:
"مستقبل عمارتیں گرانے سے نہیں بنتا، بلکہ بچوں کو تعلیم دینے سے قوم اور ملک کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔"
محضر پیش کرنے والوں میں سوشیلا مراڑے، سویتا شیٹی، کامریڈ گنیش ڈھوڑے، ڈی۔جی۔ تانڑے، دادا صاحب منڈے، ایڈوکیٹ شفیق بھاؤ، سنجے بھائی، شیخ امیر، نتن، جے بھائی نارائن شندے، اقبال پینٹر، سنگیتا گھوڑکے، الیاس باغوان، نویش شیخ اور دیگر سماجی کارکن و شہری شامل تھے۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کو برقرار رکھتے ہوئے طلبہ کے مفاد اور ملک کے تعلیمی مستقبل کو ترجیح دی جائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔