اقلیتی تعلیم پر منڈلاتے سائے یا آئینی حقوق کا امتحان؟"مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی معاملے پر جلگاؤں سے اٹھی بلند آواز" - عقیل خان بیاولی، (موظف صدر مدرس جلگاؤں۔)


اقلیتی تعلیم پر منڈلاتے سائے یا آئینی حقوق کا امتحان؟
"مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی معاملے پر جلگاؤں سے اٹھی بلند آواز"  -  
عقیل خان بیاولی، (موظف صدر مدرس جلگاؤں۔)

تعلیم کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد، قوم کی ترقی کا زینہ اور آئین ہند کی روح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی تعلیمی ادارے سے متعلق ایسا تنازع پیدا ہو جس کے اثرات ہزاروں طلبہ و طالبات کے مستقبل پر مرتب ہونے لگیں، تو وہ محض ایک ادارے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی اہمیت کا معاملہ بن جاتا ہے۔ رام پور (اتر پردیش) کی مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی سے متعلق جاری تنازع نے بھی ایسے ہی کئی آئینی، تعلیمی اور انسانی سوالات کو جنم دیا ہے۔
اسی پس منظر میں جلگاؤں کے سماجی ادارے "ایکتا سنگٹھن" نے ایک قابلِ توجہ اور ذمہ دارانہ قدم اٹھاتے ہوئے صدرِ جمہوریہ ہند، چیف جسٹس آف انڈیا، وزیر اعلیٰ اتر پردیش، قومی اقلیتی کمیشن اور قومی انسانی حقوق کمیشن کو تفصیلی عرضداشت روانہ کی ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ اس حساس معاملے میں فوری مداخلت کی جائے تاکہ ہزاروں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تنظیم کے کنوینر فاروق شیخ نے اپنے مکتوب میں ایک نہایت متوازن مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی فرد یا ادارے کے خلاف قانونی یا انتظامی نوعیت کے الزامات ہیں تو ان کی مکمل اور غیر جانبدارانہ جانچ قانون اور عدالت کے دائرے میں ہونی چاہیے، لیکن اس عمل کی سزا ایسے بے گناہ طلبہ کو نہیں ملنی چاہیے جن کا واحد مقصد تعلیم حاصل کرکے اپنے مستقبل کو سنوارنا ہے۔ یہ مؤقف دراصل آئین ہند کی ان بنیادی دفعات کی یاد دہانی بھی کراتا ہے جن کے تحت آرٹیکل 21-A ہر شہری کو تعلیم کا حق فراہم کرتا ہے، جبکہ آرٹیکل 29 اور 30 اقلیتوں کو اپنی تعلیمی درسگاہیں قائم کرنے اور ان کا انتظام چلانے کا آئینی تحفظ دیتے ہیں۔ ان دفعات کا مقصد یہی ہے کہ ہندوستان کی مذہبی، ثقافتی اور لسانی اقلیتیں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔
یہ حقیقت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ملک بھر میں قائم متعدد اقلیتی تعلیمی ادارے ایسے طبقات کے لیے امید کی کرن ثابت ہوئے ہیں جو معاشی اور سماجی اعتبار سے کمزور ہیں۔مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی میں بھی بڑی تعداد ایسے طلبہ کی ہے جنہوں نے تعلیم کو غربت، محرومی اور پسماندگی سے نکلنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر کسی قانونی تنازع کے سبب ان کی تعلیم متاثر ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف چند طلبہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے سماج کی تعلیمی اور معاشرتی ترقی بھی متاثر ہوگی۔ سنگٹھن نے اپنی عرضداشت میں سات اہم مطالبات پیش کیے ہیں، جن میں پورے معاملے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات، طلبہ کی تعلیم کے تسلسل کو ہر حال میں برقرار رکھنا، تمام کارروائی آئین اور قانون کے مطابق انجام دینا، اقلیتی تعلیمی حقوق کا مکمل تحفظ، قومی انسانی حقوق کمیشن اور قومی اقلیتی کمیشن کی جانب سے از خود نوٹس لے کر تحقیقات کرنا، نیز طلبہ اور سرپرستوں میں پائی جانے والی بے چینی کو دور کرنے کے لیے حکومت کی واضح اور مثبت حکمتِ عملی اختیار کرنا شامل ہے۔
درحقیقت یہ معاملہ صرف ایک یونیورسٹی کا نہیں بلکہ اس بنیادی سوال کا ہے کہ کیا ہندوستان میں تعلیمی اداروں سے متعلق قانونی تنازعات کے دوران طلبہ کے مستقبل کو اولین ترجیح دی جائے گی، یا انتظامی اقدامات کی سب سے پہلی ضرب انہی پر پڑے گی جو کسی تنازع کے فریق ہی نہیں؟ قانون کی بالادستی ہر جمہوری نظام کی اساس ہے اور اگر کسی نے قانون شکنی کی ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، لیکن انصاف کا تقاضا یہ بھی ہے کہ کارروائی کا دائرہ ان بے قصور طلبہ تک نہ پہنچے جو نہ الزام کا حصہ ہیں اور نہ ہی تنازع کے ذمہ دار۔ ایک مضبوط اور ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر صرف مضبوط معیشت یا جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ محفوظ، باوقار اور مساوی تعلیمی نظام سے ممکن ہے۔ اقلیتی تعلیمی ادارے بھی اسی قومی تعلیمی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں، لہٰذا ان سے متعلق ہر فیصلہ آئین، انصاف، انسانی حقوق اور طلبہ کے روشن مستقبل کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔تعلیم محفوظ ہوگی تو اعتماد بڑھے گا، اعتماد بڑھے گا تو سماجی ہم آہنگی مضبوط ہوگی، اور جب سماج مضبوط ہوگا تو ہندوستان مزید مستحکم، ترقی یافتہ اور باوقار قوم کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرے گا۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔