تم کو کمزوروں کے سبب رزق دیا جاتا ہے - بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
تم کو کمزوروں کے سبب رزق دیا جاتا ہے -
بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بندہ ہمیشہ اللہ کی نعمتوں اور مہربانیوں سے زندگی کے شب وروز گزارتا ہے انگنت نعمتیں بے شمار برکتیں باری عز اسمہ کی طرف سے بندے پر ہر ان برستی رہتی ہیں انہی میں سے ایک بندے کو رزق دیا جانا ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی عقلمندی دانائی لیاقت صلاحیت اور تعلیم کی بنسبت ہم کھا پی رہے ہیں تو سچ پوچھیے تو یہ ایک دھوکہ سا لگتا ہے بغور جائزہ لیں تو دنیا میں ایسے بہت سارے افراد موجود ہیں جو عقل کے دھنی ہیں اعلی صلاحیتوں کےمالک ہیں لیکن پھر بھی رزق کے مسائل میں ان کا دامن الجھا ہوا ہے سچوں کے سب سے بڑے سچے پیغمبروں کے بڑے پیغمبر ہر خیر کے داعی ہر شر کے ماحی مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس طرح عقدہ کشائی فرمائی ہے
"سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا کہ انہیں مال غنیمت سے ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ حصہ ملنا چاہیے جو شجاعت اور قوت میں ان سے کم ہیں تو رسول رحمت نے ارشاد فرمایا سعد سنو دشمن کے مقابلے میں تمہاری مدد نہیں کی جاتی اور تمہیں رزق نہیں دیا جاتا مگر ان لوگوں کی دعا اور برکت سے جو تم میں کمزور ہیں " اس حدیث سے ظاہر ہو رہا ہے کہ سماج کے گھر کے .معاشرے کے. ضعیف کمزور طبقات کی دعاؤں اور ان کی برکتوں کی وجہ سے قوت و طاقت رکھنے والوں کی نصرت اور امداد کی جاتی ہے انہیں رزق بھی دیا جاتا ہے اسی لیے کمزوروں کو کبھی کمزور اور ضعیف اور حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ہمارے اپنے معاشرے میں اور گھروں میں جو تہذیب پنپ رہی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے محلے اپنے گھرانے اپنے خاندان اور اپنے معاشرے کے معذور مجبور کمزور لاچار بے بس اور نحیف و ناتواں لوگوں کو ہلکی نظر سے دیکھتے ہیں جو سراسر ہمارے اپنے ذہن سوچ اورفکرو خیالات کا فریب ہے ایسے طبقات کی معاشرے میں کوئی اوقات نہیں سمجھی جاتی گھروں میں ان کو حقیر و ذلیل سمجھا جاتا ہے اور صرف ظاہری اسباب کی دنیا میں انہیں تولا جاتا ہے بلکہ سماج ان کمزوروں اور معذوروں کو بوجھ سمجھتا ہے جب کہ حقیقت میں نظام رب العالمین یہ ہے کہ انہی بے بسوں کمزوروں اور معذوروں کی دعا اور ان کی برکت کی وجہ سے باقی گھر والے اللہ تعالی کی مدد پاتے ہیں اللہ کا رزق حاصل کرتے ہیں یہ جو خوش خرم اور مست ہیں ان کی خوشی کا سبب وہی کمزور اور لاچار افراد ہیں کمزوروں میں مریض بوڑھے عورتیں بچے بچیاں اور معذور اشخاص شامل ہے اس لیے یہ سمجھا جائے کہ انہی کی بنیادوں پر ہمارے رزق کے مسائل حل ہو رہے ہیں
امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ حدیث بھی نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دو بھائی تھے ایک بھائی ہنر مند دانا و بینا ہونے کی وجہ سے روزی کماتا تھا اور دوسرا بھائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا رہتا تھا پہلے بھائی نے حضور سے اپنے دوسرے بھائی کی شکایت کی کہ وہ کوئی دھندا نہیں کرتا کوئی کاروبار نہیں کرتااپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا شاید اسی کی وجہ سے تمہیں رزق ملتا ہو امام ترمذی نے حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بھی روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
ابغوني في ضعفائكم فانما ترزقون وتنصرون بضعفائكم
شارحین حدیث نے اس کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ اگر تم مجھے راضی اور خوش رکھنا چاہتے ہو تو کمزوروں اور غریبوں کے ساتھ حسن سلوک کیا کرو اور ان کی دل جوئی کیا کرو اور ان کے حقوق ادا کیا کرو یہ بڑے بابرکت لوگ ہیں اور تم ان کمزوروں کے درمیان مجھے پاؤ گے اور انہی کے سبب تمہاری امداد و نصرت اور تم کو رزق دیا جاتا ہے یہاں اور ایک بات کا اظہار کرتے چلیں کہ یہ جو ہماری اچھی ملازمت ہے اچھی تجارت ہے کھیتی باڑی اچھی طرح پھل پھول رہی ہے کاروبار اچھی طرح چل رہے ہیں اور زندگی پر سکون بی اطمینان گزر رہی ہے تو یہ تصور کریں کہ گھر میں بوڑھے والدین یا کوئی معذور بھائی یا معذور بہن یا اور کوئی فرد کمزور اور معذور ہو تو سمجھنا کہ انہی کی برکتوں سے ہمارا یہ کاروبار پروان چڑھ رہا ہے
Comments
Post a Comment