نکاح کرنے کا غلط طریقہ(2) - ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی - (سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
نکاح کرنے کا غلط طریقہ(2) -
ازقلم : ظفر ھاشمی ندوی -
(سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ)
حدیث شریف سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ مال ودولت حاصل کرنے کے لئے نکاح کرنا غلط ہے - دوسری بات فرمائی کہ خاندان اور حسب نسب کو بنیاد بنا کر نکاح کرنا بھی غلط ہے - وہ کیوں ؟ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
انسانوں کی چند بھیانک غلطیوں میں سے ایک غلطی ہے اپنے حسب نسب اور خاندان پر فخر کرنا اور اس وجہ سے دوسروں کو اپنے سے کم تر سمجھنا- اس بات کا اندازہ مسلم شریف کی اس روایت سے بخوبی ہوتا ہے- نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ( من بطأ به عمله لم يسرع به نسبه- جس کا عمل اسے سست کردے ( یعنی آخرت میں) اس کا نسب اسے تیز نہیں بنائے گا- یعنی جس کے اعمال آخرت میں اس کا ساتھ نہ دے سکیں اس کا نسب اسے جنت کے لائق نہیں بنائے گا- اس لئے اسلام میں اہم یہ نہیں ہے کہ تمہارا حسب نسب کیا ہے ؟ اہم یہ ہے کہ تمہارے نیک اعمال کتنے ہیں اور کیسے ہیں- اس لحاظ سے کسی شوہر کو بیوی کے ذاتی حسب نسب سے کوئی ذاتی فائدہ زندگی میں نہیں ہوگا بلکہ ممکن ہے کہ وہ اس بنیاد پر نقصان اٹھائے گا- اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( ان أكرمكم عند الله اتقاكم) تم میں سے جو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا لحاظ کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ عزت والا ہے - نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:(لا فضل لعربی علی عجمی ولا لعجمي على عربي ولا لأبيض على اسود ولا لأسود على ابيض الا بالتقوى . الناس من آدم وآدم من تراب کسی عربی کو کسی غیر عربی پر اور کسی غیر عربی کو کسی عربی پر، اور کسی گورے کو کسی کالے پر اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی بڑائی اور فضیلت نہیں ہے سوائے تقویٰ کے ۔ تمام لوگ آدم سے آئے ہیں اور آدم مٹی سے-
اب بتائیے کہ کسی لڑکی سے شادی کرنے کے لئے خاندان یا حسب نسب کو معیار بنانا شریعت کے مطابق ہے یا اس کے خلاف-
اور سنیے حدیث شریف میں یہ بھی آیا ہے ( الناس سواسية كاسنان المشط) سب لوگ آپس میں ایسے برابر ہیں جیسے کنگھے کے دندانے ) - اگرچہ یہ الفاظ بطور حدیث مختلف محدثین کے نزدیک انتہائی ضعیف ہیں مگر ان سب باتوں کے علاوہ شریعت میں نکاح کے لئے کفو کی بھی شرط ہے یعنی لڑکے اور لڑکی کے خاندانوں میں ہم آہنگی ہو - مثال کے طور پر کسی مرد ڈاکٹر کی شادی کسی قصاب کی بیٹی سے کی جائے یا اس طرح کا کوئی اور فرق- لیکن کفو میں سب سے بڑا درجہ دینداری کو دیا جائے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا حکم یہ ہے-
اس زمانہ میں خاندانی لڑکیوں میں گھریلو زندگی نبھانے کی خوبی کم سے کم ہو گئی ہے - وجہ وہی خاندانی اکڑ ہے جس کی وجہ سے جلد ہی رشتے ٹوٹ رہے ہیں - یہ بھی یاد رہے کہ اچھے برے ہر خاندان میں ہوتے ہیں اس لئے کسی بھی تنقید کو صحیح معنی میں لیا جائے-
میرا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ حسب نسب کو بالکل نظر انداز کیا جائے - حدیث کی رہنمائی یہ ہے کہ اگر کسی رشتہ میں سب کچھ موجود ہو مگر دینداری نہ ہو یا کم ہو تو ایسے رشتہ کو چھوڑ دیا جائے اور اگر دینداری زیادہ ہو مگر دوسرے اعتبارات کم ہوں تو ایسے رشتہ کو ضرور قبول کیا جائے- ان شاء اللہ اگلی قسط میں ہم خوبصورتی کا جائزہ لیں گے -
Comments
Post a Comment