بحرالعلوم ڈاکٹر راہی فدائی: "اعتراف" کی صورت میں ادبی دنیا کو ایک گراں قدر تحفہ۔


بنگلور (راست) ہندوستانی اردو منچ بنگلورکے زیرِ اہتمام شاعر، ادیب و محقق ڈاکٹر راہی فدائی پر قاضی اسد ثنائی کی مرتب کردہ مضامین کے مجموعے "اعتراف" کی رسمِ رونمائی جناب مقبول احمد سراج کی صدارت میں نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ منعقد ہوئی۔
کتاب کی اجراء کے موقع پر تین تبصرے پیش کیے گئے۔ شہرِ بنگلور کے معروف ماہرِ قانون و کالم نگار ایڈووکیٹ ایوب احمد خان نے "اعتراف" پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ایک یادگاری کتاب نہیں بلکہ ایک ایسی ادبی دستاویز ہے جو ڈاکٹر راہی فدائی کی علمی عظمت، ادبی بصیرت اور انسانی اوصاف کو محفوظ کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کتاب ان کے علمی سرمائے اور ادبی ورثے کا شایانِ شان اعتراف ہے، اور اردو ادب سے وابستہ ہر طالب علم، محقق، استاد اور ادب دوست کے لیے نہایت مفید و قابلِ مطالعہ تصنیف ہے۔ یہ ڈاکٹر راہی فدائی کی علمی، ادبی اور انسانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے والی ایک معیاری، مستند اور یادگار تصنیف ہے، جو اردو ادب کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہوگی۔
محقق و ادیب مولانا ڈاکٹر بشیر الحق نے فرمایا کہ ڈاکٹر راہی فدائی پر مضامین کا یہ مجموعہ شائع کر کے مرتب قاضی اسد ثنائی نے ادبی دنیا کو ایک عظیم تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہی صاحب کو بچپن ہی سے شعر و شاعری اور علم و ادب کی طرف رغبت رہی ہے۔
جناب جمیل احمد ملنسارؔ نے کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "اعتراف" ادبی دنیا میں ایک بامعنی دستاویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاشبہ "اعتراف" ان کتابوں میں شامل ہے جو صرف پڑھی نہیں جاتیں بلکہ بار بار رجوع کی دعوت دیتی ہیں۔ یہ تصنیف ڈاکٹر راہی فدائی کی خدمات کا اعتراف بھی ہے، اردو ادب کی تنقیدی روایت میں ایک قابلِ قدر اضافہ بھی، اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک مستند حوالہ بھی۔
اپنے صدارتی خطاب میں انگریزی روزنامہ "نیوز ٹرائل" کے مدیر جناب مقبول احمد سراج نے کہا کہ ڈاکٹر راہی فدائی کے ساتھ اپنے دہائیوں پر مشتمل تعلقات سے انہوں نے جانا کہ راہی صاحب بحرالعلوم ہیں، اور ان کی تحریروں سے انہوں نے کئی گتھیاں سلجھائیں۔ انہوں نے موجودہ نسل کی زبانِ اردو سے دوری پر بھی اظہارِ افسوس کیا۔
اس موقع پر ڈاکٹر راہی فدائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ میدانِ تحقیق میں افراد کا فقدان تشویشناک ہے، اور اردو کے ارباب تحقیق سے اپیل کی کہ وہ ادب کی تحقیق کے میدان میں اپنی مہارت کا ثبوت دیں۔
اس موقع پر وظیفہ یاب کے۔ اے۔ ایس افسر ڈاکٹر آر عبدالحمید نے راہی صاحب کے لیے اپنی لکھی ہوئی تہنیتی نظم پڑھ کر سنائی۔ پروفیسر محمد عمری، جناب صادق علی البیان اور دیگر شرکاء نے بھی راہی صاحب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جناب ندیم فاروقی نے اس تقریب کی نظامت بخوبی انجام دی۔
اس محفل کی رونق میں حضرت مولانا قاری امتیاز احمد رشادی (ویلور)، مولانا کلیم اللہ رشادی (کڈپہ)، قاضی کڈپہ مولانا بشیر احمد، مولانا سعید احمد، مولانا عبدالغفور باقوی (کینگیری) اور ڈاکٹر ماہر منصور کی موجودگی نے بھی اضافہ کیا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔