سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم - قسط نمبر 2: آپﷺ کی ولادت مبارکہ اور بچپن کے واقعات - از قلم: شعیب احمد محمدی۔


سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم - 
قسط نمبر 2: آپﷺ کی ولادت مبارکہ اور بچپن کے واقعات  
از قلم: شعیب احمد محمدی۔

1. ولادت مبارکہ اور خوشی کا پہلو  
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول پیر کے دن طلوع فجر کے وقت مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ سن 570 عیسوی تھا اور اسی سال کو عام الفیل کہا جاتا ہے۔

ولادت کی خبر سب سے پہلے آپ کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا نے دی۔ آپ فرماتی ہیں کہ جب بچہ پیدا ہوا تو وہ سجدے کی حالت میں تھا اور اس کی انگلیاں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھیں۔ 

خوشی کا پہلا اظہار حضرت عبدالمطلب نے کیا۔ انہوں نے پوتے کو دیکھتے ہی بیت اللہ لے جا کر اللہ کا شکر ادا کیا اور نام محمد رکھا۔ عرب میں یہ نام بالکل نیا تھا۔ قریش نے پوچھا محمد کیوں رکھا تو فرمایا میں چاہتا ہوں کہ آسمان والا اور زمین والا اس کی تعریف کرے۔

خوشی کی ایک اور بات یہ ہوئی کہ آپ کے چچا ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے خوشخبری سنائی۔ ابو لہب نے خوشی سے ثویبہ کو آزاد کر دیا۔ ثویبہ کو کچھ دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دودھ پلانے کا شرف بھی حاصل ہوا۔

ولادت کے وقت دنیا میں بڑی تبدیلیاں ہوئیں۔ فارس کا آتش کدہ بجھ گیا۔ کسری کے محل کے 14 کنگرے گر گئے۔ بحیرہ ساوہ خشک ہو گیا۔ یہ سب اس بات کی علامت تھے کہ ظلمت کا دور ختم ہو کر نور کا دور شروع ہو رہا ہے۔

2. رضاعت کا دلچسپ واقعہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ  
عرب کا دستور تھا کہ بچوں کو تندرستی اور فصیح عربی کے لیے دیہات بھیج دیا جاتا تھا۔ اس سال مکہ میں قحط تھا۔

بنی سعد کی دایہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر حارث اور بیٹے عبداللہ کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہو کر مکہ آئیں۔ راستے میں انکی اونٹنی اتنی کمزور تھی کہ قافلے سے پیچھے رہ جاتی ۔

مکہ پہنچ کر ہر دایہ نے امیر گھروں کے بچے لے لیے۔ جب حضرت حلیمہ مکہ پہنچی تو صرف ایک یتیم بچہ بچا تھا جس کا نام محمدﷺ تھا۔ میں نےسوچا کہ یتیم بچہ ہے ماں باپ سے کیا ملے گا لیکن خالی ہاتھ جانا اچھا نہیں لگا تو میں نے اس یتیم کو ہی لے لیا۔

جیسے ہی انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گود میں لیا برکت شروع ہو گئی۔

حضرت حلیمہ خود فرماتی ہیں:  
میں نے بچے کو لیا اور اپنے سینے سے لگایا۔ میرا خشک سینہ فوراً بھر گیا۔ میرے بیٹے نے خوب سیر ہوکر پیا پھر میں نے اپنی اونٹنی کو دیکھا تو اس کے تھن دودھ سے بھرے ہوئے تھے ۔ ہم نے دودھ دوہا اور پیا۔ 

واپسی کا سفر  جس کمزور اونٹنی پر میں آئی تھی اب وہ سب سے آگے نکل گئ۔ قافلے کی عورتیں حیران ہو کر پوچھتیں اۓ حلیمہ یہ اونٹنی وہی ہے نا جو ہم سے پیچھے رہ جاتی تھی ۔

بنی سعد پہنچ کر : جس وقت ہم مکہ آئے تھے زمین خشک تھی ۔ لیکن جس بکریوں کے ریوڑ کی پاس آپ جاتے وہاں گھانس اگ آتی تھی اور بکریاں دودھ بھی خوب دیتیں تھیں۔

حضرت حلیمہ کا شوہر حارث کہتا اۓ حلیمہ اس مبارک بچے کو اپنے پاس ہی رکھو اللہ کی قسم اس کے آنے سے ہمیں برکت ملی ہے ۔ سبحان اللہ۔ شعر 

کیا کہا حلیمہ نے آپ ﷺ کو سنبھالا ہے  
پوچھ خود حلیمہ سے کس نے کس کو پالا ہے

اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم تقریبا 4 سے 5 سال تک بنی سعد میں رہے۔

3. واقعہ شق صدر  
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے رضاعی بھائی کے ساتھ بکریاں چرا رہے تھے کہ اچانک دو فرشتے سفید کپڑوں میں آئے۔

انہوں نے آپ کا سینہ چیرا۔ دل نکالا۔ اس میں سے کالا لوتھڑا نکال کر پھینک دیا اور کہا یہ شیطان کا حصہ تھا۔ پھر دل کو سونے کے طشت میں زمزم سے دھویا اور پہلے سے بہتر کر کے واپس رکھ دیا۔

4. والدہ کی وفات اور کفالت - تفصیلی واقعہ  
6 سال کی عمر میں والدہ محترمہ حضرت آمنہ بنت وہب رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر مدینہ منورہ تشریف لے گئیں۔ مقصد یہ تھا کہ آپ اپنے والد حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی قبر کی زیارت کریں اور اپنے ننھیال بنی عدی بن نجار سے ملاقات ہو۔

تقریبا ایک ماہ قیام کے بعد جب واپسی ہوئی تو قافلہ مقام ابواء پہنچا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے۔ راستے میں حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا سخت بیمار ہو گئیں۔ 

اسی مقام پر آپ کا وصال ہو گیا اور آپ کو وہیں ابواء میں دفن کر دیا گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی خادمہ ام ایمن رضی اللہ عنہا تھیں۔ 

ام ایمن فرماتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی والدہ کے سرہانے بیٹھ کر روتے ہوئے دیکھا۔

اس حادثے کے بعد آپﷺ مکمل یتیم ہو گئے۔

پھر دادا حضرت عبدالمطلب نے 2 سال تک کفالت کی۔ وہ آپﷺ سے بہت محبت کرتے تھے۔ 8 سال کی عمر میں وہ بھی فوت ہو گئے۔

اس کے بعد چچا ابو طالب نے کفالت کی۔ آپ نے بچپن میں بکریاں چرائیں۔ 

12 سال کی عمر میں شام کا سفر اور راہب بحیرا  
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 12 سال تھی تو چچا ابو طالب کے ساتھ تجارت کے لیے شام گئے۔

قافلہ جب بصرہ کے مقام پر پہنچا تو وہاں ایک عیسائی راہب بحیرا رہتا تھا۔ اس نے قافلے والوں کو کھانے کی دعوت دی۔ 

جب آپ ﷺ آئے تو بحیرا نے آپ کے کندھوں کے درمیان مہر نبوت کو پہچان لیا۔ وہ کبوتر کے انڈے جیسی تھی۔

بحیرا نے کہا: "اسے فوراً واپس لے جاؤ۔ اللہ کی قسم! اگر یہود نے اسے دیکھ لیا تو اسے نقصان پہنچائیں گے۔ یہ بڑا نبی بنے گا"  
: سنن ترمذی:

چنانچہ ابو طالب نے آپ ﷺ کو مکہ واپس بھیج دیا۔  
سبق: اللہ نے بچپن سے ہی اپنے نبی کی حفاظت فرمائی۔

بچپن سے ہی آپﷺ صادق اور امین تھے۔

سبق  
اس ساری سیرت سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ جسے منتخب کرتا ہے اس کی تربیت خود کرتا ہے۔ یتیمی، تنگی اور آزمائش کے باوجود آپ کا اخلاق سب سے بلند تھا۔

اللہ ہم سب کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھ کر عمل کرنے والا بنائے۔ آمین ثم آمین

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔