"ڈاکٹر ہارون بشیر ٣٦ سالہ تعلیمی خدمات کی سبکدوشی ایک مدرس ایسا بھی ایک عہد ساز دور اور نۓ تعلیمی افق کا آغاز بھی “
جلگاؤں (سعید پٹیل) آج ترقی یافتہ دور میں جہاں دنیا نے ایک گاؤں کی صورت اختیار کرلی وہیں اخلاقی قدروں کی بحالی میں اگر سماج کو گر کسی سے امید و یاس باقی ہے تو وہ صرف اور استاد ہی ہے بتاریخ ٣١ می کو ایسے ہی ایک ہر دلعزیز استاد اقرا اردو ہای اسکول و جونیئر کالج کے پرنسپل ڈاکٹر ہارون بشیر کی سبکدوشی یقینا ایک عہد ساز شخصیت کے عہد زرین کا سدباب و نیے عہد کا آغاز ٹہری موصوف ١٩٩٠ ( ساکلی )سے درس و تدریس سے وابستہ ہوے بعد ازاں آپ منظر عام پر اہلیان جلگاؤں کے اس وقت نمودار ہوے جب اقرا ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کے ادارے اقرا اردو ہای اسکول پرتاپ نگر میں ١٩٩٢ میں بحثیت صدر مدرس آپ کا تقرر عمل میں آیا اور یہیں سے اہلیان جلگاؤں نے ایک مضبوط نظم و ضبط کے صدر مدرس کے عہد ذرین کی ابتدا دیکھی وقت کے ساتھ ساتھ اپنے تبدیلیوں کے رجحان پر عمل در آمد کرتے ہوے ڈاکٹر ہارون بشیر نے انگریزی مضمون میں ضلعی سطح پر بطور تربیت کار کے ڈایڈ سے اپنی ذات کو جوڑا جس میں آپ کی گرانقدر خدمات کے عوض ٢٠٠٠ سن میں صدر ضلع پریشد کے ہاتھوں بہترین معلم کے ایوارڈ سے سرفراز ہوے بعد میں یہ ایوارڈ آپ کی بے لوث خدمات کے مبدلے میں مسلسل تین مرتبہ نامزد قرار پائے لیکن چوتھی مرتبہ آپ نے نیے چہروں کو مواقع فراہم کرنے کے جزبے سے لینے سے معذرت چاہی ڈاکٹر ہارون بشیر کی تعلیمی و تدریسی خدمات کو تحریر میں لانا گویا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے وہ بے شمار اعزازات کی طویل فہرست جو جلگاؤں پنچایت کمیٹی سے پونا ایس سی آر ٹی، نیز ایم ایس سی آر ٹی آی دہلی کے دہانے تک جا پہنچتی ہے بعد ازاں قومی سطح کے مثالی معلم کے ایوارڈ سے عزت مآب صدر جمہوریہ آنجہانی پرنب مکھرجی کے ہاتھوں٢٠١٢ میں آپ کو نوازا گیا موصوف نے اپنے ادارے سے وابستگی کو ہمیشہ اپنے لیے باعث فخر گردانا ٢٠٠٠١ میں ریاستی سطح پر بہترین تعلیمی سوسائٹی کے ایوارڈ کی معلومات میں ان کا کلیدی رول رہا وہیں اساتذہ و اداروں کے مسایل سلجھانے میں بھی آپ پیش پیش رہے و انتیظامیہ مدرسین کے ہمراہ مصالحت کرانے میں جلگاؤں ضلعی سطح پر آپ کا بڑا ہی کلیدی کردار رہا اپنے معاونین ہوں یا شناسا جس کسی نے تعلیمی حلقوں میں مدد کی گہار کی ان کے مدد کے لیے آپ بڑ چڑھ کر پہل کیے ان میں تدریسی و غیر تدریسی عملے کے ایپرول یا ملازمت میں در پیش مسایل ان کے تدارک میں آپ کا بنیادی کردار رہا بحیثیت ایک دیہی نوجوان کے تقلیدی کرداروں پر اگر نظر ڈالیں تو انہیں اپنے استاد محترم ڈاکٹر محمود صدیقی سے بڑی گہری انسیت رہی جلگاؤں ایم جے کالج کے پروفیسر سبرمنیم راو، ضلع پریشد جلگاؤں کے آفیسر نیلکنڈ گایکواڈ ، نتن کالج کے پروفیسر آر ٹی باوسکر جیسی شخصیات آپ کی شخصیت پر گہری نقوش چھوڑے گئے وہیں جلگاؤں تعلیمی و سیاسی قیادتِ کی بر سبیل ڈاکٹر عبدالکریم سالار کی سحر انگیز شخصیت کے موصوف ہمیشہ دلدادہ و بطور رول ماڈل عمل پیرا رہے آنجہانی مرحوم اشفاق احمد صاحب ( امیر حلقہ جماعت اسلامی ہنداورنگ آباد) و مولوی عثمان اشاعتی ( خطیب و امیر امام جامع مسجد جلگاؤں) کے نقوش پا کی رہبری آپ کی زندگی کے سنہری یادوں کا انمول اثاثہ کہلای اقرا ایجوکیشن سوسائٹی جلگاؤں کی تعلیمی اکائیوں کی مختلف زمروں کی ترقی میں آپ کا تعاون و مدد جسم میں روح کے مترادف رہا سوسائٹی کے خلاف ہونے والی قانونی چارہ جوی کے سدباب و تدارک میں بھی موصوف نے ہمہ تن گوش پیش رفت کی ڈاکٹر ہارون بشیر کی اس کامیاب تعلیمی سفر کی سبکدوشی پر چہار سمتوں سے ان عزیزوں و شاگردوں کی جانب سے مبارکبادی کے پیام کا سلسلۂ ہنوز جاری و ساری ہے موصوف کو ان کی بیش بہا خدمات کے عوض ان کے ادارے اقرا اردو ہائی اسکول سالار نگر کی جانب سے بتاریخ ٢٥ جولائی ٢٠٢٦ء کو الوداعی پروگرام منعقد ہوگا۔
Comments
Post a Comment