نکاح کا غلط طریقہ (3)۔ ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی ، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)


نکاح کا غلط طریقہ (3)
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی ، (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)

اس تیسری قسط میں یہ دیکھنا ہے کہ شادی کرنے کے لئے لڑکی کا خوبصورت ہونا کس حد تک ضروری ہے؟
سب سے پہلے ایک عربی شاعر کا شعر سنیے - وہ کہتا ہے کہ کسی عورت کا زیورات پہنا خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت اپنی ذات میں بد صورت ہے اور اسی بد صورتی کو چھپانے کے لئے وہ سونا چاندی وغیرہ کے زیورات استعمال کرتی ہے تاکہ اس کی بد صورتی چھپ جائے- ایک اردو شاعر نے کہا ہے:
اچھی صورت بھی کیا بری شیء ہے-
جس نے ڈالی نظر ، بری ڈالی
ایک سوال یہ ہے کہ کیا کسی بیٹے یا بیٹی نے کبھی سوچا ہے کہ اس کی ماں کتنی خوبصورت ہے یا بھائی نے بہن کے بارے میں یا باپ نے بیٹی کے بارے  میں؟ یہ مقدس رشتے صرف خونی تعلق کی وجہ سے بجائے خود خوبصورت ہیں چاہے ظاہری اعتبار سے وہ بد صورت ہی کیوں نہ ہوں-  ایک ماں اپنے کالے بیٹے کا لاڑ کرتی ہے تو کہتی ہے میرا بیٹا چاند ہے- یہیں سے معلوم ہوا کہ اچھی فطرت کے مرد صورت نہیں سیرت یعنی کیریکٹر کو دیکھتے ہیں- اور خود غرض مرد چہرہ کی خوبصورتی تلاش کرتے ہیں- اور حسن وہ چیز ہے جو آج ہے تو کل سورج کی طرح ڈھل جاتا ہے - اتنا ہی نہیں ، خوبصورتی کے دیوانے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہتے ہیں - ان کی گندی نظریں ہر نظر آنے والی لڑکی میں خوبصورتی کو تلاش کرتی رہتی ہیں- اور جیسے ہی کوئی قسمت کی ماری نظر آ جاتی ہے تو یہ حسن کے پجاری پوری بد اخلاقی کے ساتھ اپنی وفادار بیوی کے ساتھ غداری پر اتر آتے ہیں- کیا اسی کا نام انسانیت ہے کیا شرافت اسی کو کہتے ہیں؟موجودہ زمانے کا یہ سب سے بڑا فتنہ ہے- یہ حسن پرست معاشرہ کے سب سے بد ترین قاتل ہیں کیونکہ یہ خود اپنے بیٹے یا بیٹی کے قاتل ہوتے ہیں - باپ کی آوارہ گردی سے بچے برباد ہو رہے ہیں - آپ نے دیکھا ( خوبصورتی) خود کتنی خوبصورت ہے؟
اسی خوبصورتی کو شادی کے اصل مقصد کی حیثیت سے دیکھیے- کیا محض خوبصورتی گھر کے سارے کام کرنے کے لئے کافی ہے- اگر شوہر پر کمانا فرض ہے تو بیوی پر گھر کے سارے گھریلو کام کرنا فرض ہے- اسلام میں کوئی بیوی show case ( خوبصورتی کی نمائش ) کے لئے نہیں ہے بلکہ بطور عورت معاشرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ہے- جیسے کھانا پکانا گھر کی صاف صفائی وغیرہ - شوہر کی جنسیاتی ضرورت کی تکمیل جو اللہ کے فضل یعنی اولاد کی شکل میں بدل جاتی ہے- اس کے مقابلہ میں شوہر پر کمانا اور اپنی بیوی بچوں کی ہر دنیوی ضرورت پوری کرنا فرض ہے-
مشرقی ممالک کے لوگ مغربی ممالک کے لوگوں کی نقل کرنے میں پوری دنیا میں مشہور ہیں - اس کی ایک انتہائی گندی مثال پھٹے ہوے کپڑوں کا بطور فیشن پہنا اور عورتوں کی طرح چوٹیاں باندھنا ہے- یہی مغربی لوگ کبھی خوبصورتی کو دیکھ کر شادی نہیں کرتے- میں نے دبی کورٹ کی پچیس سالہ سروس میں بے شمار گورے شوھر ایسے دیکھے کہ شوہر دن تھا اور بیوی اندھیری رات اور ان کے بچے ایسے ویسے- طلاق کی وجہ خوبصورتی اور بدصورتی نہیں تھی بلکہ بے وفائی یا دونوں میں سے کسی ایک کا دوسری عورت یا دوسرے مرد سے جنسی تعلقات تھے- اگر خوبصورتی بجائے خود شادی کا صحیح معیار ہوتی تو اوپر ذکر کردہ شادیاں کبھی نہ ہو پاتیں -
ماضی میں بھی دنیا کی ہر قوم میں بے شمار خوبصورت  یا بدصورت مرد و عورت کی شادیاں ہوئی ہیں- عربی زبان کے مشہور عالم امام جاحظ بے حد بد صورت تھے اور بیوی اتنی ہی خوبصورت- ایک دفعہ میاں بیوی ساتھ میں بیٹھے ہوئے تھے تو بیوی نے کہا مجھے یقین ہے ہم دونوں جنت میں ضرور جائیں گے- سبب پوچھنے پر کہنے لگی آپ جب جب مجھے دیکھتے ہوں گے تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہوں گے کہ اللہ نے آپ کو خوبصورت بیوی عطا کی اور میں جب جب آپ کو دیکھتی ہوں تو صبر کرتی ہوں کہ مجھے بدصورت شوہر ملا- اور اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ صابر اور شاکر جنت میں جائیں گے-
سوچنے کا ایک مثبت انداز یہ بھی ہے-
ان تمام دنیوی معیاروں کی اسلام میں کوئی حیثیت نہیں ہے- زندگی کی ہر ضرورت اسلامی نقطہء نظر سے پوری کرنا ہے - نکاح کی ضرورت بھی اسلامی نقطہء نظر سے پوری کرنا ہے - اسلامی نقطہء نظر یہ ہے کہ مرد عورت کو جنت میں لے جانے کا سبب بنے اور عورت مرد کو- دونوں کی یہ ضرورت صرف دینداری سے پوری ہوگی - نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد ہے( اذا أتاكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه. إلا تفعلوه تكن فتنۃ في الارض و فساد عريض، ترمذي اور ابن ماجه: اگر تمہاری بیٹی کے لئے کسی دیندار اور با اخلاق کا رشتہ آئے تو اس سے نکاح کرا دو- اگر ایسا نہیں کروگے تو زمیں پر بڑا ہی فتنہ اور بہت لمبا فساد پھیل جائے گا-
ہاں اگر دینداری کے ساتھ کوئی اور اچھی بات بھی مل جائے تو بھی ٹھیک ہے اور بغیر دینداری کے دنیا کا ہر معیار صرف گمراہی اور فساد کا ذریعہ ہوگا- ان شاء الله اگلی قسط میں دینداری پر بحث ہوگی-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔