نمازی بھی، حاجی بھی… مگر حقوق العباد میں پیچھے! ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
نمازی بھی، حاجی بھی… مگر حقوق العباد میں پیچھے!
ازقلم : عالمہ مبین پالیگار، بیلگام کرناٹک۔
M A M Ed
8904317986
"خدا سے دیکھو کتنا ڈر رہا ہوں،
تیجوری اور جیب دونوں بھر رہا ہوں۔
پڑوسی میرا بھوکا ہے آج تیسرا دن ہے،
چوتھی مرتبہ میں حج اور عمرہ کر رہا ہوں۔"
یہ اشعار ہمارے معاشرے کی ایک بہت بڑی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ آج بہت سے لوگ نماز کے پابند ہیں، حج اور عمرہ بھی کرتے ہیں، صدقات بھی دیتے ہیں، لیکن افسوس کہ حقوق العباد کی ادائیگی میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔
قرآن مجید میں بہت سی قوموں کی تباہی کا ذکر ہے، لیکن کہیں یہ نہیں ملتا کہ کوئی قوم صرف نماز نہ پڑھنے یا روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے ہلاک ہوئی ہو، بلکہ ظلم، ناانصافی، رشوت، حق تلفی، کم تولنا، دوسروں کے حقوق غصب کرنا اور کمزوروں پر ظلم کرنا ان کی تباہی کا سبب بنا۔
اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ بندوں کے حقوق کی حفاظت بھی دین کا اہم حصہ ہے۔ ایک شخص اگر راتوں کو تہجد پڑھتا ہو، بار بار حج اور عمرے کرتا ہو، لیکن اس کی زبان سے لوگ محفوظ نہ ہوں، اس کے پڑوسی بھوکے ہوں، اس کے ملازمین ظلم کا شکار ہوں، اس نے کسی کا حق دبایا ہو یا کسی کا دل دکھایا ہو، تو اس کی عبادات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتیں جب تک وہ بندوں کے حقوق ادا نہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جس شخص نے اپنے بھائی پر کسی قسم کا ظلم کیا ہو، چاہے عزت میں یا مال میں، تو آج ہی اس سے معاف کرالے، اس دن سے پہلے جب نہ دینار ہوں گے اور نہ درہم۔ اگر اس کے پاس نیکیاں ہوں گی تو اس کے مظالم کے بدلے لے لی جائیں گی، اور اگر نیکیاں نہ ہوں گی تو مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔"
(صحیح بخاری: 2449)
قیامت کے دن ایک بندہ اللہ کے سامنے نیکیوں کا ڈھیر لے کر حاضر ہوگا۔ اس کی نمازیں، روزے، صدقات اور حج سب اس کے سامنے رکھے جائیں گے، لیکن پھر ایک ایک کرکے لوگ کھڑے ہوں گے:
یا اللہ! اس نے مجھے گالی دی تھی۔
یا اللہ! اس نے میرا حق مارا تھا۔
یا اللہ! اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا۔
یا اللہ! اس نے میرے ساتھ ناانصافی کی تھی۔
پھر اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں ان مظلوموں میں تقسیم کرنا شروع فرما دیں گے۔ جب نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس کے نامۂ اعمال میں ڈال دیے جائیں گے، اور وہ شخص جسے دنیا میں بڑا نیک سمجھا جاتا تھا، خسارے میں چلا جائے گا۔ یہی وہ شخص ہے جسے حدیث میں "مفلس" کہا گیا ہے۔
اس لیے ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:
کیا ہمارے والدین ہم سے راضی ہیں؟
کیا ہمارے رشتہ دار ہم سے خوش ہیں؟
کیا ہمارے پڑوسی ہمارے شر سے محفوظ ہیں؟
کیا ہم کسی کا حق تو نہیں کھا رہے؟
کیا ہماری تجارت، ملازمت اور معاملات انصاف پر قائم ہیں؟
اللہ تعالیٰ صرف یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہم نے کتنی نمازیں پڑھیں اور کتنے حج کیے، بلکہ یہ بھی پوچھیں گے کہ ہم نے بندوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا؟
آئیے عہد کریں کہ ہم عبادات کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی بھی حفاظت کریں گے، کیونکہ اللہ اپنے حقوق تو معاف فرما سکتا ہے، لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے۔
"نماز، روزہ، حج اور عمرہ اپنی جگہ، لیکن اگر بندوں کے حقوق پامال کیے جائیں تو نیکیوں کا سرمایہ بھی انسان کو نجات نہیں دے سکتا۔"
Comments
Post a Comment