نکاح کا صحیح طریقہ (4)۔ ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


نکاح کا صحیح طریقہ (4)
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی۔
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

آج کے مضمون کے عنوان سے (غلط) کا لفظ نکل گیا ہے- کیونکہ اب صرف نکاح کا صحیح طریقہ سمجھنا اور اس پر عمل کرنا اور کرانا باقی ہے- شاعر نے کہا ہے:
شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات-
کسی بھی مسلمان کی دینداری کے دو حصے ہیں اور دونوں حصے اسقدر ضروری ہیں کہ اس کے بغیر جنت نہیں ملے گی اور دنیا میں بھی برکت نہیں ہوگی اور اللہ کی مدد بھی نہیں آئے گی- ایک حصہ کا نام ہے لا إله إلا اللہ اور دوسرا حصہ ہےمحمد رسول اللہ-
پہلے حصہ پر عمل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کسی طرح کا شرک نہ کرے اور اس کے ہر حکم پر عمل کرے - اور دوسرے حصہ پر عمل کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم جو اللہ کے آخری نبی ہیں ، ان کی ہر سنت پر عمل کرے - قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( ما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا) اے مسلمانوں تمہیں رسول جو بھی دیں ( حکم) تو اسے لے لو یعنی عمل کرو اور جس بات سے بھی منع کریں تو اس بات سے رک جاؤ یعنی وہ کام نہ کرو-
نکاح یا شادی ان تمام باتوں میں سے ایک بات اور ایک حکم ہے-
اور یہ حکم اسقدر اہم ہے کہ ہمارے نبی نے ایک طرف یہ فرمایا کہ النكاح من سنتي فمن رغب عن سنتي فليس مني نكاح كرنا ميري سنتوں میں سے ایک سنت ہے تو جو شخص بھی میری سنت پر عمل سے منھ موڑ لے گا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہ ہوگا- مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حکم دیا کہ بیٹی کی شادی کرنے میں دیندار مسلمان کو ترجیح دو ورنہ بڑا فتنہ ہوگا اور ہر طرف فساد پھیل جائے گا-
اب دیندار مسلمان کسے کہتے ہیں اس کو سمجھنا بے حد ضروری ہے-
ہمارے معاشرہ میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے والا اور چہرہ پر کم یا زیادہ ڈاڑھی رکھنے والا دیندار کہلاتا ہے- مگر اسلام میں دینداری صرف اتنے سے عمل کو نہیں کہتے ہیں-ترمذی شریف کی روایت میں ارشاد نبوی ہے أكمل المؤمنين ايماناً أحسنهم خلقا- و خياركم ، خياركم لنسائهم وفي رواية ا خرى خياركم خياركم لاهله
مسلمانوں میں سب سے مکمل ایمان اس شخص کا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں- اور تم میں سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی عورتوں کے ساتھ سب سے اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسری روایت کے الفاظ ہیں جو اپنے گھر والوں کے ساتھ سب سے اچھا سلوک کرتے ہیں-
یہ حدیث ہمیں بتا رہی ہے کہ نکاح میں دینداری کا مطلب کیا ہے؟ یعنی جس لڑکے کے اخلاق اس کے ماں باپ بھائی بہن ، قریب اور دور کے رشتہ دار پھر پڑوسی محلہ والے اور اس کے سرکل میں سب کے ساتھ اچھے ہوں تو گویا یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ شادی کے بعد بیوی اور اس کے گھر کے تمام افراد کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرے گا- بدقسمتی سے بعض نوجوان نماز کی پابندی اور چہرہ پر سنت ڈاڑھی ( نہ کہ فیشن والی ڈاڑھی) رکھتے ہیں مگر وہ بات بات پر غصہ ہوتے ہیں ، خدا نہ کرے ماں باپ کے نافرمان ہوتے ہیں یا باپ کی کمائی پر مفت کی روٹیاں کھاتے ہیں - پڑھائی لکھائی میں عام معیار سے پیچھے ہوتے ہیں یا وہ اور ان کے ماں باپ لالچی ہوتے ہیں - ایسے لوگوں کے رشتوں کو باقاعدہ بول کر اور ان کے لالچی پن پر تھوک کر انکار کیا جائے اور اپنی بیٹی کے مستقبل کو بچایا جائے-
بد قسمتی سے مسلم معاشرہ صحیح دین سے کوسوں دور ہے- یا تو بعض مسلمان ظاہری طور پر دیندار ہیں لیکن عام اخلاق اور حسن سلوک میں پیچھے ہیں یا بعض نوجوان اخلاق وعادات میں اچھے ہیں مگر نماز کی پابندی مردوں جیسا چہرہ اور خود کی کمائی پر زندہ رہنے میں پیچھے ہیں - صحیح اسلام نہ یہ ہے اور نہ وہ- صحیح اسلام یہ ہے کہ ہر وقت اللہ کا حق ادا کریں اور حسب موقع بندوں کا حق بھی ادا کریں - ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے زندگی کا ہر لمحہ اس مکمل اسلام کا کھلا ہوا ثبوت ہے- 
مسلم شریف کی حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا : ہر روز تمہارے جسم کے تمام جوڑوں کی طرف سے صدقہ کرنا چاہیے پھر فرمایا ہر نئے دن تسبیحات کا پڑھنا، نماز کو جانا ، ہر ایک کے ساتھ اچھی بات کرنا، ہر مسلمان کے ساتھ کھلے چہرہ سے ( یعنی اخلاق سے ملنا) راستہ سے کسی بھی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دینا یہاں تک کہ کبھی اپنے ہاتھ سے بیوی کو کچھ کھلا دینا اور اس کے ساتھ صحبت کرنا بھی صدقہ اور ثواب کا کام ہے - صحابہ نے حیرت سے پوچھا کیا کوئی شخص اپنی شہوت پوری کرے تو اس میں بھی ثواب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ( أ رأیت لو وضعھا فی حرام) یعنی یہ بتاؤ کہ اگر یہی صحبت حرام کاری کے ساتھ کرے یعنی زنا کرے تو؟ یعنی جیسے زناکاری میں گناہ ہے ایسے ہی حلال صحبت میں ثواب ہے-
خلاصہ یہ ہے کہ بیٹی کے نکاح کے لئے ظاہری اور باطنی دونوں دینداری کو دیکھا جائے مگر دینداری کو مال خاندان اور خوبصورتی پر ترجیح دی جائے-
ایک بات پر مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے - وہ یہ کہ اکثر لڑکا تو بدصورت ہوتا ہے مگر لڑکی خوبصورت ڈھونڈتا ہے- میرا مشور یہ ہے کہ ہر لڑکا رشتہ ڈھونڈنے سے پہلے کچھ دیر آئینہ کے سامنے کھڑا ہوکر خود ہی دیکھ لے کہ وہ کتنا خوب صورت ہے پھر اسی معیار سے بیوی بھی تلاش کرے- ایک شاعر نے تمام نوجوانوں کو بڑی اچھی نصیحت کی ہے:
ایے حسن کے مائل یہ نصیحت میری سن لے
سیرت پہ نظر چاہیے صورت سے بھی زیادہ
آخری بات:
ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں
مانو نہ مانو جان جہاں اختیار ہے

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔