نیلا لباس، نیلا دل اور ایک خاموش چیخ - ازقلم : ڈاکٹر رفیعہ نوشین۔


نیلا لباس، نیلا دل اور ایک خاموش چیخ - 
ازقلم : ڈاکٹر رفیعہ نوشین۔

بعض اوقات انسان کو زنجیروں میں جکڑنے کے لیے لوہے کی بیڑیاں نہیں، بلکہ خواب کافی ہوتے ہیں۔ ایک اچھی ملازمت کا خواب، خوشحال ازدواجی زندگی کا خواب، بیرونِ ملک روشن مستقبل کا خواب یا سوشل میڈیا پر بنائے گئے کسی جھوٹے تعلق کا خواب۔ جب خواب دھوکے میں بدلتے ہیں تو انسان صرف آزادی ہی نہیں کھوتا، اپنی شناخت، وقار اور مستقبل بھی گنوا بیٹھتا ہے۔ یہی انسانی اسمگلنگ کا سب سے ہولناک چہرہ ہے۔

30 جولائی، "*عالمی دن برائے انسدادِ انسانی اسمگلنگ*"، محض ایک بین الاقوامی تقویمی تاریخ نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر پر دستک دینے کا دن ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی ترقی، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی روابط کے اس دور میں بھی لاکھوں انسان خریدے اور بیچے جا رہے ہیں۔ ان کے جسموں سے زیادہ ان کی مجبوریوں کی تجارت ہوتی ہے، اور ان کے خوابوں کو منڈیوں میں نیلام کیا جاتا ہے۔

انسانی اسمگلنگ کی حقیقت یہ ہے کہ یہ بندوق کے زور سے کم اور دھوکے کے ذریعے زیادہ کی جاتی ہے۔ ایک جھوٹی ملازمت، ایک جعلی ایجنٹ، ایک فرضی شادی، ایک پرکشش اشتہار یا سوشل میڈیا پر کی گئی مصنوعی محبت یہ سب اس جرم کے وہ دروازے ہیں جن سے بے شمار زندگیاں اندھیرے میں داخل ہو جاتی ہیں۔ خصوصاً خواتین، بچے، غریب خاندان، بے روزگار نوجوان اور نقل مکانی کرنے والے افراد اس جرم کا آسان شکار بن جاتے ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ معاشرہ اکثر اسمگلنگ کو صرف سرحد پار لے جانے تک محدود سمجھتا ہے، حالانکہ جنسی استحصال، جبری مشقت، گھریلو غلامی، بھیک منگوانا، بچوں سے مشقت کرانا اور آن لائن استحصال بھی انسانی اسمگلنگ کی مختلف صورتیں ہیں۔ جرم اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے، مگر اس کا مقصد ایک ہی رہتا ہے، انسان کو ایک شے میں تبدیل کر دینا۔
ایک *سماجی جہدکار* اور خاندانی مشیر کی حیثیت سے میں نے ایسے بے شمار چہرے دیکھے ہیں جن کی آنکھوں میں خواب نہیں، خوف بستا ہے۔ ایسے واقعات یہ احساس دلاتے ہیں کہ انسانی اسمگلنگ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اگر گھر، اسکول، کالج، مذہبی و سماجی ادارے اور میڈیا مل کر آگاہی پیدا کریں تو بہت سے جرائم وقوع پذیر ہونے سے پہلے ہی روکے جا سکتے ہیں۔

اسی سوچ کے ساتھ مائی چوائسز فاؤنڈیشن اپنے آپریشن ریڈ الرٹ پروگرام کے ذریعے خواتین، بچوں، خاندانوں اور کمیونٹی کو بااختیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ روک تھام ہی سب سے مؤثر حکمتِ عملی ہے۔ جب لوگ یہ جان لیں کہ دھوکے کو کیسے پہچاننا ہے، مشکوک پیشکشوں پر کیسے سوال اٹھانے ہیں اور مدد کہاں سے حاصل کرنی ہے، تو اسمگلروں کے لیے اپنے جال بچھانا آسان نہیں رہتا۔

آج میں نے نیلا لباس پہنا ہے۔ شاید کسی کے لیے یہ صرف ایک رنگ ہو، لیکن میرے لیے یہ ایک عہد ہے۔ "*بلیو ہارٹ*" دنیا بھر میں انسانی اسمگلنگ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کی علامت ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی دل محبت، رحم اور آزادی کے لیے دھڑکتا ہے، تجارت کے لیے نہیں۔ یہ ان سنگ دل ہاتھوں کے خلاف خاموش احتجاج بھی ہے جو انسانوں کو منافع کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔

لیکن صرف نیلا لباس پہن لینا کافی نہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنی آنکھیں، اپنے دل اور اپنی سوچ کو بھی بیدار کریں۔ اپنے بچوں کو سکھائیں کہ ہر چمکتی ہوئی پیشکش حقیقت نہیں ہوتی۔ نوجوانوں کو آگاہ کریں کہ ہر آن لائن تعلق اعتماد کے قابل نہیں ہوتا۔ خواتین کو قانونی حقوق اور حفاظتی ذرائع سے روشناس کرائیں۔ اور اگر کہیں کسی انسان کے استحصال کی آہٹ سنائی دے تو خاموش رہنے کے بجائے آواز بلند کریں۔
انسانی اسمگلنگ کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار نہ صرف قانون ہے اور نہ صرف پولیس؛ بلکہ ایک باشعور معاشرہ ہے۔ جب شعور بیدار ہو جاتا ہے تو دھوکا اپنی طاقت کھو دیتا ہے، اور جب خوف کی جگہ آگاہی لے لیتی ہے تو استحصال کے راستے خود بخود تنگ ہونے لگتے ہیں۔

آئیے، اس عالمی دن پر صرف ہمدردی کا اظہار نہ کریں بلکہ عہد کریں کہ اپنے حصے کا چراغ ضرور جلائیں گے۔ ایک پیغام شیئر کریں، ایک فرد کو آگاہ کریں، ایک بچے کو محفوظ رہنے کی تعلیم دیں، ایک خاندان کو خبردار کریں۔ شاید ہماری یہ چھوٹی سی کوشش کسی انسان کی آزادی، عزت اور زندگی بچانے کا سبب بن جائے۔

کیونکہ ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف عمارتیں بلند ہوں، بلکہ وہ ہے جہاں انسان کی حرمت سب سے بلند ہو۔

----------

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔