اردو فکشن کا ایک نیا باب : پروفیسر سلیم عباس دیسائی۔۔ ازقلم : ڈاکٹر جلال اصغر فریدی، مظفر پور ،بہار۔
اردو فکشن کا ایک نیا باب : پروفیسر سلیم عباس دیسائی۔
ازقلم : ڈاکٹر جلال اصغر فریدی، مظفر پور ،بہار۔
7488336042
اردو شعر وادب کی تاریخ میں کچھ ایسے نام ہمارے سامنے ہیں جنکی پوری زندگی اردو کی خدمت، نئی نسل کی ذہنی آبیاری اور اپنی زبان کی ترویج وترقی میں گزرتی ہے ان میں ایک نہایت ہی محبوب ومقبول نام پروفیسر سلیم عباس دیسای کا ہے۔بغیر کسی نام و نمود صلے وستائش اور اعزاز وانعام سے بلندوبالا ہو کر اپنے ادبی سفر میں پوری طرح مصروف ومنہمک دیسای صاحب خاموشی سے سرگرم عمل ہیں۔لکھنا پڑھنا دیسای صاحب کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ پروفیسر سلیم عباس دیسای ایک اعلی تعلیم یافتہ ایک ایسی ادبی وعلمی شخصیت کا نام ہے جنوں نے درس وتدرس کے مقدس پیشے کوایک ایسا وقار ومعیار عطا کیا جو انے والی نسلوں کے لئے ایک مشعل راہ ہے۔
پروفیسر سلیم عباس دیسای بنیادی طور پر ایک افسانہ نگار ہیں، انکا تازہ ترین آفسانوں کا مجموعہ "آصلی مکان "ہمارے پیش نظر ہے اس سے قبل ایک اور آفسانوں کا مجموعہ "ہارکی چوری "شائع ہو چکا ہے، میرے خیال میں ان کے افسانے زندگی اور زمانے کے درد و داغ ،زوال پذیر معاشرہ، دم توڑتی ہوئی انسانی قدریں، اداس نسلیں ہماری ڈوبتی ابھرتی اور کھوکھلا ہوتا ہوا سماج ،انسان دوستی کا فقدان اور سب سے بڑ کر بارود کے ڈھیر پر علمی منظر نامے پر تمام سوالات ان کے افسانوں کو ایک نئی تازگی وتوانائ سے روشناس کراتے ہیں۔"آصلی مکان "کے کل گیارہ افسانے ہماری زندگی کی منہ بولتی تصویریں بیان کرتی ہیں۔ان کے تمام آفسانوں کا ہم گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں تو بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی جاتی ہے کہ افسانہ نگار اپنے اردگرد ہونے والے تمام مسائل و معاملات اور سماج کی ان تمام برائیوں ،ناانصافیوں، حق تلفیوں اور فرقہ وارانہ فسادات اورپھر اس کے بعد ہونے والے اذیت ناک زندگی، ان کے آفسانوں میں ہم آسانی سے تلاش کر سکتے ہیں۔انگریزی اور اردو ادب کے شاہکار آفسانوں سے انہوں نے بھر پور استفادہ کرتے ہوئے اپنے آفسانوں کو اور بھی پڑھنے والوں کو اپنے قریب تر کر دیا ہے۔سلیم عباس دیسای نے اپنے افسانوں کے ذریعے آپ بیتی کو جگ بیتی بنانے میں بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔میرے نزدیک ان کے افسانے نہ صرف آئینہ دکھانے کا کام کرتے ہیں بلکہ پڑھنے والوں کے لئے نئے سرے سے دریافت کرنے اور غور وفکر کرنے کی بھرپور دعوت دیتے ہیں۔ان کے افسانوں میں شائستگی شگفتگی جاذبیت ادبیت اور کردار نگاری میں افسانے کسوٹی پر پوری اب وتاب کے ساتھ رقص کرتے نظر آتے ہیں۔
آخیر میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ سلیم عباس صاحب نے "آصلی مکان "کے تمام آفسانوں کے کردار وں میں حرکت وجرات ،سنجیدگی ومتانت زبان وبیان اور دلکش منظر کشی کا بھرپور خیال رکھا ہے۔اورہمیی ایسا احساس ہوتا ہے کہ انے والے دنوں میں انکے افسانے اپنے منفرد و مخلص شناخت بنانے میں ضرور کامیاب ہو ں گے۔افسانے کے اصول و ضوابط کے ہنر سے افسانہ نگار بخوبی واقف ہے۔اور ان کا مطالعہ فکشن کے حوالے سے عمیق اور وسیع ہے۔مجھے امید ہی نہیں یقین ہے کے انے والے کل میں پروفیسر سلیم عباس دیسای اردو فکشن کا ایک نہایت ہی محبوب ومعتبر نام بن کے اردو افسانے کو ایک نئی دشا وسمت دیں تو کوئی تعجب کی بات ناہوگی۔
Comments
Post a Comment