وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط - محمد علی جوہر یونیورسٹی کو قوم کا سرمایہ سمجھیں۔ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط -
محمد علی جوہر یونیورسٹی کو قوم کا سرمایہ سمجھیں۔
ازقلم : سید فاروق احمد قادری۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد ہوتی ہے۔ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر صرف شاہراہوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ مضبوط تعلیمی اداروں، باصلاحیت اساتذہ اور باشعور نوجوانوں سے ہوتی ہے۔ اسی لیے ہر یونیورسٹی صرف اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں بلکہ قوم کے روشن مستقبل کی بنیاد ہوتی ہے۔
آزادی کے بعد کا ہندوستان اور تعلیمی سفر
1947 میں آزادی کے وقت ہندوستان بے شمار مشکلات سے دوچار تھا۔ ابتدائی برسوں میں زمینوں، جائیدادوں اور دیگر سرکاری ریکارڈ کا نظام آج کی طرح مکمل اور منظم نہیں تھا۔ اس کے بعد 1962 کی چین۔بھارت جنگ اور 1965 وہ 1971 پاکستان کی جنگ اور دیگر قومی چیلنجوں نے ملک کو کئی امتحانات سے گزارا۔ اس کے باوجود ہندوستان نے ترقی کا سفر جاری رکھا اور 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں تعلیم کو قومی ترقی کا بنیادی ستون بنایا اور ہندوستان کے صدر ڈاکٹر اے پی جی کلام نے ہندوستان کو دفاعی صلاحیت میں اگنی میزائل بنا کر ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا اسی دور میں ملک بھر میں بڑے بڑے تعلیمی ادارے قائم ہوئے، کیونکہ قوم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ تعلیم ہی حقیقی ترقی کا راستہ ہے۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی: علم، تحقیق اور قومی خدمت کا مرکز
رام پور کی محمد علی جوہر یونیورسٹی تقریباً 500 ایکڑ پر قائم ایک عظیم الشان تعلیمی ادارہ ہے۔ اس کا خوبصورت کیمپس، جدید طرزِ تعمیر، کشادہ کلاس روم، وسیع لائبریری، جدید لیبارٹریاں، آڈیٹوریم، طلبہ و طالبات کے الگ الگ ہاسٹل، کھیل کے میدان، رہائشی سہولیات اور دیگر انتظامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اس ادارے کی تعمیر میں برسوں کی محنت، منصوبہ بندی اور عوامی تعاون شامل ہے۔
یہ یونیورسٹی صرف ایک طبقے یا ایک برادری کی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی مشترکہ تعلیمی میراث ہے۔ یہاں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر تمام برادریوں کے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ملک کی مختلف ریاستوں کے علاوہ بیرونِ ملک سے بھی طلبہ یہاں آتے ہیں۔ یہ ادارہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب، قومی یکجہتی اور تعلیمی ہم آہنگی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
اطلاعات کے مطابق جن 38 کلاس رومز پر کارروائی کی بات کی جا رہی ہے، وہی کمرے ہیں جہاں روزانہ طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اگر انہی کلاس رومز کو نقصان پہنچتا ہے تو ہزاروں طلبہ کی تعلیم کہاں ہوگی؟ کلاس روم صرف دیواریں نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی تعمیر گاہیں ہوتے ہیں، جہاں سے ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، استاد، جج، افسر اور ملک کے معمار تیار ہوتے ہیں۔
اگر کسی قانونی یا انتظامی مسئلے کی نشاندہی ہوئی ہے تو اس کا حل یقیناً آئین اور قانون کے مطابق ہونا چاہیے، لیکن ایسا کوئی قدم نہیں اٹھایا جانا چاہیے جس سے طلبہ کی تعلیم اور ان کا مستقبل متاثر ہو۔
نوجوان نسل کا بدلتا ہوا شعور
حال ہی میں NEET امتحان سے متعلق مسائل پر ملک بھر کے طلبہ نے 36 دن تک مسلسل احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ صرف یہ تھا کہ امتحانی نظام شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد ہو۔ اس تحریک نے یہ واضح کر دیا کہ آج کا نوجوان پہلے کی نسلوں سے مختلف ہے۔ وہ تعلیم کے حق، اپنے مستقبل اور انصاف کے لیے آواز اٹھانا جانتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ کی تحریک نے پورے ملک کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور تعلیمی نظام پر سنجیدہ بحث شروع ہوئی۔
یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی نوجوان نسل اپنے مستقبل کے بارے میں باشعور ہے۔ اس لیے محمد علی جوہر یونیورسٹی جیسے اداروں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی جی کے نام عوام کی اپیل
محترم وزیرِ اعظم نریندر مودی جی!
ہندوستان کی عوام، جس میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، پارسی اور دیگر تمام برادریوں کے شہری شامل ہیں، آپ سے مؤدبانہ اپیل کرتی ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی کے معاملے پر ازسرِ نو غور کیا جائے۔
اگر اس ادارے سے متعلق کوئی قانونی یا انتظامی خامی ہے تو اسے قانون کے مطابق دور کیا جائے، لیکن ہزاروں طلبہ کی تعلیم، ان کے خواب اور ان کے مستقبل کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ ایسے عظیم تعلیمی ادارے برسوں کی محنت، عوامی تعاون اور قومی امیدوں سے تعمیر ہوتے ہیں، انہیں محفوظ رکھنا بھی قومی ذمہ داری ہے۔
ہندوستان کی عوام کو یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں ایسا منصفانہ اور دور اندیش فیصلہ ہوگا جس میں قانون کی بالادستی بھی برقرار رہے گی، انصاف بھی قائم ہوگا اور تعلیم کا چراغ بھی روشن رہے گا۔
اختتامیہ
محمد علی جوہر یونیورسٹی صرف ایک یونیورسٹی نہیں بلکہ قوم کا سرمایہ ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والا ہر طالب علم ہندوستان کے روشن مستقبل کی امید ہے۔ آج اگر ہم اپنے تعلیمی اداروں اور نوجوانوں کے خوابوں کی حفاظت کریں گے تو کل یہی نوجوان ایک مضبوط، ترقی یافتہ، خوداعتماد اور باوقار ہندوستان کی تعمیر کریں گے۔
تعلیم کو محفوظ رکھیے، طلبہ کے مستقبل کو محفوظ رکھیے، کیونکہ یہی ایک عظیم اور ترقی یافتہ ہندوستان کی حقیقی پہچان ہے۔
Comments
Post a Comment