نئی منزل کی تلاش - از قلم: رہبر تماپوری۔


 نئی منزل کی تلاش - 
از قلم: رہبر تماپوری۔

زندگی ایک مسلسل سفر ہے، اور اس سفر کی خوبصورتی اس بات میں نہیں کہ انسان کتنی جلدی منزل تک پہنچتا ہے، بلکہ اس میں ہے کہ وہ راستے کی آزمائشوں، مشکلات اور تغیرات کا سامنا کس حوصلے، صبر اور بصیرت کے ساتھ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر منزل، ایک نئی منزل کی ابتدا ہوتی ہے۔ اگر انسان ایک مقام پر رک جائے تو اس کی ترقی کا سفر بھی وہیں تھم جاتا ہے۔ اس لیے زندگی کا اصل حسن مسلسل آگے بڑھنے، سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے میں ہے۔
نئی منزل کی تلاش کا مطلب صرف دنیاوی کامیابی حاصل کرنا نہیں، بلکہ اپنے کردار، علم، اخلاق اور روحانی زندگی کو بھی بلند کرنا ہے۔ انسان جب اپنے اندر مثبت تبدیلی پیدا کرتا ہے تو اس کے لیے کامیابی کے نئے راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ منزلیں قسمت کے سہارے نہیں ملتیں، بلکہ عزم، مسلسل محنت، مثبت سوچ اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسا رکھنے والوں کو نصیب ہوتی ہیں۔
جب کبھی انسان مشکلات میں گھِر جائے، راستے دھندلے دکھائی دیں اور امید کی کرن مدھم پڑنے لگے، تو اسے چاہیے کہ کائنات کے مظاہر پر غور کرے۔ نیلگوں آسمان، چمکتے ہوئے ستارے، روشن چاند، بلند و بالا پہاڑ، بہتے ہوئے دریا اور فضاؤں میں محوِ پرواز پرندے اس حقیقت کی گواہی دیتے ہیں کہ اس کائنات کا ہر ذرہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ نظام کے تحت حرکت میں ہے۔ جس رب نے پہاڑوں کو استقامت، دریاؤں کو روانی، پرندوں کو پرواز اور رات کو سکون عطا کیا، وہی رب انسان کو بھی مشکلات سے نکلنے اور نئی منزل تک پہنچنے کی طاقت عطا کرتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنی امید کا دامن نہ چھوڑے اور اپنے رب پر کامل یقین رکھے۔
زندگی کی سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی مشکلات نہیں ہوتیں، بلکہ وہ منفی خیالات ہوتے ہیں جو انسان اپنے ذہن میں پال لیتا ہے۔ ماضی کی ناکامیاں، مستقبل کا خوف، دوسروں سے بے جا موازنہ، حسد اور مایوسی انسان کی رفتار کو سست کر دیتے ہیں۔ کامیاب انسان وہی ہے جو ہر روز اپنا احتساب کرے۔ آئینہ ہمیشہ ہمیں ہمارا اپنا چہرہ دکھاتا ہے، کسی دوسرے کا نہیں۔ اسی طرح انسان کو بھی دوسروں کی کمزوریاں تلاش کرنے کے بجائے اپنے اعمال، اپنی نیت اور اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کے ظاہر اور باطن دونوں سے پوری طرح باخبر ہے۔
سفر ہمیشہ ہلکے سامان کے ساتھ آسان ہوتا ہے۔ اگر مسافر غیر ضروری بوجھ اٹھا لے تو چند قدم چلنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی اصول زندگی پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ حسد، نفرت، غرور، مایوسی اور منفی سوچ ایسے بوجھ ہیں جو انسان کو اپنی منزل سے دور کر دیتے ہیں، جبکہ ایمان، صبر، شکر، حسنِ اخلاق اور مثبت فکر وہ سرمایہ ہیں جو ہر مشکل راستے کو آسان بنا دیتے ہیں۔ نئی منزل کی تلاش سے پہلے اپنے دل کو پاک، اپنی نیت کو خالص اور اپنے ارادے کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
اسی بلند حوصلے، مسلسل جدوجہد اور آگے بڑھنے کے جذبے کو علامہ محمد اقبالؒ نے نہایت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی کی کوئی آخری منزل نہیں ہوتی۔ ہر کامیابی کے بعد ایک نئی ذمہ داری، ہر منزل کے بعد ایک نیا سفر اور ہر سفر کے بعد ایک نئی آزمائش انسان کا انتظار کرتی ہے۔ اس لیے انسان کو کبھی اپنی کامیابی پر رکنا نہیں چاہیے، بلکہ علم، کردار، خدمتِ انسانیت اور قربِ الٰہی کی نئی منزلوں کی تلاش جاری رکھنی چاہیے۔
نئی منزل کی تلاش دراصل اپنے آپ کو پہچاننے، اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، اپنے کردار کو سنوارنے اور اپنی صلاحیتوں کو انسانیت کی بھلائی کے لیے وقف کرنے کا نام ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر کامل توکل، مثبت سوچ، مسلسل محنت اور مضبوط ارادے کے ساتھ سفر جاری رکھتا ہے، اس کے لیے ہر مشکل راستہ آسان ہو جاتا ہے اور ہر نئی منزل ایک نئے آغاز کی نوید بن جاتی ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کا حقیقی مقصد صرف منزل تک پہنچنا نہیں، بلکہ اس سفر میں خود کو ایک بہتر انسان بنانا ہے۔ جب انسان اپنے دل کو ایمان سے، اپنے ذہن کو مثبت سوچ سے اور اپنے کردار کو اچھے اعمال سے آراستہ کر لیتا ہے، تو منزلیں خود اس کا استقبال کرتی ہیں۔ یقین، استقامت اور اخلاص کے ساتھ جاری رہنے والا سفر ہی انسان کو دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی سے ہم کنار کرتا ہے۔

— از قلم: رہبر تماپوری

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔