وہ تاروں کا آنگن - ازقلم : مسرورتمنا۔


وہ تاروں کا آنگن - 
ازقلم : مسرورتمنا۔


پان کھاے سیاں ہمارو
سانولی صورتیا ہونٹ لآل لال
ہاے ہاے ململ کا کرتا
ململ کے کرتے.پے چھینٹ لال لال...   
چندا گارہی تھی اور کچن میں
مصروف تھی
اے ہے میں مری چندا چایے تو پلا.....دادی کی آواز پر وہ بولی  
ابھی لای دادی. ... 
چندا نے دادی کو چاے تھمائ
اچھی چایے نہیں پھیکی ہے
رضیہ میٹھی چاے دیتی تھی
میری بیٹی...
آچھا آماں شوگر بڑھاتی تھی وہ.آپکا....... میں تو پھیکی دونگی ......
اتنی جلدی مرنیے نا دونگی
آخر کو اپنی خدمت کو بلایا
ہے مجھے نانی گھر سے
وہاں تو میں نے کبھی کام نا کیا کھیلی کھای اور پڑھای
اسکے بعد پڑھای کے لیے
علی گڑھ چلی گی........
ہوسٹل میں تو مزے ہی مزے تھے ... نانی کی کال آتی تھی
بیٹا خوب جی.لگا کر پڑھنا
بانو کی یہی خواہش تھی
مگر آماں تم کو جلن ہوگئ
بلالیا مجھے چھٹی پہ
ہاں تو دادی ہوں تیری. ..
آچھا ابھی یاد آی....   
میں تو چلوں میں تو چلوں
جاکر نانی کو کسی کروں
نانی کے گھر جاونگی میوا
ملای کھاونگی... ..    
تم اپنی بیٹی کو بلالینا...    
پھوپوں ہوں تیری...   
دروازے پر آواز آی. ..  
نام لیتی ہے...    
موٹی تازی رضیہ پھوپو اندر آگئ.. ..... ..     
مگر مجھے تو آپکی شکل بھی
یاد نہیں پھر مسکرای بیٹھے پھوپو آپکے لیے آچھی سی چاے لاتی ہوں اور پھر ناشتہ
بناتی ہوں ...     
حاشر بھی آرہا ہے ..... 
کون وہ چونکی میرا بیٹا
وہ کچن میں چلی آی..... 
ناشتہ بناتے وہ سوچ رہی تھی
دادی کا بیمار ہونا اور اسے بلانا پھوپو کا آنا. . ......
بچپن کے دن تو نانی کے آنگن میں گذرے ماموں ممانی نے بھی پیار دیا دادی نے تو منحوس کرم جلی کہ کر نانی کی گود میں ڈال دیا ایسا نجمہ آپا نے بتایا تھا
 اور اب کیوں یاد آی
.. .........................
سب کچھ بھول کر وہ خاطر کرنے لگی نانی آمی نے بہت سارے پھل اور سوکھا شاندار
ڈھیروں ناشتہ دیا تھا
ہاسٹل جاتے وقت
وہ سب ساتھ لای تھی
.............................
ناشتےکی میز پر پوری چپاتی
روٹی آلو مٹر کی سبزی
حاشر بھی آچکا تھا..    
خوب مزے سے کھایا ....  
پھوپو اور حاشر یہاں جم گیے تھے آماں اب میں جاوں
.. ...   
ارے کہاں اب رہ یہاں میری بچی ...   
اس نے دیکھا پھوپو کی آنکھیں چمک اٹھیں .......
آماں آپ ایسا کیوں نہیں کرتیں
پھوپو کے ساتھ انکے گھر چلے جایں رہنے کو .. ... . ...
ارے نہیں بیٹا بیٹی کے گھر کیوں جاوں یہ بھی تو اس کاگھر ہے نا.. ہاں. .....
ہاں آپکی بیٹی تو یہاں برسوں رہی اپنا گھر سمجھ کر پھر
آپکو کیوں چھوڑ گیں اکیلی
اور. آپ نے مجھے بلایا....  
اری کتنا بولتی ہے آماں نانی نے تو اسے بہت تیز کر. دیا بہت تیڑھی ہے......    
میں سیدھا کردونگا حاشر نے ھنس کر کہا. .....  
تم تم کون مجھے سیدھا کرنے والے. ...چندا نے اور تیز ہوکر
کہا .... ...   
دادی نے کہا بیٹا میں نے سوچا ہے تیری شادی.....    
آماں .. آپ میرے بارے سوچنے والی کون ......  
میرے بارے میں فیصلہ خود میں کرونگی ... ...   
بیٹا میں تیری دادی انکی آواز حلق میں آٹک گئ.... ...
آچھا.. بہت خوب وہ پھر سے
کچن میں آی دال چاول بناے
چایے لے کر وہ ابھی بیٹھی تھی.. کے اسکے فون نے رنگ ٹون دی.. ...     
دوسری طرف نانی تھیں
بیٹا چھٹیاں ختم ہونے سے پہلے چلی آنا دل نہیں لگتا
وہ مسکرای. ... .  
امی گاڑی بھیج دو آجاونگی
.................
ارے کہاں جانے کی تیاری
آپنی آمی کے پاس
وہ مسکرای نہیں. ..  
ایسا نہیں کرنا......  
میرے بہت آرمان ہیں
آپ اپنے ارمان برسوں سے تو پورے کر رہی ہیں دادی..... 
آب بھی کریں اپنی بیٹی کے ساتھ رہیں اس وقت تک یہ مکان آپکا بعد میں تو مجھے
یہاں لڑکیوں کے لیے ہاسٹل بنانا ہےمجھے... ..... ...
اور آپ چاہیں تو میرے ساتھ چلیں نانی کے گھر. .... 
وہاں.آپکو محبتیں ملے گی
ہر کوی ساری تلخی بھلا کر
آپکو اپنا لیگا ... ...  
نہیں میری ماں یہاں رہے گی
پھوپو نے جلدی سے کہا
اور تو بھی بہت ہوگی تیری
پڑھای. ..... میں تیرے پر کتر دونگی.. ..... 
اپنے بیٹے سے شادی کرکے .   
آچھا خواب دیکھ لیتی ہو آپ
ویسے کیا دن رات سوتی رہتی
ہو آپ.. یہ گھر میری آمی کا ہے بانو کا آپکا .. آپکی ماں کا نہیں وہ تو دنیا سے چلی گئیں ..... ... شوہر اسے ماں بنا کر کہاں غایب ہوا پتہ نہیں پھر آپ دونوں کے ظلم نے.. ... میری آمی کو.نگل لیا میری نانی مجھے آپنے ساتھ لے گئ. .. .....
آپکو بے گھر نا کیا مگر آپ بے شرم لوگ آنکی آچھای کا فاعدہ اٹھاتے رہے بانو کے گھر
پر عیش کرتے رہے
اب میں بڑی ہوگئ ہوں
سب جان گئ ہوں حاشر آپنی جگہ سے اٹھا اے لڑکی
چل توایسے نہی مانے گی
اس نے آگے بڑھکر ہاتھ پکڑنا چاہا چندا نے ایسا تھپڑ جمایا
کے وہ.نیچے جا گرا. ...  
تبھی باہر کار آکر رکی
نانی اندر داخل ہویں
..........
دادی غصے سے حاشر کو دیکھ رہی تھیں رضیہ تم لوگ یہاں سے جاو... .. ..      
کیونکہ میں اب چندا کے ساتھ جارہی ہوں.. اسکے ساتھ رہونگی.. بہت دکھ دیا میں نے.. .. رابعہ تم بھی مجھے معاف..  
کردو برسوں پہلے تم نے کہا تھا
آپا ننھی چندا کو ہم سب مل کر پالیگے میرے ساتھ چلیں
..................
مگر میں نے کہا تھا میں اپنی بیٹی رضیہ کے ساتھ رہونگی
...........غلط کیا میں نے
پرانی باتیں چھوڑیں آپا
...................
آپ میری بڑی بہن ہیں چندا
کی دادی. چندا سارا ناشتہ
کھانا پھوپو کے لیے چھوڑ دی
اور بولی آپکے لیے کیب بک کردیا ہے سب کھانا لے کر
آپنے گھر جایں
پھوپو جاتے جاتے مکان کو للچائ نظروں سے دیکھ رہی تھیں.. ....
اور دادی جمیلہ کو رابعہ بڑے پیار سے گازی میں بٹھاتے ہوے کہ
رہیں تھیں آپا آپکومیرے ساتھ رہ کر خوشی ملے گی اور میری
بیٹی ... بانو کی روح کو بھی سکون....    
............

اور دادی چھٹی ختم ہوتے میں ہاسٹل جاونگی.    
آمی اس چھٹی میں ہم مہابیلشور چلیں
ہاں میرا بچہ تو آپنے سارے شوق پورے کر ہم سب کی آنکھوں کا تارہ ہے تو
کیوں آپا سچ کہا نا
سچ کہا رابعہ آنکی آنکھیں بھیگ گیی مگر میں اب سمجھی بڑھاپے میں ... 
آپ... دادی کاہے کی بوڑھی
ایسا لوشن لگا دونگی.....
آپ تیس سال کی جوان بن جاینگی. .. .  
ہاں بیٹا تم سب کی.محبتیں
خوشیاں جو تم سے ملینگی
آپا دو گھنٹے میں جوان ہو جاینگی اور کہینگی
ابھی میری عمر ہی کیا ہے
رابعہ تم بھی نا دادی جمیلہ شر ماگئ.... . . ..
اور چندا کھلکھلا کر ھنس
پڑی... 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔