برقعہ: اور فیشن - دینی، اخلاقی، سماجی اور فکری پہلو - از قلم : شعیب احمد محمدی۔


برقعہ: اور فیشن - 
دینی، اخلاقی، سماجی اور فکری پہلو - 
از قلم : شعیب احمد محمدی۔
9284434542

1. دینی پہلو
اسلام میں عورت کے لیے پردے کا حکم اللہ تعالی نے قرآن میں دیا ہے۔

اللہ تعالی کا حکم:
وقل للمؤمنات يغضضن من ابصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ما ظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن
سورہ النور: 31

ترجمہ: اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے۔ اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔

برقعہ پردے کی ایک مکمل شکل ہے۔ اس کا مقصد عورت کے جسم اور زینت کو غیر محرم کی نظر سے بچانا ہے۔
برقعہ کوئی رواج نہیں بلکہ اللہ کا حکم ہے۔

صحابیات کا فوری عمل:
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
اللہ رحم کرے انصار کی عورتوں پر۔ جب ولیضربن بخمرهن نازل ہوئی تو انہوں نے اپنے موٹے کپڑوں اور چادروں کے کنارے پھاڑے اور ان سے اپنے سر اور چہرے ڈھانپ لیے۔ گویا ان کے سروں پر کالے کوے بیٹھے ہوں
صحیح بخاری

دین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عورت کی عزت اس کے پردے میں ہے۔ برقعہ عورت کو اللہ سے قریب کرتا ہے اور تقوی کی علامت ہے۔

2. اخلاقی پہلو
برقعہ حیا کا لباس ہے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے۔
برقعہ پہننے والی عورت معاشرے کو یہ پیغام دیتی ہے کہ میری عزت، میرا وقار، میرا کردار سب سے اہم ہے۔
یہ لباس فحاشی، بے حیائی اور نظر بازی کو روکتا ہے۔ جب عورت پردے میں نکلے گی تو معاشرے میں پاکیزگی اور شرم و حیا کا ماحول بنے گا۔
برقعہ مردوں کو بھی اخلاق سکھاتا ہے کہ وہ عورت کو صرف اس کی ذات اور علم سے پہچانیں، اس کے جسم سے نہیں۔

3. آج کے فیشن ایبل برقعے: دعوتِ نظارہ یا پردہ؟

آج فیس بک، انسٹاگرام اور مارکیٹ میں جو برقعے نظر آتے ہیں وہ برقعہ کم اور ڈیزائنر گاؤن زیادہ لگتے ہیں۔

کیا ہو رہا ہے؟
1. نقش و نگار، پھول بوٹے، نگ اور چمکدار اسٹون: برقعہ جو نظر سے بچانے کے لیے تھا، خود نظروں کا مرکز بن گیا ہے۔

2. ٹائٹ اور فٹنگ برقعے: جسم کی ساخت واضح کرنے والے برقعے۔ ایسا برقعہ جسے دیکھ کر نا دیکھنے والا بھی ایک نظر ضرور ڈالتا ہے۔

3. حد ہوگئی بے شرمی کی
آج معاشرہ میں روزآنہ ماں ، بہنوں ، پہنے جانے والے لباس اتنی فٹ اور تنگ نہیں ہوتے جتنا کہ اب برقعہ ٹائٹ اور فٹنگ میں ہوتا ہے۔ گویا کہ عام لباس میں خواتین کے جسم کا ابھار فٹنگ میں نا ہونے کی وجہ سے اتنا ظاہر نہیں ہوتا جتنا کہ آج برقعہ پہن کر بے ہودگی کا تماشا دنیا کو دکھایا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ چہرے کی نقاب کی پٹی اتنی چھوٹی سی ہوتی ہے کہ ان کے سینے کا ابھار بالکل واضح دکھتا ہے اور جب کسی عالم، یا داڑھی ٹوپی والے کو یہ خواتین دیکھتی ہیں تو اپنی بے شرمی کو چھپانے کے لیے وہ اس چھوٹی سی پٹی سے اپنا سینہ چھپانے کے لیے نیچے کھینچتی ہیں مگر ناکام رہتی ہیں اللہ کی پناہ

شعر
تم شرم و حیا ڈھونڈ رہی ہو میری بہنوں
وہ فاطمۃ الزھراء کے دوپٹے میں ملے گی

نتیجہ یہ نکلا کہ آج کا برقعہ اللہ اور رسول ﷺ کے حکم پر عمل نہیں رہا، بلکہ دعوتِ نظارہ بن گیا ہے۔

اصل برقعہ کیا تھا؟
صحابیات رضی اللہ عنہا کا برقعہ سادہ، ڈھیلا ڈھالا تھا۔ مقصد صرف ایک تھا - خود کو چھپانا۔
حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا: عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ کسی غیر مرد کو نہ دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اسے دیکھے۔

غیرت مند مردوں سے ایک اپیل
او غیرت مند مسلمان بھائی!
اللہ کے واسطے اپنی بیوی، بہن، ماں کو سمجھائیں:
بیٹی! بہن! تم محمد ﷺ کی امت ہو۔ تم فاطمہ الزہراء کی بیٹیاں ہو۔ سادہ برقعہ پہنو، ڈھیلا برقعہ پہنو، جس کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو۔
خدارا ایساتنگ اور فٹنگ والا برقعہ شوہر اپنی بیوی کو بھائی اپنی بہن کو پہننے سے روکیں جسے دیکھ کر نواجوان طبقہ بیہودہ فقرے کہتے ہیں کہ دیکھ کیا م۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

حل کیا ہے؟
1. سادگی اپنائیں: کالا، ڈھیلا، بغیر ڈیزائن والا برقعہ۔
2. نیت ٹھیک کریں: برقعہ لوگوں کو دکھانے کے لیے نہیں، اللہ کو راضی کرنے کے لیے ہے۔
3. گھر کے سربراہ کا کردار: مرد گھر کا نگہبان ہے۔
سبق:
برقعہ صرف کپڑا نہیں، یہ اللہ کی رضا، حیا کا تاج اور مومن عورت کی پہچان ہے۔
اللہ ہماری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو سچا پردہ نصیب فرمائے۔ اور ہمیں غیرت ایمانی عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔