مارے گھٹنا پھوٹے سر - بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
مارے گھٹنا پھوٹے سر -
بقلم : محمد ناظم ملی، جامعہ اکلکواں۔
غیر شریفانہ کردار میں سے تملقیت اور چاپلوسی یہ بھی بڑا گھناونا اور غیر شریفانہ فعل ہے درحقیقت چاپلوسی ادمی کو حق سننے سے بہرا حق بولنے سے گونگا حق دیکھنے سے اندھا کر دیتی ہے چاپلوس ادمی صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط بولنے سے گھبراتا ہے کہ اس کے اندر کی طمع لالچ اس کے اندر خوف و دہشت پیدا کر دیتی ہے اس کو مستقبل کے خدشات پریشان کرنے لگتے ہیں اس کے اندر وہ لالچ طمع؛ بزدلی بے راہ روی اور بے دلی کو جنم دیتی ہے اور اگر یہ ترقی کر جائے اور ہوس کا چولا پہن لے تو پھر یہ ادمی کو اندھا کر دیتی ہے کسی بڑے کا قول ہے کہ "اقتدار کی ہوس ادمی کو اندھا کر دیتی ہے"ہوس چاہے پھر مال کی ہو یا عہدے کی پھر وہ بندہ اپنی ہوس کو پورا کرنے کے لیے نہ رشتے ناتوں کا خیال کرتا ہے نا ہی دوستی و رفاقت کو خاطر میں لاتا ہے شریعت مطہرہ میں ایسے غیر شریفانہ کردار و اخلاق کی جا بجا مذمت فرمائی گئی ہے اور اس سے بچنے کا تاکیدی حکم فرمایا گیا ہے ۔ جب ہم سماج اور معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمارے معاشرے میں نااتفاقی اور پھوٹ؛ توڑ جوڑ ؛اور مسلمانوں کو متحد نہ ہونے دینے والے جو اسباب ہیں ان میں یہ سبب سب سے زیادہ کار فرما نظر اتا ہے
خدا بچائے بڑا سنگ دل زمانہ ہے
ادمی اپنی جھوٹی انا اور ہوس کی بے جا تکمیل میں کیا کیا کر گزرتا ہے
کتابوں میں ایک بڑا دلچسپ واقعہ درج ہے"ایک نواب صاحب تھے ان کے یہاں کچھ مہمان اگئے مہمانوں کے ساتھ کھانا پینا اٹھنا بیٹھنا چل رہا تھا نواب صاحب نے اپنے کچھ قدیم دوستوں اور رفقاء کو بھی مدعو کر رکھا تھا ۔ انتظامات جب پورے ہو گئے اور دسترخوان پر جب سب تناول طعام مصروف تھے تب ہر ایک دوست اور اشنا اپنی اپنی بڑائی ہانکنے لگا ۔ باتیں چل رہی تھیں اور جھوٹ کا دور دورہ ہو رہا تھا اسی درمیان نواب صاحب نے ایک ایسی بات کہی جو شاید ناممکنات میں سے ہو وہ کہنے لگے کہ میں اپنے خادم کے ساتھ شکار پر نکلا میری نظر ایک ہرن پر پڑی تو میں نے اس کو اپنے نشانے پر لے لیا اور جو تیر ماری تو وہ تیر اس کے سر کو توڑ کر کھری کو پھاڑتے ہوئے نکل گیا (معلوم ہو کہ کھری جانور کے پیر کے ناخنوں والا حصہ ہوتا ہے) یہ بات محفل میں کسی ثاقب ذہن حق پرست اور دانا شخص کو ہضم نہ ہوئی اس نے سر محفل نواب صاحب پر اعتراض کیا اور کہنے لگا صاحب ہرن کا سر اوپر ہوتا ہے اور اس کی کھری نیچے ہوتی ہے اپ کا تیر سر اور کھری دونوں کو بیک وقت کیسے زخمی کر سکتا ہے؟بات تو صحیح تھی اس سوال پر نواب صاحب چونک گئے سہم گئے کوئی جواب ان سے نہ بن پڑا خفت کے اثار ان کے چہرے پر نمایاں تھے کہ ان کے خادم محترم نے ان کی لاج رکھ لی کہنے لگا اور نواب صاحب کی طرف سے جواب دینا شروع کیا ارے صاحب اپ نہیں جانتے میں وہاں موجود تھا اور نواب صاحب نے جو کہا بالکل حقیقت پر مبنی ہے کہ جب نواب صاحب نے ہرن پر تیر چلائی میں اس وقت ہرن پر پوری طرح نظر جمائے ہوئے تھا جب تیر "نواب صاحب کی طرف سے نکلا اور ہرن کو لگا اس وقت( ہرن اپنی کھری سے سر کھجلا رہا تھا) اسی وقت نواب صاحب کا تیر نکل کر ہرن کو جا لگا اور سر پھاڑتے ہوئے کھری توڑ کر باہر نکل گیا" خادم کی طرف سے یہ جواب لاجواب سن کر نواب صاحب بھی حیرت میں پڑ گئے کہ اس وقت میری بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے خادم نے ایسی بات کہی جو میری سمجھ سے بھی بالاتر ہے اسی کو کہتے ہیں تملقیت چاپلوسی اور اج کی لغت میں" ہاں میں ہاں ملانا"اور اس رویے نے امت کے اتحاد اور اتفاق کو پارہ پارہ کر دیا اس مزاج نے امت میں جھوٹ کھسوٹ کذب بیانی ظلم نا انصافی عدل و معدلت اور بد اخلاقی کو فروغ دیا ہے شریفانہ مزاج کو بدل کر رکھ دیا ہے
یہ واقعہ ہے کہ خوشامد اور چاپلوس قسم کے درباریوں نے ہمیشہ نوابوں اور شاہوں کو خوش کرنے کے لیے ان کے ہر جائز و ناجائز حق و ناحق صحیح و غلط باتوں پر ہاں میں ہاں ملا کر اپنی تو عاقبت برباد کی ہی ہے ان شاہوں کا بیڑا بھی غرق کیا ہے تاریخ اپنے جلو میں ایسے کئی واقعات لیے ہوئے ہیں فاعتبروا يا اولي الابصار
اور اسی وقت سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی
"مارے گھٹنا پھوٹے سر"
Comments
Post a Comment