سچ کی اہمیت۔ ازقلم : مولانا سید میر ذاکر علی محمدی ندوی پربھنی۔


سچ کی اہمیت۔ 
ازقلم : مولانا سید میر ذاکر علی محمدی ندوی پربھنی۔
 9881836729

 سچ اور حق کے تعلق سے قرآن اور احادیث نبوی میں متعدد جگہ بلکہ ہزاروں جگہ وارد ہوا ہے ۔ اور سچ کہنے کی اور حق گوئ اور سچ بولنے والوں کی صحبت اختیار کرنے کو کہا گیا ہے۔ کونوا مع الصادقین یعنی حق گو لوگوں کے ساتھ رہو۔ اور اس کے برعکس یوں کہا گیا ہے۔ الکذب ینقص الرزق یعنی جھوٹ اور فرضی بات کرنا رزق میں کمی کا باعث ہے۔ انسان رشد اور ہدایت کا راستہ سچائ کو جان کر ہی پاسکتا ہے جو اس کے لیے ممکن ہے مشکل نہیں۔ آج ہمیں جو مشکلات اور مصائب difficulties کا سامنا درپیش ہے ۔ ہم مثبت پہلوں possetive کو چھوڑ کر منفیnegative رویہ اختیار کئے ہوے ہیں۔ شخصیت پرستی عام اور سچ کو سچ کہنے کی جرآت نہیں رہی۔ عدل و انصاف میں کتر بیونت ۔ ادب و احترام کا فقدان نظر آتا ہے۔ یہ تمام عمل وہی لوگ چاہے اہل علم کیوں نہ ہو وہی اسکے مرتکب ہوتے ہیں جو مال و متاع عہدہ اور نام کے تشہیر کے شوقین ہوتے ہیں۔ ورنہ اللہ والے اور صادقین کے صحبت اختیار کرنے والے تو ہمیشہ یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ مجھ کو نفس کے شر سے بچا اور رشد و ہدایت کے راستہ پر چلا جس میں دنیا اور آخرت کی فلاح و بہبود کا راز مضمر ہے۔ اور یہی راستہ قرآن اور حدیث میں واضح طور پر بتایا گیا ہے۔ قرآن میں ذکر ہے کہ اہل ایمان اللہ سے شدید محبت رکھتے ہیں۔ اور جو مومن اللہ سے شدید محبت رکھتا ہے اسکے لیے دنیا کی کوئ قیمت نہیں۔ اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر کسی کو اللہ کے سوا دوسرے سے شدید محبت ہوجاے تو وہ سچائ اور حق کے راستہ سے ہٹانے کا سبب بنتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم حصول منصب عہدہ جھوٹی شان و شوکت نیتوں کی پامالی میں مشغول ہوجاتے ہیں۔اور پھر حق کو حق کہنے کی طاقت و قوت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ اور ہم خود اپنے ہاتھوں اپنے عاقبت کی تخریب کاری کرتے ہیں جو ایک سنگین عمل ہے ۔ اور یہی سچائ سے منہ موڑنے distraction سےانسان کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔ دور حاظر پر خطر اور سنگین ہے۔ آسمان سے جو فرشتے اتارے جا ئیں وہ بھی اس دور میں سچ بولے تو مارے جایں ۔ لیکن ہمیں سچائ پر ہمیشہ قائم رہنے کے اوصاف کو اپنانا چاہیے۔ کیوں کہ ہمیشہ سچ کی فتح ہوتی ہے۔ جاء الحق و ذھق الباطل کیوں کہ حق کی جیت اور باطل کی ہار ہوتی ہے ۔کوئ اکثریت غلط اور جھوٹ کے نقارے بجاتی ہے وہ اسلام اور مسلم کے منافی ہے۔ اور اگر چند لوگ حق گوئ اور صداقت کو اپناے ہوے ہیں وہ عین اسلام اور اس کے اصولوں کے عین مطابق ہیں ۔ اور یہی لوگ دنیا اور آخرت میں کامیابی اور کامرانی کے حقدار ہیں۔ جہاد میں افضل جہاد یہ ہے کہ آپ بے رحم اور ظالم بادشاہ cruel king کے سامنے صداقت انصاف اور حق گوئ کی بات کریں جو ایک افضل عمل اور ایک افضل جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ لوگوں کو سچ اور حق بات بتاو اگرچہ کے لوگوں نا گوار اور کڑوی کیوں نہ لگے۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے۔ روز قیامت اس آدمی کو بدترین پاگے جو دنیا میں دو چہرے رکھتا ہو ۔ جو ایک چہرے کے ساتھ ایک گروہ کو ملتا ہے۔ اور دوسرے چہرے سے دوسرے گروہ کو ملتا ہے۔ جو ہر دو گروہ میں رنجش پیدا کرتا ہے۔ اللہ ہمیں حق گوئ اور حق کا معاون بناے اور نیکی کے ترویج کو عام کرنے والا بناے ۔ 

ازقلم : مولانا سید میر ذاکر علی محمدی ندوی پربھنی۔
 9881836729

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔