شاہ پور میں عربی مدارس کے معلمین کی تربیتی و جائزہ کارگاہ کامیابی سے منعقد۔ تدریسی معیار، طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں، عملی تدریس اور جدید تعلیمی اسالیب پر ماہرین کی جامع رہنمائی۔
شاہ پور میں عربی مدارس کے معلمین کی تربیتی و جائزہ کارگاہ کامیابی سے منعقد۔
تدریسی معیار، طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں، عملی تدریس اور جدید تعلیمی اسالیب پر ماہرین کی جامع رہنمائی۔
نامہ نگار: رہبر تماپوری
شاہ پور (ضلع یادگیر)، 30 جون: معیاری تعلیم کے فروغ، تدریسی معیار کو مزید مؤثر بنانے اور معلمین کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے مقصد سے عظیم پریم جی فاؤنڈیشن کے زیرِ نگرانی اور محکمۂ اقلیتی بہبود، حکومتِ کرناٹک کے اشتراک سے شاہ پور کے تربیتی مرکز (ٹی ایل سی) میں یادگیر ضلع کے عربی مدارس میں خدمات انجام دینے والے معلمین کی ایک روزہ تربیتی و جائزہ کارگاہ کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ نشست گزشتہ ماہ گلبرگہ میں منعقدہ تربیتی نشست کے تسلسل میں منعقد کی گئی، جس کا بنیادی مقصد گزشتہ ایک ماہ کے دوران مدارس میں انجام دی گئی تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کا جائزہ لینا، معلمین کو درپیش مسائل کا حل تلاش کرنا، جدید تدریسی اسالیب سے روشناس کرانا اور طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کرنا تھا۔
کارگاہ کی علمی و تربیتی رہنمائی جناب الیاس پرویز اور محترمہ عطیہ بیگم نے انجام دی، جبکہ یادگیر ضلع کے مختلف عربی مدارس سے تعلق رکھنے والے گیارہ معلمین نے اس میں بھرپور شرکت کی۔ پروگرام کا آغاز حمدِ باری تعالیٰ اور نعتِ رسولِ مقبول ﷺ سے ہوا، جس کے بعد اجلاس کی باقاعدہ کارروائی شروع ہوئی۔
ابتدائی نشست میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران مختلف مدارس میں انجام دی گئی تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کی حاضری، اوقاتِ تدریس، نصابی پیش رفت، جماعتی نظم و ضبط اور معلمین کو درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام گیارہ معلمین نے اپنے اپنے مدارس کی کارکردگی پیش کی، جس پر ماہرین نے باریک بینی سے غور کرتے ہوئے ضروری رہنمائی اور اصلاحی تجاویز پیش کیں۔
کارگاہ کے دوران زبان، ریاضی، سائنسی علوم، کنڑ اور انگریزی مضامین میں طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں کے فروغ، ابتدائی تعلیمی جائزے، تدریسی منصوبہ بندی اور مؤثر تدریسی طریقوں پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی گئی۔ ماہرین نے واضح کیا کہ طلبہ کی بنیادی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے بغیر معیاری تعلیم کا ہدف حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
اس موقع پر معلمین کو طلبہ کی تعلیمی معلومات اور بنیادی صلاحیتوں کے برقی اندراج کا عملی طریقۂ کار بھی سکھایا گیا۔ موبائل فون کے ذریعے اندراج کا مرحلہ وار مظاہرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کس طرح طلبہ کی تعلیمی پیش رفت کو منظم انداز میں محفوظ کیا جائے تاکہ آئندہ تدریسی منصوبہ بندی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔
دوپہر کے اجلاس میں عملی تدریسی کارگاہ منعقد ہوئی، جس میں تمام گیارہ معلمین نے ریاضی، سائنسی علوم، کنڑ اور انگریزی مضامین کی تدریس کے عملی مظاہرے پیش کیے۔ ماہرین نے تدریسی وسائل، تعلیمی معاون مواد، چارٹس، زبان دانی، الفاظ کی درست ادائیگی، آوازوں کی شناخت، الفاظ کو توڑنے اور جوڑنے کے مؤثر طریقوں اور سرگرمی پر مبنی تدریس کی اہمیت کو عملی انداز میں واضح کیا، جس سے شرکاء نے بھرپور استفادہ کیا۔
کارگاہ کے دوران نئی تعلیمی تبدیلیوں، معیاری تدریس، طلبہ کی تعلیمی استعداد میں اضافے اور آئندہ کی منصوبہ بندی پر بھی سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے تدریسی مسائل کے مؤثر حل پر تبادلۂ خیال کیا۔
اختتامی اجلاس میں تمام معلمین نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے اس تربیتی و جائزہ کارگاہ کو نہایت مفید، معلومات افزا اور عملی قرار دیا۔ انہوں نے ماہرین جناب الیاس پرویز اور محترمہ عطیہ بیگم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل شدہ رہنمائی کو اپنے اپنے مدارس میں عملی جامہ پہنائیں گے۔
اس موقع پر جناب الیاس پرویز نے ریاستِ کرناٹک میں جاری خصوصی نظرِ ثانی (SIR) مہم کے حوالے سے بھی معلمین کو مفصل رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے عوام میں پائی جانے والی غلط فہمیوں کے ازالے، درست معلومات کی فراہمی، متعلقہ سرکاری عملے سے تعاون اور ضرورت مند افراد کی رہنمائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معلم معاشرے کا باشعور اور ذمہ دار فرد ہوتا ہے، اس لیے سماجی خدمت میں بھی اس کا کردار نہایت اہم ہے۔
آخر میں اعلان کیا گیا کہ آئندہ ماہ کے اختتام پر اسی نوعیت کی ایک اور تربیتی و جائزہ کارگاہ منعقد کی جائے گی، جس میں ایک ماہ کے دوران انجام دی گئی تعلیمی سرگرمیوں، طلبہ کی پیش رفت اور معلمین کی کارکردگی کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا، تاکہ مدارس میں معیاری تعلیم کے فروغ کا یہ سلسلہ مزید مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے۔
Comments
Post a Comment