طلاق دینے کا صحیح طریقہ(2)۔ از قلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-


طلاق دینے کا صحیح طریقہ(2)
از قلم: ظفر ھاشمی ندوی سابق فیملی کونسلر دبی کورٹ-

پہلی قسط  میں ہم نے تفصیل سے طلاق دینے کے غلط طریقہ کا ذکر کیا ہے- آج ہم اسکا شرعی لحاظ سے صحیح طریقہ بیان کریں گے-
اس کا سب سے صحیح طریقہ یہ ہے کہ طلاق دی ہی نہ جائے - کیونکہ کسی بیماری کا پہلا علاج آپریشن نہیں ہوتا ہے بلکہ آپریشن ہر بیماری کا آخری علاج ہے - بلا شبہ طلاق کی حیثیت آپریشن سے کم نہیں ہے اور بد قسمتی سی مردوں نے طلاق جیسے مہلک مرض کا پہلا علاج طلاق دینا بنا لیا ہے - یہ بحث الگ ہے کہ زیادہ غلطیاں کس کی تھیں یا ہوتی ہیں - عجیب بات ہے کہ ہر شوہر جو سلوک اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے اگر وہی سلوک اس کی بہن یا بیٹی کے ساتھ ہو تو وہ ظلم ہے اور خود وہی کرے تو وہ انصاف ہے- اسی طرح ساس جو سلوک اپنی بہو کے ساتھ کرتی ہے اگر وہی سلوک اس کی بیٹی یا بہن کے ساتھ ان کی ساس کرے تو وہ ظلم ہے- آخر یہ کونسا انصاف ہے؟ ہمارے معاشرہ کی تقریبا ہر ساس یہ بھول جاتی ہے کہ جب اس کی ساس اس کے ساتھ ظالمانہ رویہ اختیار کرتی تھی تو اس پر کیا گزرتی تھی؟ ہونا تو یہ چاہیئے کہ آچ کی بہو جب کل کو ساس بنے تو اپنی  سابقہ مصیبت کو یاد کر کے وہ اس ظلم کو نہ دہرائے-
اس بنیادی کڑوی حقیقت کے ساتھ یہ بھی یاد رہے کہ ہر شوہر اور بیوی اور بہو اور ساس سب کے سب انسان ہیں اور ہر انسان کہیں نہ کہیں غلطی کرتا ہے - ایک اچھا انسان ہمیشہ دوسرے کی غلطی کو معاف کر دیتا ہے نہ کہ اس کو ستاتا ہے - قرآن کریم نے نیک مسلمان کی خوبی یہ بتائی ہے ( والکاظمین الغیظ و العافین عن الناس واللہ یحب المحسنین- نیک طبیعت مسلمان غصہ کو پی جاتے ہیں یعنی غصہ ہوتے ہی نہیں ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ احسان کرنے والوں کو یعنی ہر اچھے کام کو بہتر سے بہتر کرنے والوں کو بیحد پسند کرتا ہے-
طلاق کا دوسرا قرآنی طریقہ یہ ہے کہ شوھر پہلے اپنی بیوی کو اس کی بار بابر ہونے والی غلطی کو پیارم و محبت سے سمجھائے - کچھ وقت اس کو سدھرنے کا موقع دے - اگر وہ پھر بھی نہ سدھرے تو اس کے ساتھ صحبت نہ کرے اور کچھ وقت اس کو سدھرنے کا موقع  دے-  انتہائی ضرورت کی صورت میں ہلکا پھلکا مار بھی سکتا ہے -اس کے بعد دونوں گھروں کے سمجھ دار افراد سے بات کرے اور دونوں گھروں کے بزرگ مل جل کر شوھر اور بیوی کے اختلافات انصاف کے ساتھ سنیں اور اصلاح کی کوشش کریں- اگر اس پر بھی  نافرمانی باقی رہے تو پہلے زبان سے طلاق کی دھمکی دے اور کچھ کم زیادہ دنوں ہفتوں یا مھینوں کا وقت دے دے-
3- اگر ہر کوشش ناکام ہو جائے تو پھر اس کو پاکی کی حالت میں صرف ایک طلاق دے بشرطیکہ اس کے ساتھ صحبت نہ کی ہو- اگر صحبت کر چکا ہے تو پھر اسکی اگلی پاکی کا انتظار کرے اور صحبت کئے بغیر ایک طلاق دے-
4- ایسی طلاق کو شریعت میں رجعی طلاق کہتے ہیں- اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ طلاق دینے کی تاریخ سے مطلقہ عورت کی عدت شروع ہو جاتی ہے- یہ عدت شریعت میں ناپاکی کے تین مہینہ ہوتی ہے - تیسری ماہواری کے بعد جو پاکی شروع ہوگی اس سے مطلقہ عورت کی عدت ختم ہو جائے گی - 
5- عدت کے ان تین مہینوں کا تمام ضروری خرچ شوہر کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق دینا ہوگا اور عورت عدت کے تین مہینوں کے ختم ہونے سے پہلے دوسرے مرد سے شادی نہیں کرسکتی -
5- اس طلاق رجعی میں شوھر جب چاہے ،دی گئی طلاق کو منسوخ کر سکتا ہے جسے شریعت میں رجوع کہتے ہیں - یہ رجوع زبانی ہو سکتا ہے یا لکھ کر یا آجکل کے لحاظ سے موبائل ، ای میل اور سوشل میڈیا کے کسی بھی ذریعہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے یا عملی طور پر ایک دوسرے کو چھو کر یا صحبت کرکے بھی - بھر حال رجوع یا منسوخ کرنے کا شرعی فتویٰ یا حکم کا کاغذی ثبوت رکھنا بے حد ضروری ہے -
6- اگر تین مہینوں کے اندر رجوع کرلیا تو اس عمل سے بغیر کسی نکاح کے پہلے کی طرح دونوں شرعی شوھر اور بیوی کہلانے کے مستحق ہوں گے اور ساتھ میں رہ سکتے ہیں- لیکن عدت کی مدت ختم ہو جانے کے بعد ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن جائیں گے - اور اگر دوبارہ ساتھ رہنے کا اردہ ہو تو پھر سے دونوں کا نکاح بغیر حلالہ کے ہو گا - یعنی نیا قاضی نیا مہر اور نئے دو گواہ کے ساتھ دوبارہ نکاح پڑھانا ہوگا - 
7- اگر ایک کے بعد دوسری اور پہر تیسری طلاق دے دی چاہے ایک ساتھ یا الگ الگ تو تیسری طلاق دینے کے بعد اب حلالہ کے بغیر یہ پرانے میاں بیوی آپس میں نکاح نہیں کرسکتے-
8- حلالہ کیا ہے؟
حلالہ یہ ہے کہ تین طلاق ہو جانے کے بعد ایسی عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے - اگر یہ نکاح  اس شرط کے ساتھ ہو کہ نکاح کے فورا یا کچھ وقفہ سے نیا شوھر طلاق دےگا اور بغیر کسی جنسی تعلق  یا جنسی تعلق کے ساتھ تو یہ حرام ہے- حدیث شریف کے الفاظ ہیں ( لعن اللہ المحلل و المحلل له- جو شخص  تین طلاق والی عورت سے نکاح اس لئے کرے کہ نکاح کے بعد اس کو طلاق دے اس کے پہلے شوھر کے لئے ، تو ان دونوں مردوں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو)-
یہ اس لئے کہ اسلام میں نکاح مذاق نہیں ہے بلکہ ایک شریفانہ عمل ہے اور ہمیشہ کے لئے ہے جبکہ زنا وقتی طور پر جنسی تسکین کے لئے ہے اور زنا اسلام میں حرام ہے -
اللہ تعالی ہم سب کو ہر حال میں صحیح اسلام پر عمل کی توفیق عطا فرمائے- آمین-

Comments

Popular posts from this blog

پانگل جونیئر کالج میں نیٹ, جی میں کامیاب طلباء کا استقبال۔

شمع اردو اسکول سولاپور میں کھیلوں کے ہفتہ کا افتتاح اور پی۔ایچ۔ڈی۔ ایوارڈ یافتہ خاتون محترمہ نکہت شیخ کی گلپوشہ

رتن نیدھی چیریٹیبل ٹرسٹ ممبئی کی جانب سے بیگم قمر النساء کاریگر گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج کو سو کتابوں کا تحفہ۔