اردو کسی مذہب یا فرقہ کی زبان نہیں ہے یہ قومی یکجہتی کی علامت ہے۔ایوانِ احمد کی پانچویں محفل ِ عصرانہ سے سردار اقبال سنگھ، پروفیسر مسعود ،احمد منور حسین کا خطاب۔
حیدرآباد۔ 15/جولائی (راست )اردو قومی یکجہتی کی علامت ہے اور یہ کسی مذہب یہ فرقہ کی زبان نہیں ہے اردو خالص ہندوستان کی زبان ہے آزادی کے جدوجہد میں اردو کے انقلابی نعرے و اشعار نے لوگوں کو بالخصوص مجاہدین آزادی میں جوش و ولولہ پیدا کیا تھا سچ کہیں تو ملک کی آزادی میں اردو زبان نے موثر رول ادا کیا ہے ان خیالات کا اظہار ممتاز سماجی خدمت گزار سردار اقبال سنگھ نے ایوان احمد کی ہفتہ واری ادبی نشست محفل عصرانہ سے کیا جو رباط محبان اردو ،علی عبداللہ انکلیو ، عقب ر ینوا سوپر اسپشالٹی ہاسپٹل ، ملک پیٹ میں منعقد ہوئی مزید سردار اقبال سنگھ نے کہا کہ آج مجھے اس اردو کی محفل میں شرکت کرتے ہوئے بے انتہا مسرت و خوشی محسوس ہورہی ہے مجھے ایسا ہی ماحول پسند ہے اور آگے بھی میں اس محفل میں آتا رہوں گا اور مجھے جو مقبول عام اشعار یاد ہیں اسے سناوں گا میرے والد محترم کی حیات تک ہمارے گھر اردو اخبار آیا کرتا تھا ،مشن اسکو ل میں داخلہ کی وجہ سے میں اردو نہ پڑھ سکا حالانکہ میں اردو سیکھنے کی بڑی تمنا رکھتا ہوں لیکن اس مصروف ترین ملازمت کی وجہ سے میںوقت نہیں دے پارہا ہوں ،پروفیسر مسعود احمد صاحب اورمیں 30 برس قبل ایک ساتھ تعلیم حاصل کی تھی انہوں نے مجھے اور میرے ذوق شوق کو یاد رکھتے ہوئے ایک کامیاب اردو کی محفل کا مجھے حصہ بنایا ہے جس کے لئے میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ دائی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد چیف آپریٹنگ آفیسر بی بی کینسر ہاسپٹل نے کہا کہ دنیا میں کئی مذاہب ہیں جس میں سے ایک سکھ مذہب بھی ہے اور دنیا میں جتنے کامیاب ترین لوگ اور لیڈر رہ چکے ہیں بشمول مذہبی رہنماوں کے ان سب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ سفر بہت زیادہ کیا کرتے تھے اگر ہم ہندو ازم کو ہی دیکھ لیں یا اگر ہم علامہ اقبال کی ہی بات کریں تو دیکھیں کہ ان کا بھی بہت زیادہ سفر رہا ہے ابن بطوطہ کے بارے میں بھی پوری تاریخ ہے اس لحاظ سے سکھ ازم کی ہم بات کرتے ہیں تو گرونانک جی کی تاریخ پڑھیں گے تو یہ دیکھیں گے کہ ان کا سفر 1499 میں شروع ہو ا اور 1558 تک سفر جاری رہا گرو نانک نے زندگی کے 58 سال سفر میں گزارے ہیں آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت تیز رفتارسواری کی سہولت نہ ہونے پر بھی 24 ہزار کلومیٹر کا سفر انہوں نے طئے کیا اور ان کے ساتھ جو شخص تھا ان کا نام بھائی مردانہ تھا اور تاریخ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ وہ پہلے غیر مسلم تھے جو سعودی عرب اورحرم شریف گئے تھے آخر میں انہوں نے کہا کہ انسان کی کامیاب زندگی کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے جن میں بہترین استاد بہرںین دوست اور بہترین شریک حیات ہیں ، اوریہ تینوں چیزیں اگرانسان مل جائیں تو وہ کامیاب اور خوش قسمت ہوتا ہے۔ باغ و بہار شخصیت جناب منور حسین صدر بزم احمد حسین نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میں سردار اقبال سنگھ کے خیالات سے بہت متاثر ہوا ہوں بس یبی کہتا ہوں کہ جہاں جہاں اردو کی شمع جلتی ہے وہاں وہاں پروانے چلے آتے ہیں بعد ازاں مخدوم ایوارڈ یافتہ شاعر کی صدارت میں محفل شعرمنعقد ہوئی ماجد خلیل شرفی نے نعت شریف سے محفل کا آغاز کیا نظامت کے فرائض لطیف الدین لطیف نے انجام دیئے اس ''محفل عصرانہ'' میں ڈاکٹر فاروق شکیل، فرید سحر، پروفیسر محمد مسعود احمد،،شکیل حیدر، شاہ نواز ہاشمی،سہیل عظیم، جہانگیر قیاس، ثنا اللہ انصاری وصفی،سید مصطفی علی سید،جاوید نقشبندی،سلیمان صدیقی اعتبار،لطیف الدین لطیف نے اپنا کلام پیش کرکے داد و تحسین حاصل کی۔داعی محفل پروفیسر محمد مسعود احمد کے شکریہ پر محفل اگلی نشست تک ملتوی ہوگئی۔
Comments
Post a Comment