پرنسپل کی زعفرانی ذہنیت اور سیاسی سماجی قائدین کی عدم توجہی سے اسکول بند ہونے کا امکان،طلباء کا مستقبل خطرے میں،حکام کی توجہ کی ضرورت اولیاء طلباء کا مطالبہ۔
ظہیرآباد یکم/جولائی (نمائندہ) کستوربا گاندھی بالیکا ودھیالیہ اردو میڈیم ہوتی (کے) ظہیرآباد میں براۓ اردو میڈیم اسکول پرنسپل کی زعفرانی سونچ کے چلتے اپنے آخری دور میں داخل ہورہاہے۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ دو دہائیوں سے جاری اردو میڈیم اقامتی اسکول برائے طالبات جہاں مسلم طالبات اپنے روشن مستقبل کے لیے مذکورہ اسکول میں تعلیم کے ساتھ مفت قیام و طعام کی سہولت کے ساتھ بڑا ہی منظم اور کامیابی کے ساتھ اپنے اپنے مستقبل کو سنبھال رہے ہیں۔لیکن گزشتہ دو تین سال سے اسکول پرنسپل کی زعفرانی ذہنیت اور اردو دشمنی کی وجہ سے ہاسٹل میں مطلوبہ تعداد کا مسلئہ پیدا کرتے ہوئے غیر اردو داں طبقہ سےتعلق رکھنے والے طالبات کا داخلہ لیا جا رہا ہے۔ حالانکہ گذشتہ سال بھی اس طرح کی کوشش کی گئی تھی اس وقت اردو اخبارات میں شائع خبر سے اسکول پرنسپل نے خاموشی اختیار کی تھی۔جاریہ سال دوبارہ اپنی ذاعفرانی ذہنیت کو بروۓکار لاتے ہوئے تیزی کے ساتھ تقریباً 20تا25طالبات کا اڈمیشن لیا گیا۔جب یہ اطلاع مقامی مسلم سیاسی قائدین، سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کو دیئے جانے کے باوجود کسی بھی قسم کی کوشش کرنے سے قاصر نظر آرہے ہیں۔جبکہ مذکورہ ادارہ برائے اردو تعلیم مرحوم محمد فرید الدین نے اپنے دور اقتدار میں انتھک کاوشوں کے بعد منظور کیا گیا تاکہ ظہیرآباد واطراف واکناف میں اردو بہ زریعے تعلیم حاصل کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد ہے جس راست فائدہ ہوگا۔اور اس ہاسٹل کے قیام سے اب تک سینکڑوں کی تعداد میں طالبات فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور آج وہی ادارہ اپنی برخواستگی کی طرف رواں ہونے جارہا ہے۔افسوس کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔اولیائے طلباء نے مقامی مسلم سیاسی قائدین، سماجی، ملی تنظیموں کے ذمہ داران سے سخت مطالبہ کیا ہے کہ مسلم طالبات کے نام پر منظور شدہ ادارے کی بحالی کے اقدامات کئے جائیں تاکہ اپنے نو نہالوں کی تعلیمی نظام جاری رہے۔اور ساتھ ساتھ پرنسپل کی تبدیلی نہایت ضروری ہے تاکہ دوبارہ اس طرح کی حرکت کا اعادہ نہ ہونے پاۓ۔۔۔۔
Comments
Post a Comment