کمہار برادری کے روایتی پیشے کے تحفظ کے لیے حکومتی اقدامات ناگزیر، شیوشرن کمبھار گنڈیا کی 865 ویں جینتی منائی گئی


بیدر، 21 جولائی (نامہ نگارمحمد عبدالصمد) شیوشرن کمبھار گنڈیا کی 865ویں جینتی کے موقع پر بیدر میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مقررین نے کمبھار (کمہار) برادری کے روایتی پیشے کے تحفظ، ترقی اور معاشی استحکام کے لیے حکومت سے خصوصی اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ تقریب نہرو اسٹیڈیم کے سامنے واقع مٹی کے برتنوں کے تاجر سدھاکر کمبھار گاڈگی کی دکان پر مختلف سماجی تنظیموں کے اشتراک سے منعقد ہوئی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریاستی سینئر شہری اعزاز یافتہ ویربھدرپا اوپی نے کہا کہ کمبھار برادری صدیوں سے مٹی کے برتن سازی کے فن کو زندہ رکھے ہوئے ہے، مگر جدید دور میں یہ پیشہ شدید مشکلات سے دوچار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ماحول دوست مٹی کے برتنوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے خصوصی منصوبے نافذ کیے جائیں تاکہ کمبھار برادری کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔
پراگتی آروگیہ و شکشن سنستھا کے صدر ارویند کلکرنی نے کہا کہ شیوشرن کمبھار گنڈیا نے ’’محنت ہی عبادت ہے‘‘ کا پیغام دیا اور ہر پیشے کے احترام کی تعلیم دی۔ انہوں نے کہا کہ محنت، دیانت داری اور لگن کے ساتھ اپنے پیشے کو انجام دینا ہی حقیقی خدمت ہے۔
مٹی کے برتنوں کے تاجر سدھاکر کمبھار گاڈگی نے کہا کہ مشینی طریقے سے تیار ہونے والے سستے برتنوں کی وجہ سے ہاتھ سے تیار کیے جانے والے روایتی مٹی کے برتنوں کی مانگ مسلسل کم ہو رہی ہے، جس کے باعث کمبھار برادری معاشی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مٹی کے برتنوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال کی حوصلہ افزائی کے لیے مؤثر پالیسیاں نافذ کی جائیں۔
آخر میں شیوشرن کمبھار گنڈیا کی تصویر پر گلپوشی کرتے ہوئے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ تقریب میں معزز شہری، تاجر اور کمبھار برادری کے افراد کی بڑی تعداد شریک تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔