کتا ب ”مدرسہ ء محمودگاواں بیدر“(عوامی ادب اور لو ک گیتوں کے تناظر میں) مصنف:۔ ڈاکٹر آرعبدالحمید - تبصرہ:۔ محمدیوسف رحیم بیدری
کتا ب ”مدرسہ ء محمودگاواں بیدر“(عوامی ادب اور لو ک گیتوں کے تناظر میں)
مصنف:۔ ڈاکٹر آرعبدالحمید -
تبصرہ:۔ محمدیوسف رحیم بیدری
موبائل:9845628595
ڈاکٹر آرعبدالحمید کئی ایک کتابوں کے مصنف ہونے کے علاوہ دکنی اوراردوزبان کے لوک گیتوں کے محقق کے طورپربھی اپناتعارف رکھتے ہیں۔ بنگلورجیسے آئی ٹی بی ٹی شہر کے نوجوان(اب بزرگ) باشندے نے اردو اور دکنی لوک گیتوں کی تحقیق کے لئے بہمنی سلاطین کے صدر مقام محمدآباد بیدر شریف کاغالباً نوے کی دہائی میں دورہ کیاتھا۔ عہدشباب میں کی گئی وہ تحقیق آج ”مدرسہ ء محمودگاواں بیدر“(عوامی ادب اور لو ک گیتوں کے تناظر میں) کے عنوان سے منظر عام پر آئی ہے۔ 70معیاری بشمول 8رنگین صفحات پر مشتمل یہ کتاب عز م اکادمی بنگلورکی یادگارسیریز11ہے۔ جس کے بارے میں کئی ایک زبانوں کے معیاری مترجم، شاعروادیب ڈاکٹر ماہر منصور نے لکھاہے کہ ”یہ کتابچہ متعلقہ تاریخی، تہذیبی اور علمی معلومات سے لبریز ہے۔ اس کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اس دور کے عوامی گیتوں، دکنی تہذیب وثقافت اور مقامی روایات کی ایسی مؤثر جھلکیاں پیش کی گئی ہیں جو قاری کے دل ودماغ کو روشن اور ماضی کے ایک درخشاں عہدسے روشناس کردیتی ہیں“ (صفحہ 7)
اردو ڈرامہ نگار، اورہدایت کارجناب ظفرمحی الدین نے بیدر میں چندر شیکھر کمبار کا لکھاکنڑا ڈرامہ ”محمودگاوان“اردو زبان میں اسٹیج کیا۔ وہ اپنے ثقافتی طائفہ کے ساتھ بیدر پہنچے تو انھوں نے اکٹرآرعبدالحمید کی اس کتاب کے اردو اورانگریزی ورژن کی رسم اجراء شاہین ادارہ جات کے پلیٹ فارم پر انجام دی، جہاں ڈاکٹر عبدالقدیر چیرمین شاہین ادارہ جات، جناب ظفرمحی الدین، ڈاکٹرماہر منصور اور خود ڈاکٹر آرعبدالحمید، ممتاز مؤرخ عبدالصمدبھارتی اوردیگرافراد موجودتھے۔
ڈاکٹر آرعبدالحمید نے اپنی اس کتاب کے بارے میں لکھاہے کہ ”زیر نظر کتابچے میں مدرسہ محمودگاوان کا مختصر تعارف عوامی ادب اور لوک گیت کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ قارئین اس تاریخی یادگار کے علمی، تہذیبی اور ثقافتی پہلوؤں سے واقف ہوسکیں“(صفحہ 15) اس کتاب کا باب اول ”خواجہ محمودگاواں:ایک تعارف“ کے عنوان سے ہے۔ باب دوم ”بہمنی سلطنت کا علمی پس منظر“ ہے۔ باب سوم ”مدرسہ محمودگاواں کی تعمیر اور خصوصیات“باب چہارم ”مدرسہ محمودگاواں کاتعلیمی نظام اور علمی خدمات“ ہے۔ باب پنجم ”عوامی ادب:مفہوم، روایت اور اہمیت“ ہے۔ باب ششم ”دکن میں لوک گیتوں کی روایت اور ورثہ“، باب ہفتم ”لوک گیتوں میں محمودگاواں کاتذکرہ“باب ہشتم ”عوامی روایتوں اور لوک داستانوں میں مدرسہ محمودگاواں“ باب نہم ”محمودگاواں کی شہادت اور عوامی احساسات“باب دہم ”موجودہ دور میں مدرسہ محمودگاواں کی اہمیت اور عوامی ورثے کاتحفظ“ہے۔ اختتامیہ بھی رکھاگیاہے۔ ڈاکٹر آرعبدالحمید کے مطابق ”عوامی ورثے اور مدرسہ محمودگاواں سے وابستہ تہذیبی سرمایہ کے تحفظ کے لیے درج ذیل اقدامات مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔ لوک گیتوں اور عوامی روایتوں کی دستاویز بندی، دکنی زبان وادب پر تحقیقی منصوبوں کافروغ، تاریخی یادگاروں سے متعلق عوامی شعور کی بیداری، مدارس، کالجوں اور جامعات میں مطالعاتی پروگراموں کاانعقاد، ثقافتی سیمینار، نمائشوں اور ادبی نشستوں کااہتمام، نوجوان نسل کو مقامی تاریخ اور تہذیبی وثرے سے روشناس کرانا، زبانی تاریخ (Oral History) کے منصوبوں کی حوصلہ افزائی اور عوامی ادب اور لوک ثقافت کے ڈیجیٹل ذخائر کی تیاری ضروری ہے(صفحہ 60اور 61)۔
سوال یہ ہے کہ یہ کام کون کرے؟ ممکنہ جواب یہ ہے کہ مدرسہ محمودگاواں آثارقدیمہ کے تحت ہے۔ مرکزی حکومت کا یہ محکمہ اس کی دیکھ بھال کرتاہے۔ لہٰذا اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ مدرسہ محمودگاواں کاتحفظ کرے۔ ویسے دیکھ بھال ہورہی ہے لیکن اس مدرسہ کی واجبی تشہیر تک نہیں ہوتی جس کاافسوس ہے۔ دوسرے مرحلہ میں یہ ذمہ داری پورے ملک اور بیرون ملک میں پھیلے ہوئے محقق اور مؤرخ حضرات کی ہے کہ وہ مدرسہ محمودگاوان کے تحفظ کے لئے اپنی تحریروں اور اپنی تقاریر کے ذریعہ آگے آئیں۔
تیسرے مرحلے میں اہل بیدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ مدرسہ محمودگاوان جیسی تاریخی عمارت اور سابق میں پڑھائے جانے والے وہاں کے نصاب (الجبر ا، علم فلکیات وغیرہ) کی بابت درست معلومات سیاحوں اورنئی نسل تک پہنچائیں۔ ورنہ مدرسہ لفظ کے ساتھ ہی عربی زبان اور مخصوص مذہبی تعلیم ذہن میں گھوم جاتی ہے۔تاریخی اور موجودہ غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے مؤرخ سامنے آئیں۔ بعدازاں مقامی حضرات بھی بہمنی سلطنت کے تاریخی ورثہ کوبچانے کے لئے بلالحاظ مذہب وملت اپنی سی سعی کریں۔ اور اس کے لئے ہرماہ کوئی مخصوص ملی جلی مجلس مدرسہ محمودگاوان کے احاطہ میں ہونی چاہیے۔بہرحال ایک آدھ چیزکے الحاق کے باوجود مجموعی طورپرڈاکٹر عبدالحمید صاحب کی یہ کتاب دلچسپ ہے۔7829383438 پر رابطہ کرکے حاصل کی جاسکتی ہے۔
Comments
Post a Comment