شہید مظلوم مدینہ پیکرِ صبر و رضا۔حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ ( قسط اول)۔ ازقلم : افضال احمد ملّی، ( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
شہید مظلوم مدینہ پیکرِ صبر و رضا۔
حضرت عثمان ابن عفان رضی اللہ عنہ
( قسط اول)
ازقلم : افضال احمد ملّی،
( پوار واڑی مالیگاؤں ضلع ناسک)
اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے امت مسلمہ کو ایسی عظیم ہستیاں عطا فرمائیں جنہیں تاریخ میں بلند مقام حاصل ہے۔ جن کی زندگیاں ہمارے لئے روشن مثال ہیں۔
انہی عظیم ہستیوں میں سے منفرد خصوصیات کی حامل ایک شخصیت، جامع القرآن، تصویرِ حیا و پیکرِ ایمان، مجمعِ صبر و رضا، ذوالنورین نیر تاباں حضرت سیدنا عثمان بن عفان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ہیں۔
*نام و نسب*
آپؓ کا نام عثمان، کنیت ابو عبد اللہ و ابو عمر اور لقب ذوالنورین تھا۔
سلسلہ نسب عثمان بن عفان بن ابوالعاص بن امیہ بن عبد شمس بن عبد مناف پانچویں پشت میں نبی کریم ﷺ سے جا کر ملتا ہے۔
*ولادت و قبول اسلام*
آپ کی پیدائش عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔آپؓ ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے ابتداء میں اسلام قبول کیا۔
ابن اسحاق کے قول کے مطابق آپ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی دعوت پر اسلام قبول کیا۔
قبول اسلام کی بنیاد پر حضرت سیدنا عثمان غنی کو بھی حضور نبی کریم ﷺ اور حضرت سیدنا ابوبکر صدیق کی طرح اپنے خاندان کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور آپ کے خاندان والوں بالخصوص آپ کے چچا حکم بن العاص نے آپ کو تشدد کانشانہ بنایا اور ایک کمرے میں بند کر دیا اور کہا کہ میں تمہیں اس وقت تک آزاد نہ کروں گا جب تک تم دین اسلام کونہیں چھوڑ دیتے ۔
اس دوران آپ کو رسیوں میں جکڑ کر مارا جا تا ۔ آگ جلا کر دھواں دیا جا تا مگر آپ دین اسلام پر قائم رہے ۔ جب حکم بن العاص نے دیکھا کہ ان کا بھتیجا کسی بھی طرح دین اسلام چھوڑ نے پر راضی نہیں تو اس نے آپ کو آزاد کر دیا ۔
*حلیہ مبارک*
آپ کا قد درمیانہ تھا۔ رنگ گندمی ہونے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ حسن و جمال کا پیکر تھے۔ داڑھی گھنی اور لمبی تھی۔ اس کو زرد خضاب سے رنگین رکھتے تھے، جوڑ بڑے بڑے اور مضبوط تھے، ہڈی چوڑی تھی۔ سر پر بال گھنے اور گھنگریالے تھے۔ دونوں شانوں میں زیادہ فاصلہ تھا۔ جلد مبارک نرم تھی، دانت بہت خوبصورت تھے۔ (ابن عساکر)
*اخلاق و عادات*
آپ فطرتاً عفیف تھے، شرم و حیاء آپ کا امتیازی وصف تھا.
اسلئے مؤرخین و سیرت نگاروں نے ان کے اخلاق و عادات کے بیان میں حیاء کا مستقل عنوان قائم کیا -
ان کی شرم و حیا کا مقام اتنا بلند تھا کہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی حیا کا خاص پاس اور لحاظ فرماتے تھے۔ اس کا سب سے واضح ثبوت صحیح مسلم کی وہ مشہور حدیث ہے جو آپ کو سیرت کی مستند کتب جیسے صحیح مسلم پر مل سکتی ہے:
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنے گھر میں آرام فرما تھے اور آپ کی مبارک پنڈلیاں یا رانیں کھلی ہوئی تھیں۔ اسی حالت میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما نے باری باری اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے انہیں اسی حالت میں آنے کی اجازت دے دی اور وہ اندر آئے۔
لیکن جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، تو نبی کریم ﷺ نے فوراً اٹھ کر اپنے کپڑے درست کر لیے اور بیٹھ گئے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: "عثمان انتہائی حیا دار آدمی ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں انہیں اندر آنے کی اجازت دی، تو وہ شرم و حیا کے باعث اپنی ضرورت کی بات مجھ سے کھل کر بیان نہیں کر سکیں گے۔
ایام جاہلیت میں جبکہ عرب کا ہر بچہ شراب کا عادی تھا، اس وقت بھی آپ کی زبان اس سے محفوظ رہی. اور جب کذب و افتراء، فسق و فجور عام تھا، آپ کا دامن ان دھبوں سے پاک تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نے مزید ان کمالات میں نکھار پیدا کر دیا.
( سیرة خلفائے راشدین 201)
*رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ رشتہ داریاں*
پہلا رشتہ:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور عثمان رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں عبدمناف بن قصی پر ایک ہو جاتا ہے.
دوسرا رشتہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ام الحکیم بیضاء حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نانی صاحبہ ہیں.
(ام الحکیم البیضاء اور حضرت عبداللہ جڑواں پیدا ہوئے تھے)
تیسرا رشتہ
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد ہیں.
اور یہ وہ شرف ہے ۔ جو پوری انسانی تاریخ میں کسی شخص کو حاصل نہیں ہوا ۔ گویا یہ آپ کی ایک خاص خصوصیت ہے ۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
” علمائے اسلام کا قول ہے کہ سیدناعثمان رضی اللہ عنہ کے علاوہ پوری تاریخ انسانیت میں کوئی شخص ایسا نہیں گزرا ۔ جس نے کسی نبی کی دو صاجزادیوں سے نکاح کیا پھر اس وجہ سے آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے ۔ “
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا پہلا نکاح بنت رسول سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہجرت سے ایک سال پہلے ہوا۔
جنگ بدر کے موقع پر سیدہ رقیہ رضی اللّٰہ عنہا کا انتقال ہو گیا.
پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری بیٹی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا کا نکاح ربیع الاول سنہ 3 ھ کو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے کرا دیا اور رخصتی جمادی الثانی میں ہوئی. سنہ 9ھ میں سیدہ ام کلثوم بھی وفات پا گئیں تو رسول اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” کہ اگر میری تیسری لڑکی بھی ہوتی تو اس کا نکاح بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کر دیتا”۔ بلکہ ایک روایت میں ہے کہ اگر میری دس بیٹیاں بھی ہوتیں تو میں (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) یکے بعد دیگرے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عقد میں دے دیتا”
(البدایہ والنہایہ) 5 ص309
Comments
Post a Comment