غزل - میربیدری، بیدر،کرناٹک۔


غزل - 
میربیدری، بیدر،کرناٹک۔

بندہ تیراتری الفت سے ہے 
زندہ تیری ہی مشیت سے ہے 

زندگی میرؔامانت سے ہے 
اور سزا اپنی حماقت سے ہے 

مال ودولت نہ حمایت سے ہے 
ساری نسبت تری بیعت سے ہے 

ڈھونڈ لیتی ہے رزق اپنا کہیں بھی 
چیونٹی کوکام نہ پربت سے ہے 

وہ تو لیڈر سبھی کے ہیں لیکن 
دشمنی اُردو صحافت سے ہے 

اس زمیں پر ہے بودوباش اس کی 
بندہ یہ کتنی حماقت سے ہے 

دِل کو کہتے ہیں خدا کی نعمت 
زندہ، قرآں کی تلاوت سے ہے 

اے خدایا مجھے داخل فرما 
کام مجھ کو ذرا جنت سے ہے 

وہ منسٹر تھے ریاست کے میرؔ
اُن کو شکویٰ بھی حکومت سے ہے 

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔