بیوہ اور مطلقہ سے نکاح کی ترغیب - از قلم: شعیب احمد محمدی۔


بیوہ اور مطلقہ سے نکاح کی ترغیب - 
از قلم: شعیب احمد محمدی۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:  
"الساعی علی الارملة والمسکین کالمتجاہد فی سبیل اللہ"  
ترجمہ: بیوہ اور مسکین کی کفالت کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے۔  
بخاری

اسلام ایک ایسا دین ہے جو معاشرے کے کمزور طبقات کا خاص خیال رکھتا ہے۔ بیوہ اور مطلقہ خواتین کا نکاح اسی رحمت کا ایک حصہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ میں ہمیں یہی درس ملتا ہے۔ آپ ﷺ کی اکثر ازواج مطہرات بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ آپ ﷺ نے نکاح کر کے نہ صرف ان کی کفالت کی بلکہ معاشرے کو یہ پیغام دیا کہ عورت کی عزت اس کے ماضی سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ سے ہے۔ جب ایک مرد بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کرتا ہے تو وہ درحقیقت ایک گھر بسانے کے ساتھ ایک دل کا سہارا بنتا ہے، ایک خاندان کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے، اور اللہ کی رضا کا بڑا ذریعہ بن جاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بیوہ اور مطلقہ خواتین کو اکثر حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ یہ سوچ سراسر غیر اسلامی ہے۔ ایک بیوہ یا مطلقہ عورت تجربہ کار، ذمہ دار اور گھر سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ان سے نکاح کرنا خالصتاً اجر، ہمدردی اور سنت کو زندہ کرنے کا کام ہے۔ ایسے نکاح سے معاشرے میں فحاشی کم ہوتی ہے، یتیم بچوں کو باپ کا سایہ ملتا ہے، اور ایک بہن کو عزت کے ساتھ زندگی ملتی ہے۔ آؤ! ہم اپنی ایسی بہنوں کے دست و بازو بن کر ان کے نکاح کرانے میں مدد کریں۔ کردار اور تقویٰ کو ترجیح دیں، عمر اور ماضی کو نہیں۔

بیوہ اور مطلقہ سے نکاح کرنا کمزوری نہیں بلکہ مرد کے ایمان اور حوصلے کی سب سے بڑی نشانی ہے۔ یہ عمل بتاتا ہے کہ ہم صرف اپنی ذات کے لیے نہیں جیتے، بلکہ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھتے ہیں۔ جب ہم مالیگاؤں کی ان بہنوں کا ہاتھ تھامیں گے جن کا سہارا دنیا سے چلا گیا یا جن کی زندگی میں تلخی آ گئی، تو اللہ بھی ہماری نسلوں کا سہارا بن جائے گا۔ آئیے عہد کریں کہ ہم تنقید کرنے کے بجائے نکاح کی آسانیاں پیدا کریں گے۔ رشتے جوڑنے والے بنیں گے، رشتے توڑنے والے نہیں۔ کیونکہ جس نے ایک مسلمان کی پردہ پوشی کی، قیامت کے دن اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔

معاشرتی طور پر جب ہم بیوہ اور مطلقہ سے نکاح کو عام کریں گے تو ہمارا معاشرہ محفوظ اور مضبوط ہو جائے گا۔ گھروں میں سکون آئے گا، بچے بے سہارا نہیں رہیں گے، اور عزتیں محفوظ ہوں گی۔ ایک بیوہ ماں جب دوبارہ گھر کی ملکہ بنتی ہے تو اس کے بچے بھی باعزت زندگی گزارتے ہیں۔ ہم اگر آج ان کے زخموں پر مرہم نہیں رکھیں گے تو کل ہمارے اپنے گھر بھی مشکلات سے خالی نہیں۔ اس لیے ضرورت ہے کہ ہم "لوگ کیا کہیں گے" کی سوچ کو دفن کر کے "اللہ کیا کہے گا" کو اپنا شعار بنائیں۔

اخلاقی اور جذباتی طور پر یہ نکاح صرف ایک معاہدہ نہیں بلکہ ایک قربانی ہے۔ یہ اس مرد کی بڑائی ہے جو اپنی خواہشات سے اوپر اٹھ کر ایک ٹوٹے دل کو جوڑتا ہے۔ یہ اس عورت کی امید ہے جو سمجھتی تھی کہ اب اس کی زندگی ختم ہو گئی۔ تصور کیجیے، جب کوئی یتیم بچہ نئے باپ کو "ابا" کہہ کر پکارتا ہے تو آسمان کے فرشتے بھی خوش ہو جاتے ہیں۔ آئیے ہم بھی ایسے ہیرو بنیں جن کے نام سے تاریخ لکھی جائے۔ نکاح کو آسان بنائیں، جہیز کو ختم کریں، اور معاشرے کو بتائیں کہ اصل خوبصورتی کردار میں ہے، عمر میں نہیں۔

نوٹ: ایک اہم مسئلہ اور اس کا حل  
آج ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بعض مطلقہ خواتین یا ان کے گھر والے نکاح کے وقت بڑی رقم، گھر یا مہنگے مطالبات سامنے رکھ دیتے ہیں۔ حالانکہ نکاح کا مقصد سہارا بننا اور گھر بسانا ہے، کاروبار کرنا نہیں۔ جب ہم ایک زخمی دل کا علاج کرنے آئیں اور سامنے شرطوں کی دیوار کھڑی ہو جائے تو نیکی کا جذبہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ یاد رکھیں، نبی کریم ﷺ نے نکاح کو آسان فرمایا تھا، اور سادگی اختیار کی تھی اگر واقعی ہمیں معاشرے سے فحاشی مٹانی ہے اور بیوہ و مطلقہ کو عزت دینی ہے تو دونوں طرف کو میانہ روی اختیار کرنی ہوگی۔ مرد اپنی استطاعت کے مطابق اور عورت قناعت کے ساتھ۔ کیونکہ جس نکاح کی بنیاد لالچ پر رکھی جائے وہ برکت سے خالی ہو جاتا ہے، اور جس نکاح کی بنیاد تقویٰ اور ہمدردی پر ہو اللہ خود اس میں سکون اور برکت ڈال دیتا ہے۔  
آئیے مطالبات کا بوجھ کم کریں، تاکہ دل جڑیں اور یتیم بچوں کو بھی باپ کا شفیق سایہ ملے۔ ایک چھوٹا سا قدم اٹھائیں، ہو سکتا ہے آپ کے اس فیصلے سے کسی ماں کو زندگی میں نیا سہارا مل جائے اور کئی بچوں کی زندگی سنور جائے۔

وما توفیقی الا باللہ  
اللہ ہم سب کو سنت پر عمل کی توفیق دے۔ آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔