"لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ" - سنی سنائی بات، دیکھی اور پرکھی ہوئی حقیقت کے برابر نہیں ہوتی۔از قلم:عالمہ مبین پالیگار۔ (پرنسپل مونٹ سنائی پی یو کالج بلگام، کرناٹک)
"لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ" -
سنی سنائی بات، دیکھی اور پرکھی ہوئی حقیقت کے برابر نہیں ہوتی۔
از قلم:عالمہ مبین پالیگار۔
(پرنسپل مونٹ سنائی پی یو کالج بلگام، کرناٹک)
M.A., M.Ed.
8904317986
انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی دور ایسا آیا ہو جس میں معلومات اس تیزی سے پھیلتی ہوں جس طرح آج پھیل رہی ہیں۔ موبائل فون، سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI) نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں تبدیل کر دیا ہے۔ ایک لمحے میں کوئی خبر، تصویر یا ویڈیو کروڑوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے۔ مگر جتنی تیزی سے معلومات پھیل رہی ہیں، اتنی ہی تیزی سے جھوٹ، افواہیں، فریب اور گمراہ کن مواد بھی عام ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج "معلومات کی کثرت" کے ساتھ "تحقیق کی قلت" ہمارا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔
اسلام نے چودہ سو سال پہلے ہی اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے خبر کی تحقیق کو ایمان کا تقاضا قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا﴾
"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"
(سورۃ الحجرات: 6)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«كَفَى بِالْمَرْءِ كَذِبًا أَنْ يُحَدِّثَ بِكُلِّ مَا سَمِعَ»
"کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرتا پھرے۔"
(صحیح مسلم)
یہ حدیث آج کے سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک آئینہ ہے۔ ہر فارورڈ کیا جانے والا پیغام، ہر شیئر کی جانے والی ویڈیو اور ہر پوسٹ کے بارے میں ہم سے قیامت کے دن سوال ہوگا کہ کیا ہم نے اس کی تحقیق کی تھی؟
آج مصنوعی ذہانت اس مقام پر پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی شخصیت کی آواز، چہرہ اور اندازِ گفتگو کی نقل تیار کی جا سکتی ہے۔ ایسے ویڈیوز، جنہیں Deepfake کہا جاتا ہے، حقیقت اور جعل سازی کے درمیان فرق کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔ اس لیے محض دیکھ لینا یا سن لینا کسی بات کی سچائی کی دلیل نہیں رہا، بلکہ تحقیق اور معتبر ذرائع سے تصدیق پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات غیر مسلموں کی طرف منسوب قرآنِ کریم کی تلاوت یا اسلام قبول کرنے کی خبریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی ہیں، اور مسلمان جذبات میں آکر بغیر تحقیق کے انہیں آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ اسلام جذبات سے زیادہ حقیقت، تحقیق اور دیانت داری کا دین ہے۔
یہ بھی ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم دوسروں کے قرآن پڑھنے پر خوشی تو مناتے ہیں، مگر خود اپنے گھروں میں قرآن کی آواز کتنی گونجتی ہے؟ ہماری روزمرہ زندگی میں قرآن کو کتنا وقت ملتا ہے؟ ہماری اولاد کتنی روانی سے قرآن پڑھ سکتی ہے؟ کیا ہم نے انہیں صرف دنیا کمانا سکھایا ہے یا آخرت سنوارنے کا راستہ بھی دکھایا ہے؟
قرآنِ مجید صرف تلاوت کے لیے نہیں بلکہ سوچ بدلنے، کردار سنوارنے، انصاف قائم کرنے، اخلاق بلند کرنے اور انسان کو اللہ سے جوڑنے کے لیے نازل ہوا ہے۔ جب تک ہمارا تعلق قرآن سے مضبوط نہیں ہوگا، ہماری زندگیوں میں حقیقی سکون، برکت اور ہدایت پیدا نہیں ہو سکتی۔
بدقسمتی سے آج والدین معاشی دوڑ میں، اور بچے اسکول، کالج، کوچنگ اور کیریئر کی مصروفیات میں اس قدر گھر چکے ہیں کہ دینی تعلیم زندگی کے کنارے لگ گئی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ڈگریاں بڑھ رہی ہیں مگر دینی شعور کمزور ہوتا جا رہا ہے، معلومات میں اضافہ ہو رہا ہے مگر حکمت اور بصیرت میں کمی آ رہی ہے۔
یاد رکھیں! دنیاوی تعلیم انسان کو روزگار دے سکتی ہے، لیکن قرآن انسان کو مقصدِ زندگی عطا کرتا ہے۔ ڈگری عزت دلا سکتی ہے، مگر تقویٰ اللہ کے ہاں مقام عطا کرتا ہے۔
حضرت عثمان بن عفانؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔"
(صحیح بخاری)
ہماری ذمہ داریاں
- ہر روز کم از کم 20 تا 30 منٹ قرآن کے لیے مخصوص کریں۔
- گھروں میں قرآن کی تلاوت، ترجمہ اور مختصر دینی گفتگو کا ماحول بنائیں۔
- بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ قرآن، تجوید اور بنیادی دینی تعلیم ضرور دلائیں۔
- ہر خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تحقیق کریں۔
- سوشل میڈیا کو علم، دعوت اور خیر کے فروغ کا ذریعہ بنائیں، نہ کہ افواہوں کی ترسیل کا۔
- جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھائیں، لیکن اسے اسلامی اصولوں اور اخلاقی ذمہ داریوں کے تابع رکھیں۔
آج ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ بنانا چاہتے ہیں یا باکردار، باعمل اور قرآن سے وابستہ مسلمان بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ہماری نئی نسل کا تعلق قرآن سے مضبوط ہوگا تو وہ دنیا میں بھی عزت پائے گی اور آخرت میں بھی سرخرو ہوگی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنِ کریم سے سچی محبت عطا فرمائے، اس کی تلاوت، فہم اور عمل کی توفیق دے، ہماری نسلوں کو قرآن کا خادم بنائے، ہمیں تحقیق کے بغیر کسی خبر کو پھیلانے سے محفوظ رکھے، اور دنیا و آخرت کی حقیقی کامیابی نصیب فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
"یاد رکھیے! جس قوم کا تعلق قرآن سے مضبوط ہوتا ہے، اسے کوئی فتنہ گمراہ نہیں کر سکتا، اور جو قوم تحقیق چھوڑ دیتی ہے، وہ افواہوں کی شکار ہو جاتی ہے۔"
Comments
Post a Comment