اجڑتے آنگن۔ - (کالم) - از قلم : رہبر تماپوری۔




اجڑتے آنگن۔ - (کالم) - 
از قلم : رہبر تماپوری۔

معاشرہ افراد سے تشکیل پاتا ہے، اور ہر فرد کی پہلی درسگاہ اور محفوظ پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ یہی گھر محبت، اپنائیت، احترام اور سکون کا سرچشمہ ہوتا ہے، مگر افسوس کہ تیزی سے بدلتی ہوئی مادی دنیا میں گھروں کی اصل روح ماند پڑتی جا رہی ہے۔ آج بے شمار ایسے مکانات نظر آتے ہیں جن کی دیواریں تو قائم ہیں، مگر ان کے اندر محبت کی حرارت، قہقہوں کی گونج اور رشتوں کی خوشبو باقی نہیں رہی۔ حقیقت یہ ہے کہ اجڑتے آنگن ہمارے عہد کا ایک نہایت سنگین معاشرتی المیہ بن چکے ہیں۔

ماضی کے آنگن زندگی سے بھرپور ہوا کرتے تھے۔ شام ڈھلتے ہی خاندان کے افراد ایک جگہ جمع ہوتے، بزرگ اپنی دانائی اور تجربات سے نئی نسل کی رہنمائی کرتے اور بچے انہی کی شفقت میں احترام، ایثار اور محبت کے سبق سیکھتے تھے۔ اس وقت وسائل محدود تھے، مگر دل آسودہ تھے۔ آج آسائشیں بڑھ گئی ہیں، لیکن دلوں کے فاصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ مادہ پرستی، بے جا مصروفیات اور انا پرستی نے خاندانی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

آنگنوں کے اجڑنے کی ایک بڑی وجہ برداشت، رواداری اور باہمی مکالمے کا فقدان ہے۔ معمولی اختلافات ضد اور انا کی جنگ بن جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے نیچا دکھانے کی روش اعتماد کو مجروح کر دیتی ہے اور محبت کی جگہ بدگمانی لے لیتی ہے۔ میاں بیوی کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بزرگوں سے بے توجہی بھی خاندان کے شیرازے کو بکھیر رہی ہے، جبکہ اس کے سب سے گہرے اثرات معصوم بچوں کی شخصیت، تربیت اور ذہنی نشوونما پر مرتب ہوتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد جسمانی طور پر تو قریب ہیں، مگر ذہنی اور جذباتی طور پر ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہر شخص موبائل فون اور سوشل میڈیا کی ورچوئل دنیا میں اس قدر محو ہے کہ اپنے ہی گھر والوں کے احساسات، ضروریات اور جذبات سے غافل ہوتا جا رہا ہے۔ رابطے بے شک پہلے سے زیادہ ہو گئے ہیں، مگر حقیقی تعلقات کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لیں۔ اہلِ خانہ کے لیے وقت نکالیں، بزرگوں کا احترام کریں، بچوں کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور اختلافات کو برداشت، محبت اور حکمت سے حل کرنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیے، اینٹ اور گارے سے صرف مکان بنتے ہیں، جبکہ گھر محبت، اعتماد، ایثار، قربانی اور باہمی احترام سے آباد ہوتے ہیں۔ اگر آج ہم نے اپنے اجڑتے آنگنوں کو سنبھالنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں جدید اور عالی شان مکانات تو ضرور پائیں گی، مگر حقیقی خاندانی سکون، اپنائیت اور رشتوں کی مٹھاس سے محروم رہ جائیں گی۔ مضبوط خاندان ہی ایک مہذب، پُرامن، باوقار اور خوش حال معاشرے کی مضبوط بنیاد ہوتے ہیں۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔