مرد کی ذمہ داری اور عورت کا حجاب - ازقلم : مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔


مرد کی ذمہ داری اور عورت کا حجاب - 
ازقلم : مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔ 
M A M Ed     
8904317986

قوامیت اختیار نہیں، ایک عظیم ذمہ داری ہے
اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ
“مرد عورتوں کے نگہبان اور ذمہ دار ہیں۔”
(سورۃ النساء: 34)
قوامیت کا مطلب یہ نہیں کہ مرد عورت پر ظلم کرے، اسے دبائے یا ہر معاملے میں اپنی مرضی مسلط کرے؛ بلکہ قوامیت کا مطلب ذمہ داری، حفاظت، نگرانی، خیر خواہی اور جواب دہی ہے۔
اسی لیے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
“اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔”
(سورۃ التحریم: 6)
غور کیجیے! اللہ تعالیٰ نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ، بلکہ اپنے گھر والوں کو بھی بچانے کا حکم دیا۔ اس لیے ایک باپ، بھائی اور شوہر اپنی دینی ذمہ داری سے یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہو سکتا کہ:
“یہ اس کی اپنی زندگی ہے، وہ جو چاہے کرے!”
جب اسکول یا کالج کا کوئی پروگرام ہو، شادی کی تقریب ہو یا کوئی دوسری تقریب، تو گھر کی بیٹیاں، بہنیں اور بیویاں کس لباس میں گھر سے نکل رہی ہیں، اس ماحول میں جا رہی ہیں اور شریعت کی حدود کا کتنا خیال رکھا جا رہا ہے—یہ سب معاملات ایک مسلمان مرد کی ذمہ داری اور فکر کا حصہ ہونے چاہییں۔
اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے مردوں کو حکم دیا:

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ
“ایمان والے مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔”
(سورۃ النور: 30)
اس کے بعد مؤمن عورتوں کو بھی حیا اور پردے کا حکم دیا:
وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ... وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ
“اور وہ اپنی زینت ظاہر نہ کریں... اور اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں۔”
(سورۃ النور: 31)
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے حیا کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں ڈالی؛ مرد کو بھی اپنی نگاہ، کردار اور لباس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ لہٰذا مرد کو اپنی اصلاح کے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی خیر خواہی کرنی چاہیے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑ کر بتاتی ہے کہ باپ، بھائی اور شوہر صرف گھر کے اخراجات کے ذمہ دار نہیں، بلکہ اپنے گھر والوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں۔
لیکن یہاں ایک بات سمجھنا بھی ضروری ہے: اسلامی ذمہ داری کا مطلب بدسلوکی، تشدد، گالی گلوچ یا زبردستی نہیں ہے۔ ایک مرد کو اپنی بیٹی، بہن یا بیوی کو محبت، حکمت، نرمی اور اچھے اخلاق کے ساتھ سمجھانا چاہیے۔ خود بھی دین پر عمل کرے، کیونکہ صرف حکم دینا کافی نہیں؛ کردار سے مثال بننا بھی ضروری ہے۔
افسوس یہ ہے کہ بعض مرد دنیاوی معاملات میں اپنی عورتوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں۔ مہنگے لباس، زیورات اور فیشن کے لیے خوشی سے خرچ کرتے ہیں، لیکن جب حجاب، حیا اور اسلامی لباس کی بات آتی ہے تو خاموش ہو جاتے ہیں۔
کبھی وہ خود اپنی بیٹی، بہن یا بیوی کو گھر سے ایسے لباس میں رخصت کرتے ہیں جو اسلامی حیا کے تقاضوں کے خلاف ہوتا ہے، اور پھر بھی خود کو ذمہ دار اور غیرت مند سمجھتے ہیں۔
تو سوال یہ ہے: مرد کی غیرت اور قوامیت کا معیار کیا ہے؟
کیا صرف یہ کہ وہ اپنی عورتوں کو دنیا کی نظروں سے بچائے؟
یا یہ بھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بچانے کی فکر کرے؟
حقیقی قوامیت یہ ہے کہ:
- مرد خود بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہو۔
- اپنی نگاہوں اور کردار کی حفاظت کرے۔
- اپنے گھر والوں کو دین اور حیا کی تعلیم دے۔
- غلطی پر محبت اور حکمت سے سمجھائے۔
- دنیاوی خوشی کے لیے شریعت کے احکام کو قربان نہ کرے۔
- اپنی بیٹی، بہن اور بیوی کی عزت و حیا کو فیشن اور معاشرتی دباؤ سے زیادہ اہم سمجھے۔
مرد کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جس گھر کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اس کے سپرد کی ہے، اس گھر کے بارے میں ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب بھی دینا ہوگا۔
دنیا کی محفلیں چند گھنٹوں کی ہیں، لوگوں کی باتیں چند دن کی ہیں، فیشن چند مہینوں کا ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہمیشہ کے لیے ہے۔
لہٰذا ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے:
کیا ہم اپنی بیٹیوں، بہنوں اور بیویوں کو صرف دنیا کی نظروں سے بچا رہے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے بھی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
یہی حقیقی ذمہ داری ہے، یہی حقیقی خیر خواہی ہے، اور یہی قوامیت کا اصل تقاضا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔