عربی مدارس کے طلبہ عصری تعلیم بھی حاصل کر کے اپنا مستقبل روشن بنائیں
نندیال، آندھرا پردیش: (راست) نندیال ڈسٹرکٹ آندھرا پردیش اوپن اسکول کے *کوآرڈینیٹر رگھو رامی ریڈی* کی صدارت میں آج ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر کے کانفرنس ہال میں عربی مدارس کے ناظمین کے لیے "اوپن اسکول سے کیسے استفادہ کریں" کے عنوان پر ایک فہمائشی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔
اس موقع پر ڈپٹی ایجوکیشنل آفیسر شنکر پرساد صاحب نے اپنے خطاب میں عربی مدارس کے ناظمین کو تلقین کی کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کو عصری تعلیم بھی دی جائے۔ تاکہ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ اپنا کردار بہتر بنائیں اور عصری تعلیم کے ذریعے اپنا مستقبل روشن کر سکیں۔
اوپن اسکول کے کوآرڈینیٹر رگھو رامی ریڈی اور ڈپٹی انسپکٹر آف اردو رینج حامد الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اوپن اسکول سے جماعت دہم کے لیے جو طلبہ اپنی ذاتی رقم سے فیس ادا کریں گے، 4 ماہ بعد وہ فیس کی رقم *ل"فیس ری ایمبَرسمنٹ" کے طور پر واپس کر دی جائے گی۔
لہٰذا مدارس کے ناظمین سے گزارش کی گئی کہ وہ بڑی تعداد میں بچوں کو اوپن اسکول کے ذریعے تعلیم دلوائیں۔
سابق اردو مانیٹرنگ آفیسر نے بھی اپنے بیان میں اوپن اسکول کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ان طلبہ کی مثالیں دیں جنہوں نے اوپن اسکول سے تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سرکاری تدریسی پیشے سے وابستہ ہوئے۔
اس اجلاس میں میونسپل ہائی اسکول کی صدر معلمہ اور مختلف عربی مدارس کے ناظمین و طلبہ نے شرکت کی۔
-
Comments
Post a Comment