غزل - ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
غزل -
ازقلم : مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
کسی پَہ وار کروں مَیں یہ میری شان نہیں.
مری زباں تو زباں ہے کوئی کمان نہیں.
برا جو سُن سکیں ایسے تو میرے کان نہیں.
برا کہوں گی مَیں؟ ایسی مری زبان نہیں.
تمہارے حسن کی تعریف کیا کرے کوئی.
"زباں میں آنکھ نہیں آنکھ میں زبان نہیں"
مَیں ان کے نقش قدم پر چلوں تو کیسے چلوں.
نکل گئے ہیں وہ آگے کوئی نشان نہیں.
سمارٹ فون کی لَت لگ گئی ہے بچوں کو.
پڑھائی میں تو ذرا سا بھی ان کا دھیان نہیں
.
ہمارے ملک کی پیاری ہیں سب زبانیں مگر.
ہماری اردو سی شیریں کوئی زبان نہیں.
وظیفہ یاب ہوئی ہے تُو جب سے اے مہروؔ.
وہ پہلے جیسی تری کچھ بھی آن بان نہیں.
مہرالنّساء مہروؔ بیجاپور کرناٹک۔
Comments
Post a Comment