بشیر بدر کا ہر شعر رائج الوقت ہے" — ڈاکٹر تقی عابدی۔"بشیر بدر اردو غزل کی توانا آواز تھے" — ڈاکٹر مسرت فردوس۔
اپنے جامع اور فکرانگیز کلیدی خطبے میں ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ "بشیر بدر کا ہر شعر رائج الوقت ہے۔" انہوں نے کہا کہ بشیر بدر کی شاعری کا امتیاز یہ ہے کہ وہ ایک ہی غزل کے مختلف اشعار میں غزل کے مختلف ادوار کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ ان کے مطابق بشیر بدر کا اسلوب محاوراتی ہے۔ ان کی زبان میں اودھ کی تہذیب، شائستگی اور اردوئے معلیٰ کی شیرینی نمایاں طور پر جھلکتی ہے۔
ڈاکٹر عابدی نے کہا کہ بشیر بدر کی جدید غزل میں عاشق اور معشوق برابری کی سطح پر مکالمہ کرتے ہیں، جہاں روایتی ماورائی قصوں کے بجائے انسانی جذبات، روزمرہ زندگی اور عصرِ حاضر کے مسائل کو نہایت دلکش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ موصوف نے بشیر بدر کی ابتدائی ادبی زندگی سے لے کر ان کے آخری دورِ شاعری تک مختلف اشعار کی روشنی میں ان کے فنی ارتقا کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے بشیر بدر کا معروف نعتیہ شعر بھی پیش کیا:
مجھے ایسی جنت نہیں چاہیے
جہاں سے مدینہ نہ دکھائی دے
ڈاکٹر تقی عابدی نے مزید کہا کہ عشقِ رسول ﷺ کے اظہار کا اس سے زیادہ خوبصورت اور مؤثر انداز شاید ہی ممکن ہو۔ انہوں نے ظلم و جبر کے خلاف بشیر بدر کی آواز کو بھی اجاگر کرتے ہوئے ان کا یہ شعر سنایا:
خدا ہم کو ایسی خدائی نہ دے
کہ اپنے سوا کچھ دکھائی نہ دے
انہوں نے کہا کہ یہ شعر ہر دور کے ظالم اور خود پسند حکمرانوں کے لیے ایک مؤثر پیغام ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اردو کارواں اور سیمینار کے تمام منتظمین کو اتنے اہم ادبی موضوع پر بین الاقوامی سطح کا کامیاب سیمینار منعقد کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی۔
اس موقع پر اعزازی مہمان ڈاکٹر مسرت فردوس نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ "بشیر بدر اردو غزل کی توانا آواز تھے، جنہوں نے اپنی منفرد طرزِ اظہار، سادہ مگر پراثر زبان اور عصری حسیت کے ذریعے اردو شاعری کو نئی جہت عطا کی۔"
پروگرام میں بطور مہمان خصوصی ایم ایل اے رئیس قاسم شیخ نے کہا کہ" بشیر بدر عوامی شاعر تھے اور دور حاضر کی اردو شاعری کا اہم ترین باب تھے،انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی بھیونڈی میں اردو گھر کا قیام عمل میں لایں گے۔تاکہ اردو اور اردو والوں کو ایک آراستہ اور جدید سہولیات سے لیس مرکز مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اردو کارواں کے صدر فرید احمد خان کے توسط سے اردو اکیڈمی کے معاملات پہنچتے رہتے ہیں اور ان مسائل پر میں کام کرنے کی پوری کوشش کرتا ہوں۔ ڈاکٹرشجاعت علی کامل اور قمرالدین شیخ نے بالترتیب ناندیڈ اردو گھراور مالیگاوں اردو گھرکی کارگزار کا گوشوارہ پیش کیا۔
اردو کارواں کےصدر فرید احمد خان نے افتتاحی سیشن کی صدارتی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ"اردو تنظیموں سے وابستہ افراد کو ڈاکٹر بشیر بدر جیسے بڑے ادیبوں کو خراج پیش کرنے کیلئے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک دوسرے سے تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے پروگرام کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شفیع چوبدار اور رابطہ کار ڈاکٹر سمیہ باغبان کو اس کامیاب ترین سیمینار کے انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کی۔ نظامت کے فرائض ڈآکٹرسمیہ باغبان نے انجام دیے اور سولاپور اردو گھر کے رکن محمود نوازنے شکریہ ادا کیا۔
اس سیمینارمیں کشمیر سے شکاگوسے غوثیہ سلطان صاحبہ، کویت سے میمونہ چوگلے، ایران سے سمیرا گیلانی، ڈاکٹرپروشوتم، مہاراشٹرسے ڈاکٹرمقبول احمد، ڈآکٹر محبوب شیخ، ڈاکٹردانش غنی، ڈاکٹرنصرت مینو، ڈآکٹرصبیحہ سید، آندھرپردیش سے ڈاکٹرستار صاحب، ڈاکٹرتمیم وی، کیرالا سے ڈآکٹر عطا اللہ سنجری اور ملک بیرون ملک کے مختلف جامعات اور تعلیمی اداروں سے 150 اسکالراور ماہرین نے شرکت کی۔
Comments
Post a Comment