ایمان، اتحاد، قانون کی پاسداری اور تعلیم ہی موجودہ حالات میں مسلمانوں کی اصل طاقت , صدر جمعیۃ علماء بیدر کا بیان۔


بیدر، یکم جولائی (نامہ نگار): جمعیۃ علماء بیدر کے صدر مولانا محمد تصدق ندوی نے اپنے ایک اہم بیان میں مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں کسی بھی قسم کے خوف، مایوسی، ذہنی انتشار اور افواہوں کا شکار نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھتے ہوئے ایمان و استقامت کے ساتھ زندگی گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان کا ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ صرف اللہ رب العزت سے ڈرے، کیونکہ نفع و نقصان، عزت و ذلت اور زندگی و موت کا حقیقی اختیار صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ دنیا کی کوئی طاقت اس شخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی جس کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو۔
مولانا محمد تصدق ندوی نے کہا کہ موجودہ حالات میں مختلف قسم کی افواہیں اور غیر مصدقہ اطلاعات عوام میں پھیلائی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے بالخصوص مسلمانوں میں بے چینی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صبر، تحمل اور حکمت کا دامن تھامے رکھے اور کسی بھی خبر پر یقین کرنے سے قبل اس کی اچھی طرح تحقیق کرلیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ہمیں گھبراہٹ نہیں بلکہ صبر، استقامت اور اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کی تعلیم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے تمام قانونی اور سرکاری دستاویزات کی حفاظت کریں، ضرورت پڑنے پر متعلقہ محکموں سے رجوع کریں اور آئینی و قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق کا دفاع کریں۔ اسباب اختیار کرنا سنت نبویؐ ہے، لیکن ایک مومن کا بھروسہ صرف کاغذات پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے، جو تمام اسباب کا پیدا کرنے والا ہے۔
صدر جمعیۃ علماء بیدر نے قرآن کریم کی آیات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مایوس ہونے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ "نہ تم کمزور پڑو اور نہ غم کرو، اگر تم مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔" انہوں نے کہا کہ اس آیت میں کامیابی کی بنیادی شرط ایمان ہے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں، نماز کی پابندی کریں، اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کریں اور اپنے اخلاق و کردار کو اسلامی تعلیمات کے مطابق سنواریں۔
مولانا محمد تصدق ندوی نے کہا کہ آج امت مسلمہ کو باہمی اتحاد، اخوت اور تنظیم کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے۔ اختلافات اور انتشار سے بچتے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، خیر خواہی اور بھائی چارے کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کی دینی اور عصری تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے تاکہ وہ شعور، اعتماد اور ذمہ داری کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلمان اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی اور قانونی راستہ اختیار کریں، لیکن کسی بھی حال میں صبر، امن، قانون کی پابندی اور ملکی سالمیت کو ملحوظ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام امن، عدل اور انسانیت کی تعلیم دیتا ہے، اس لیے ہر مسلمان کو اپنے بہترین اخلاق اور کردار کے ذریعے معاشرے میں مثبت مثال قائم کرنی چاہیے۔
آخر میں مولانا محمد تصدق ندوی نے تمام مسلمانوں سے دعا، استغفار، ذکر الٰہی اور اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آزمائشیں ہمیشہ عارضی ہوتی ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ رہتی ہے۔ اگر مسلمان اپنے ایمان، اعمال، اتحاد اور کردار کو مضبوط بنائیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت ضرور شامل حال ہوگی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ملک میں امن و امان، بھائی چارے اور انصاف کا ماحول قائم فرمائے اور تمام شہریوں کو خیر و عافیت کے ساتھ زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔