طلاق دینے کا صحیح اور غلط طریقہ- ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی ۔ سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
طلاق دینے کا صحیح اور غلط طریقہ-
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی ۔ سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ
ہر مسلمان طلاق کے بارے میں سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اس حدیث کو زندگی بھر یاد رکھے- فرمایا (أبغض الحلال عند الله الطلاق - اللہ تعالیٰ نے جن جن چیزوں کو حلال کہا ہے ان میں سب سے زیادہ ناپسند طلاق ہے) اس وجہ سے طلاق کسی شوھر کا پہلا عمل نہیں بلکہ آخری عمل ہے- بدقسمتی سے اکثر مسلمان اس کو پہلا عمل بنائے ہوئے ہیں-
دوسری بات: طلاق کی دو قسمیں ہیں - ایک طلاق سنی اور دوسری طلاق بدعت- شریعت نے طلاق دینے کا جو طریقہ بتایا ہے اس طرح کرنے کو طلاق سنی یعنی سنت کے مطابق کہتے ہیں اور اس طریقہ کو چھوڑ کر من مانی طریقہ سے طلاق دینے کو طلاق بدعت کہتے ہیں- چاروں اماموں کے نزدیک طلاق دونوں صورتوں میں پڑ جاتی ہے مگر سنت طریقہ پر نہ دینے کا گناہ ضرور ہوگا -
اہم اور انتہائی ضروری بات یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں طلاق بدعت یعنی غلط طریقہ سے طلاق دینے کو تفصیل سے بتایا گیا ہے - لیکن جب ہر مسلمان یہی طے کر لے کہ اسے زندگی بھر صرف قرآن پڑھنا ہے اور معنی و مطلب سمجھنا ہی نہیں ہے تو بھلا وہ کوئی بھی کام اسلامی طریقہ پر کیسے کر سکے گا-
آئیے پہلے طلاق بدعت کو سمجھتے ہیں اور اگلی قسط میں طلاق سنت کو سمجھنے کی کو شش کریں گے - مگر میری نصیحت ہر مسلمان کو یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کو زندگی بھر نہ یہ طلاق دے اور نہ وہ- کیونکہ ہر شوھر اور بیوی دونوں انسان ہیں اور ہر انسان سے کہیں نہ کہیں کچھ غلط ہو ہی جاتا ہے-
پانچواں پارہ سورہ نساء آیت نمبر 34, 35 میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( مرد عورتوں کے ذمہ دار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض پر فوقیت دی ہےاور اس لئے بھی کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں- تو نیک عورتیں اللہ اور اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہیں اور جس چیز کو اللہ نے ان کے جسم میں محفوظ رکھا ہے وہ شوھر کے غائبانہ میں ( عقلمند کے لئے اشارہ کافی ہے) اس کی حفاظت کرتی ہیں - اور جس عورت سے تمہیں نافرمانی کا ڈر ہو تو اس کو سمجھاؤ اور بستر پر ساتھ میں سونا چھوڑ دو اور انہیں ہلکا پھلکا مارو-پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کرنے لگیں تو پہر اس پر ظلم کا راستہ مت تلاش کرو- بلا شبہ اللہ تعالیٰ بہت بلند اور بھت بڑا ہے-
اور اگر تمہیں , میاں بیوی میں لڑائی بڑھ جانے کا خوف ہو تو ایک انصاف کرنے والا مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک انصاف کرنے والا عورت کے رشتہ داروں میں سے بھیجو - اگر یہ دونوں صلح کرنا چاھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دونوں کو اس کی توفیق دے دے گا- بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہی بھر پور علم اور ساری خبر رکھتا ہے )-
طلاق بدعت کا پہلا غلط طریقہ یہ ہے کہ بیوی کو سمجھانے ، ساتھ میں سونا چھوڑ دینے اور ہلکا پھلکا مارنے ، پھر دونوں طرف سے کسی انصاف کرنے والے کے ساتھ نہ بیٹھا جائے نہ ہی دونوں ضد اور ہٹ دھرمی میں صلح نہ کریں اور مرد اس سب کے بغیر اچانک طلاق دے دے-
طلاق دینے کا دوسرا سب سے غلط طریقہ یہ ہے کہ مرد طلاق دینے سے پہلے عورت کی پاک یا ناپاک حالت کا خیال نہ رکھے اور اس کو اس کی ناپاکی کی حالت میں طلاق دے دے-
طلاق دینے کا تیسرا غلط طریقہ یہ ہے کہ عورت کی پاکی کی حالت میں صحبت کی جائے اور اسی پاکی کی حالت میں طلاق بھی دے دی جائے -
سب سے زیادہ غلط طریقہ یہ ہے کہ ایک وقت میں ایک طلاق نہ دے بلکہ ایک ساتھ دو یا تین طلاق دے دے-
انڈیا بنگلہ دیش اور پاکستان کے مسلمانوں کی جہالت کا حال یہ ہے کہ وہ طلاق دینے کو تین دفعہ بولنا ضروری سمجھتے ہیں اور تین دفعہ طلاق کا لفظ بول دیتے ہیں - بد قسمتی سے ہمارے علماء اور مفتیان کرام ان سے بھی بڑھ کر نادان ہیں جو محض تین کا لفظ سنتے ہی تین طلاق کا فتویٰ جاری کر دیتے ہیں اور اس طرح مسلم خاندان برباد ہو رہے ہیں -
میری دبی کورٹ کی 25 سال کی سروس میں ایسے کئی کیسس میرے سامنے پیش ہوئے اور ان تینوں ممالک کے اس کیس سے متعلق مردوں سے میں نے پوچھا آپ نے تین دفعہ طلاق کا لفظ کیوں کہا دو یا چار دفعہ کیوں نہیں کہا؟ ان کا جواب تھا کیونکہ تین دفعہ طلاق کا لفظ بولنا ضروری ہے ورنہ طلاق نہیں پڑتی- اس پر میں نے پوچھا یہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ ان کا جواب تھا معاشرہ میں سب یہی کہتے ہیں -
علماء کرام بتائیں کہ کیا ایسے شخص نے اپنے ارادہ یا اپنی نیت سے تیں دفعہ ایک ساتھ طلاق دی؟ یہ واضح ہو گیا کہ اس کی ایک ساتھ تین طلاق دینے کی نیت نہیں تھی اور حدیث شریف میں صاف کہا گیا ہے إنما الاعمال بالنیات ، ہر عمل کے ہونے یا نہ ہونے کا اعتبار شریعت میں نیت ہونے پر ہے - لہذا تین دفعہ لفظ طلاق بولنےکے باوجودصرف ایک طلاق پڑے گی اور اسی پر عرب ممالک میں عمل ہوتا ہے-
ایک حدیث میں ارشاد ہے (إدرؤا الحدود بالشبھات۔ اگر شبہ ہو جائے تو شرعی حد کو نافذ مت کرو) - شریعت میں شرعی سزا کا درجہ ، انفرادی طلاق نافذ کرنے سے کہیں زیادہ بڑا ہے - تو جب شبہ کی وجہ سے شرعی سزا نافذ کرنے سے منع کیا گیا ہے تو نیت نہ ہونے کی وجہ سے تین طلاق کا فتویٰ نہ دے کر ایک طلاق کا فتویٰ دینا ہوگا - اللہ ہم سب کو صحیح راستہ دکھائے اور عمل کی توفیق عطا فرمائے-
Comments
Post a Comment