بارش کی اقسام: قدرتی نظام کی حکمتیں اور انسانی زندگی پر اسکےاثرات۔۔ تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
بارش کی اقسام: قدرتی نظام کی حکمتیں اور انسانی زندگی پر اسکےاثرات۔
تحریر: ڈاکٹر محمد عبدالسمیع ندوی۔
(اسسٹنٹ پروفیسر، مولانا آزاد کالج، اورنگ آباد)
موبائل نمبر: 9325217306
بارش اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے۔ انسان جب خشک اور بنجر زمین پر بارش کے قطرے گرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں امید، سکون اور تازگی کی ایک نئی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بارش صرف پانی کے قطروں کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت، قدرت، حکمت اور ربوبیت کی ایک عظیم نشانی ہے۔ قرآن کریم میں متعدد مقامات پر بارش کا ذکر کیا گیا ہے اور اسے مردہ زمین کو زندہ کرنے والی نعمت قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ"
ترجمہ:
"اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہو جانے کے بعد بارش نازل فرماتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے۔"
بارش انسانی زندگی، زراعت، ماحولیات، حیوانات، نباتات اور پوری کائنات کے نظام کا ایک بنیادی حصہ ہے۔ اگر بارش نہ ہو تو زمین بنجر ہو جائے، دریا خشک ہو جائیں، کھیت اجڑ جائیں اور زندگی کا تسلسل خطرے میں پڑ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بارش کو صرف ایک طبعی عمل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا ہے۔
قدرتی اعتبار سے بارش کی کئی اقسام ہیں۔ ہر قسم کی بارش اپنے اندر الگ حکمت، فائدہ اور اثر رکھتی ہے۔ بعض بارشیں نرم اور ہلکی ہوتی ہیں، بعض موسلا دھار، بعض مسلسل اور بعض طویل خشک سالی کے بعد رحمت بن کر نازل ہوتی ہیں۔ ان تمام اقسام کا جائزہ لینا انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔
ہلکی بارش
ہلکی بارش کو عربی میں "الطَّل" کہا جاتا ہے۔ یہ نہایت نرم، لطیف اور آہستہ انداز میں نازل ہونے والی بارش ہوتی ہے۔ اس کی بوندیں باریک ہوتی ہیں اور زمین کو نقصان پہنچائے بغیر اس میں نمی پیدا کرتی ہیں۔ یہ بارش خصوصاً فصلوں، باغات اور سبزہ زاروں کے لیے بہت مفید سمجھی جاتی ہے۔
ہلکی بارش انسان کے مزاج پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ موسم خوشگوار ہو جاتا ہے، گرمی کی شدت کم ہو جاتی ہے اور فضا میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ انسان کے دل میں سکون اور راحت کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ گویا یہ بارش خاموش انداز میں زندگی کو سہارا دیتی ہے۔
بونداباندی
بونداباندی درمیانی درجے کی بارش ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار معتدل ہوتی ہے۔ عربی زبان میں اسے "الوابل" کہا جاتا ہے۔ یہ بارش نہ بہت ہلکی ہوتی ہے اور نہ بہت تیز، بلکہ اعتدال کے ساتھ نازل ہوتی ہے۔ یہی اعتدال اسے فائدہ مند بناتا ہے۔
زراعت کے میدان میں ایسی بارش کو بہت مفید سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس سے زمین اچھی طرح سیراب ہو جاتی ہے اور فصلوں کی نشوونما بہتر انداز میں ہوتی ہے۔ اس بارش سے نہ صرف کسان خوش ہوتے ہیں بلکہ عام لوگ بھی راحت محسوس کرتے ہیں۔
اسلام ہمیں زندگی کے ہر معاملے میں اعتدال کی تعلیم دیتا ہے، اور بارش کی یہ قسم بھی اسی اعتدال کی ایک خوبصورت مثال ہے۔
مسلسل بارش
مسلسل بارش کو عربی میں "الوَدَق" کہا جاتا ہے۔ یہ وہ بارش ہے جو کئی گھنٹوں یا کئی دنوں تک جاری رہتی ہے۔ اگر یہ بارش مناسب مقدار میں ہو تو نہایت مفید ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اس سے زمین مکمل طور پر سیراب ہو جاتی ہے، تالاب بھر جاتے ہیں اور زیر زمین پانی کی سطح بلند ہوتی ہے۔
لیکن اگر یہی مسلسل بارش حد سے بڑھ جائے تو مشکلات پیدا ہونے لگتی ہیں۔ سڑکیں زیر آب آ جاتی ہیں، ٹریفک کا نظام متاثر ہوتا ہے، مکانات کمزور ہو جاتے ہیں اور بعض علاقوں میں سیلابی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔
یہاں انسان کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہر چیز میں اعتدال ضروری ہے۔ ضرورت سے زیادہ نعمت بھی بعض اوقات آزمائش بن جاتی ہے۔
تیز اور موسلا دھار بارش
تیز بارش کو عربی میں "الغَدَق" کہا جاتا ہے۔ یہ شدید رفتار سے برسنے والی بارش ہوتی ہے جس میں پانی کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسی بارش سے دریا اور ندی نالے بھر جاتے ہیں، بند ٹوٹ سکتے ہیں اور بعض اوقات شدید سیلاب آ جاتے ہیں۔
اگرچہ یہ بارش زمین کی پیاس بجھاتی ہے اور پانی کے ذخائر میں اضافہ کرتی ہے، لیکن اس کے نقصانات بھی کم نہیں ہوتے۔ سیلاب کی وجہ سے انسانی جانوں، مویشیوں، فصلوں اور مکانات کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
آج دنیا کے مختلف ممالک میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے غیر معمولی بارشیں ہو رہی ہیں۔ کہیں چند گھنٹوں کی بارش پورے شہر کو ڈبو دیتی ہے اور کہیں مہینوں تک بارش نہیں ہوتی۔ یہ تمام حالات انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ قدرتی نظام میں توازن کتنا ضروری ہے۔
خشک سالی کے بعد بارش
خشک سالی کے بعد آنے والی بارش کو عربی میں "الغَیث" کہا جاتا ہے۔ یہ بارش امید، خوشی اور زندگی کا پیغام لے کر آتی ہے۔ جب لوگ بارش نہ ہونے کی وجہ سے پریشان ہو جاتے ہیں، کھیت سوکھ جاتے ہیں، جانور پیاس سے بے حال ہو جاتے ہیں اور ہر طرف مایوسی چھا جاتی ہے، تب اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے بارش نازل فرماتا ہے۔
ایسی بارش انسان کو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کا احساس دلاتی ہے۔ لوگ اللہ کے حضور جھکتے ہیں، دعائیں کرتے ہیں اور اس کی نعمت پر شکر ادا کرتے ہیں۔
اسلام میں نمازِ استسقاء کا نظام بھی اسی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جب بارش نہ ہو تو مسلمان اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نمازِ استسقاء ادا فرمائی اور امت کو یہ تعلیم دی کہ مشکلات کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے۔
بارش کے وقت کی دعائیں
اسلام نے بارش کے وقت مخصوص دعائیں سکھائی ہیں تاکہ انسان اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرے اور اس کے حضور شکر ادا کرے۔
بارش شروع ہونے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے:
"اللهم صيبا نافعا"
ترجمہ:
"اے اللہ! اسے نفع بخش بارش بنا دے۔"
اسی طرح بارش کی ضرورت کے وقت یہ دعا مانگی جاتی ہے:
"اللهم اغثنا غيثا مغيثا هنيئا مريا نافعا غير ضار"
ترجمہ:
"اے اللہ! ہمیں ایسی بارش عطا فرما جو مددگار، خوشگوار، فائدہ مند ہو اور نقصان دہ نہ ہو۔"
یہ دعائیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ انسان کو ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
بارش اور انسانی نفسیات
بارش کا انسانی نفسیات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ بہت سے لوگ بارش کے موسم میں ذہنی سکون محسوس کرتے ہیں۔ بارش کی آواز، مٹی کی خوشبو اور ٹھنڈی ہوا انسان کے دل و دماغ پر خوشگوار اثر ڈالتی ہے۔
نفسیات کے ماہرین بھی یہ مانتے ہیں کہ قدرتی مناظر انسان کے ذہنی دباؤ کو کم کرتے ہیں۔ اسی لیے بارش کے بعد انسان کے اندر تازگی اور نشاط پیدا ہوتی ہے۔
بارش اور زراعت
زراعت کا دار و مدار بارش پر ہے۔ کسان بارش کے انتظار میں رہتے ہیں کیونکہ اچھی بارش اچھی فصل کی علامت ہوتی ہے۔ اگر بارش وقت پر ہو تو اناج، پھل اور سبزیاں بہتر پیدا ہوتی ہیں۔ لیکن اگر بارش بے وقت ہو یا بہت زیادہ ہو جائے تو فصلیں تباہ بھی ہو سکتی ہیں۔
اسی لیے کسان ہمیشہ دعا کرتے ہیں کہ بارش مناسب وقت اور مناسب مقدار میں ہو۔
بارش اور ماحولیات
بارش ماحول کو صاف کرتی ہے۔ گرد و غبار ختم ہو جاتا ہے، درخت دھل جاتے ہیں اور فضا میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ بارش زیر زمین پانی کے ذخائر کو بھی بھرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
لیکن جدید دور میں ماحولیاتی آلودگی اور جنگلات کی کٹائی نے بارش کے نظام کو متاثر کیا ہے۔ کہیں شدید بارشیں ہو رہی ہیں اور کہیں خشک سالی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال انسان کو ماحول کے تحفظ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
اسلامی تعلیمات اور بارش
اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ وہ بارش کو محض قدرتی عمل نہ سمجھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نشانی سمجھے۔ قرآن کریم بار بار انسان کو غور و فکر کی دعوت دیتا ہے کہ وہ زمین، آسمان، بادلوں اور بارش کے نظام میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچانے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے:
"بارش زمین کے لیے رحمت ہے، لیکن انسان کے اعمال اس رحمت کو آزمائش میں بدل سکتے ہیں۔"
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرو، کیونکہ ناشکری نعمتوں کو چھین لیتی ہے۔"
یہ اقوال انسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ نعمتوں کی قدر کرنا ضروری ہے۔
بارش: رحمت بھی، آزمائش بھی
بارش کبھی رحمت بنتی ہے اور کبھی آزمائش۔ اگر بارش اعتدال کے ساتھ ہو تو فائدہ پہنچاتی ہے، لیکن اگر حد سے بڑھ جائے تو نقصان بھی پہنچا سکتی ہے۔ یہی دنیا کا اصول ہے کہ ہر نعمت کے ساتھ ذمہ داری بھی ہوتی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ بارش کے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے، ضرورت مندوں کی مدد کرے، ماحول کی حفاظت کرے اور قدرتی وسائل کا صحیح استعمال کرے۔
نتیجہ
بارش اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور قدرت کی روشن نشانی ہے۔ اس کی مختلف اقسام انسان کو یہ سبق دیتی ہیں کہ کائنات کا ہر نظام حکمت، توازن اور مصلحت پر قائم ہے۔ ہلکی بارش ہو یا موسلا دھار، مسلسل ہو یا خشک سالی کے بعد آنے والی رحمت، ہر صورت انسان کو اپنے رب کی قدرت یاد دلاتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بارش کو صرف موسم کی تبدیلی نہ سمجھیں بلکہ اسے اللہ تعالیٰ کی رحمت، تنبیہ اور نعمت کے طور پر دیکھیں۔ جب انسان اپنے رب کی نعمتوں کو پہچانتا ہے، ان پر شکر ادا کرتا ہے اور ان سے صحیح فائدہ اٹھاتا ہے تو اس کی زندگی میں خیر و برکت پیدا ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، ان پر شکر ادا کرنے اور ہر حال میں اپنی رحمت کے سائے میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Comments
Post a Comment