جب انسانیت شرما جائے - ازقلم : رہبر تماپوری۔
جب انسانیت شرما جائے -
ازقلم : رہبر تماپوری۔
انسان جب اپنذی اصل پہچان یعنی انسانیت سے دور ہو جاتا ہے تو اس کا وجود خود ایک سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔ شرم، حیا اور احساس وہ بنیادی اوصاف ہیں جو انسان اور غیر انسان کے درمیان ایک واضح حدِ فاصل قائم رکھتے ہیں۔ جب یہی اوصاف ماند پڑ جائیں تو انسان کا ہر عمل اس کی انسانیت پر ایک گہرا زخم بن جاتا ہے، اور یہی زخم معاشرے کے چہرے پر ایک مستقل داغ چھوڑ دیتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ انسان نے مادی ترقی کی اندھی دوڑ میں اخلاقی اقدار کو فراموش کر دیا ہے، جو اسے اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرتی ہیں۔
شرم محض ایک لفظ نہیں بلکہ ضمیر کی وہ بیدار آواز ہے جو انسان کو اچھائی اور برائی میں فرق سکھاتی ہے۔ یہ وہ اندرونی احساس ہے جو انسان کو ظلم، زیادتی اور ناانصافی کے سامنے ڈھال بننے پر مجبور کرتا ہے۔ جب یہ آواز خاموش ہو جائے تو انسان اپنی اخلاقی حدود سے تجاوز کرنے لگتا ہے اور خود کو ہر اصول و قانون سے بالاتر سمجھ بیٹھتا ہے۔ آج کا سب سے بڑا فکری بحران یہی ہے کہ انسان نے اپنی انا کو اتنا بلند کر لیا ہے کہ دوسروں کے حقوق اور جذبات اس کی نظر سے اوجھل ہو چکے ہیں۔
جب انسان کے اندر "میں" کا زہر سرایت کر جائے تو وہ خود کو کائنات کا محور سمجھنے لگتا ہے۔ یہی "میں" کی سوچ آہستہ آہستہ ظلم کو جنم دیتی ہے، اور ظلم ایک مستقل سماجی رویہ بن جاتا ہے۔ جب کوئی طاقتور اپنے زعم و تکبر میں کسی کمزور کا حق پامال کرتا ہے تو معاشرے میں مظلوم وجود میں آتا ہے۔ مظلوم کی آہ و بکا انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ضرور ہے، مگر طاقت، مفادات اور بے حسی کی دنیا اکثر اس چیخ کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسانیت اپنی بے حسی پر شرمندگی محسوس کرتی ہے۔
اگر آج کے عالمی اور مقامی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو ہر طرف بے چینی، جنگیں، تنازعات اور ناانصافی کے دلخراش مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ انسان خود کو باوقار ثابت کرنے کی دوڑ میں دوسروں کو بے وقعت بنا رہا ہے، حالانکہ حقیقی وقار عدل، انصاف اور حسنِ اخلاق سے حاصل ہوتا ہے۔ ظلم ہمیشہ ذلت اور رسوائی کا سبب بنتا ہے، چاہے وہ وقتی طور پر کتنا ہی طاقتور کیوں نہ دکھائی دے۔
انسان جب آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا ہے تو اسے صرف اپنا ظاہری چہرہ نظر آتا ہے، مگر اصل آئینہ اس کا زندہ ضمیر ہوتا ہے۔ اگر ضمیر بیدار ہو تو انسان خود احتسابی کی طرف مائل ہوتا ہے، اور اگر ضمیر مردہ ہو جائے تو وہی انسان انسانیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ ہر عمل کا حساب ہونا ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی انسان کو اپنے ہر قول و فعل کا جواب دینا ہوگا۔ ظلم چاہے کتنا ہی چھپ جائے، مظلوم کی آہ اپنا اثر ضرور دکھاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے، یعنی انصاف کا نظام دیر سے سہی مگر ضرور قائم ہوتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ دعائیں تقدیر بدل دیتی ہیں۔ جب ایک مظلوم دل کی گہرائیوں سے اپنے رب کو پکارتا ہے تو اس کی فریاد رائیگاں نہیں جاتی۔ ظالم اپنی طاقت کے گھمنڈ میں یہ سمجھتا ہے کہ وہ ہمیشہ غالب رہے گا، مگر حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے کے سامنے کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ ظالم جتنا بھی طاقتور ہو، ایک دن اسے اس ذاتِ باری تعالیٰ کے سامنے ضرور جھکنا ہے، جہاں نہ اس کی طاقت کام آئے گی اور نہ ہی اس کا غرور۔
آج کا سب سے بڑا فکری بحران یہی "میں" کی سوچ ہے جو انسان کو اجتماعیت سے دور کر دیتی ہے۔ جب یہ سوچ طاقت کے ساتھ مل جائے تو ظلم کی نئی شکلیں جنم لیتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنی انا کو قابو میں رکھے اور خود احتسابی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے۔ جب انسان اپنے عمل کے آئینے میں اپنی اصلاح کا جائزہ لینے لگتا ہے تو اس کے اندر نرمی، عدل اور انسانیت دوبارہ پیدا ہونے لگتی ہے۔
اسلام نے ہمیں مساوات اور عدل کا عالمگیر درس دیا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ یہ وہ آفاقی اصول ہے جو اگر ہم اپنی زندگیوں میں نافذ کر لیں تو معاشرے سے نفرت، تعصب اور ظلم کا خاتمہ یقینی ہو جاتا ہے۔
آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب انسان اپنی انا کے اندھیروں میں گم ہو جاتا ہے تو انسانیت خود اپنے وجود پر سوالیہ نشان بن جاتی ہے، اور جب انسان اپنی اصلاح کی روشنی اختیار کر لیتا ہے تو یہی انسانیت دوبارہ وقار، توازن اور عظمت کے ساتھ سر اٹھا لیتی ہے۔
رہبر تماپوری
Comments
Post a Comment