آزادی کی اصل خوشی - اصلاحی کہانی - از قلم : رہبر تماپوری۔
آزادی کی اصل خوشی -
اصلاحی کہانی -
از قلم : رہبر تماپوری۔
رابطہ : 8431012141
قدیم زمانے کی بات ہے۔ ایک عادل، دانا اور رحم دل بادشاہ اپنی وسیع سلطنت پر حکومت کرتا تھا۔ اس کی رعایا امن و سکون سے زندگی گزارتی تھی، کیونکہ بادشاہ ہر فیصلے میں انصاف کو مقدم رکھتا تھا۔
وقت گزرتا گیا اور بادشاہ عمر رسیدہ ہو گیا۔ اسے اپنی جانشینی کی فکر ہوئی۔ وہ چاہتا تھا کہ تخت و تاج ایسے شہزادے کو ملے جو صرف حکومت کرنا ہی نہ جانتا ہو بلکہ انسانوں کی عزت، ان کے حقوق اور ان کے جائز اختیار کی بھی حفاظت کر سکے۔
بادشاہ کے چار بیٹے تھے۔ ایک دن اس نے دربارِ عام سجایا اور سب کو اپنے سامنے بلا کر فرمایا:
"میرے بیٹو! اگر آج سلطنت تمہارے سپرد کر دی جائے تو تم سب سے پہلے کیا کرو گے؟"
سب سے بڑا شہزادہ آگے بڑھا اور بولا:
"جہاں پناہ! میں ایک طاقت ور فوج تیار کروں گا، نئی نئی فتوحات حاصل کروں گا اور ہماری سلطنت کو مزید وسیع بنا دوں گا۔"
بادشاہ خاموش رہا۔
دوسرا شہزادہ بولا:
"میں تجارت کو فروغ دوں گا، بازار آباد کروں گا اور سلطنت کو خوش حال بنا دوں گا۔"
بادشاہ نے اثبات میں سر ہلایا۔
تیسرے شہزادے نے عرض کیا:
"میں مدرسے، کتب خانے، باغات اور خوب صورت عمارتیں تعمیر کراؤں گا تاکہ ہماری سلطنت علم، فن اور ترقی کی مثال بن جائے۔"
بادشاہ نے تینوں کی باتیں غور سے سنیں، پھر اس کی نگاہ سب سے چھوٹے شہزادے پر ٹھہر گئی۔
"اور تم، بیٹے؟"
چھوٹے شہزادے نے ادب سے سر جھکا کر عرض کیا:
"جہاں پناہ! مجھے چند دن کی مہلت عطا فرمائیے۔ میں سوچ سمجھ کر جواب دینا چاہتا ہوں۔"
بادشاہ نے مسکرا کر اجازت دے دی۔
چند روز بعد شہزادہ شکار کے لیے جنگل کی طرف روانہ ہوا۔ گھنے درختوں، بہتے چشموں اور پرندوں کی چہچہاہٹ کے درمیان اس کی ملاقات ایک حسین پری زاد سے ہوئی۔ وہ نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج اور دانا تھی۔
گفتگو کے دوران اس نے بتایا کہ ایک پراسرار جادو کی وجہ سے وہ کچھ وقت انسان اور کچھ وقت پری کی صورت میں رہتی ہے۔
کچھ دیر بعد شہزادے نے کہا:
"اگر تم راضی ہو تو میں تمہیں اپنی زندگی کا ساتھی بنانا چاہتا ہوں۔"
پری زاد نے مسکرا کر پوچھا:
"اگر میں تمہارے ساتھ چلوں تو کیا میری زندگی کے فیصلے بھی تم کرو گے؟"
شہزادہ چند لمحے خاموش رہا، پھر مسکرا کر بولا:
"نہیں، یہ فیصلہ تم خود کرو۔"
پری زاد کے چہرے پر اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی۔ اس نے کچھ نہ کہا، مگر اس خاموش مسکراہٹ نے شہزادے کے دل میں ایک نئی سوچ جگا دی۔ واپسی کے پورے سفر میں وہ اسی ایک بات پر غور کرتا رہا۔
چند دن بعد دربار دوبارہ سجا۔
بادشاہ نے پوچھا:
"بیٹے! کیا اب تم نے اپنا جواب تلاش کر لیا؟"
چھوٹے شہزادے نے ادب سے عرض کیا:
"جہاں پناہ! میرے بھائیوں کی باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ طاقت، تجارت اور ترقی ہر سلطنت کے لیے ضروری ہیں، لیکن میں نے جانا ہے کہ آزادی کی اصل خوشی تب جنم لیتی ہے جب لوگ عزت کے ساتھ، انصاف کے سائے میں اور اپنے جائز فیصلے خود کرنے کا اعتماد رکھتے ہوں۔ ایسی رعایا اپنے بادشاہ سے محبت بھی کرتی ہے اور اپنی سلطنت کی ترقی میں دل و جان سے حصہ بھی لیتی ہے۔"
دربار میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ بادشاہ نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں اطمینان اور خوشی جھلک رہی تھی۔ اس نے آہستہ سے اپنا تاج اتارا اور سب سے چھوٹے شہزادے کے سر پر رکھ دیا۔
وقت گزرتا گیا۔
نئے بادشاہ کے دور میں دربار کے دروازے ہر شخص کے لیے کھلے رہتے۔ بچوں کے لیے نئے مدرسے قائم ہوئے۔ کسان دل لگا کر کھیتی کرتے، تاجر اطمینان سے کاروبار کرتے، مسافر بے خوف سفر کرتے اور ضرورت مند کبھی خالی ہاتھ واپس نہ لوٹتے۔
آہستہ آہستہ پوری سلطنت میں ایسا ماحول قائم ہو گیا کہ ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ، باعزت اور بااختیار محسوس کرنے لگا۔ ہر گھر میں امید تھی، ہر چہرے پر اطمینان تھا اور ہر دل میں اپنے بادشاہ کے لیے محبت تھی۔
دور دراز علاقوں سے آنے والے مسافر جب اس سلطنت سے واپس لوٹتے تو اپنے شہروں میں اس کے انصاف، امن اور خوش حالی کے قصے سناتے۔ وہ کہتے تھے کہ اس سلطنت کی سب سے بڑی دولت نہ اس کی فوج تھی، نہ خزانے اور نہ ہی عالی شان عمارتیں، بلکہ وہ مطمئن لوگ تھے جو عزت، انصاف اور اپنے جائز اختیار کے ساتھ زندگی گزار رہے تھے۔
Comments
Post a Comment