مہاراشٹریونیفارم سول کوڈ بِل2026 - ازقلم ۔۔۔ منظور ندیم سابق جج اکولہ
مہاراشٹریونیفارم سول کوڈ بِل2026 -
ازقلم ۔۔۔ منظور ندیم سابق جج اکولہ
یونیفارم(یکساں) سول کوڈ جسےعرفِ عام میں مرکزی سطح پر" ایک ملک، ایک قانون" نیز ریاستی سطح پر " ایک ریاست، ایک قانون" کہا جاسکتا ہے، ہمارے ملک کی محض ایک چھوٹی سی ریاست گوا میں آزادی سے قبل سن 1870 سے نافذ ہے اور پُرتگالیوں کے سول کوڈ سے ماخذ ہے۔آزادی کے بعد آٸینِ ہند کے نفاذ کو 76 سال کا طویل عرصہ گزر چکا، تاہم فی زمانہ 28 مختلف ریاستوں اور آٹھ مرکزی علاقوں پر مشتمل اس عظیم ملک کی محض تین ریاستوں نے ائینِ ہند کے ارٹیکل 44 میں دیے گئے ایک رہنما اصول پر عمل پیرا ہونے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔غور طلب ہیکہ اسقدر طویل عرصہ گزر جانے کے بعد اتراکھنڈ میں محض سن 2024 میں نیز گجرات اور آسام میں تو ابھی ابھی مارچ اور مئی 2026 میں اس ریاستی قانون کو پاس کروایا گیا ہے !! مقام مسرت ہی کہنا چاہیۓ کہ ہماری ترقی یافتہ اور تیز رفتار ریاست مہاراشٹر مستقبل قریب میں اس سلسلے کی چوتھی ریاست بن جانے کا عزم رکھتی ہے۔حکومتِ مہاراشٹر نے 13 مارچ 2026 کو اس سلسلے میں قانون سازی کا جو مجوّزہ بل تیار کیا ہے، اُس کا اردو ترجمہ اس وقت راقم الحروف کے پیش نظر ہے۔
بقولِ غالب۔۔۔۔
آج ہم اپنی پریشانٸ خاطر ان سے
کہنے جاتے تو ہیں پر دیکھیۓ کیا کہتےہیں
اس میں کوئی شک نہیں کہ آٸینِ ہند کے حصہ چہارم میں ریاستی پالیسی کے رہنما اصول سُجھاٸے گئے ہیں جو ارٹیکل 38 سے ارٹیکل 51 تک آٸینِ ہند میں درج ہیں. ارٹیکل 44 میں مرکز اور ریاستی حکومتوں کو شہریوں کی فلاح کے لیے یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنے کی بات ضرور کہی گئی ہے۔مگر اسے حکمِ مطلق قطعی نہیں کہا جاسکتا۔ ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اسی آٸینِ ہند نے اپنے حصہ سوم میں ٓ اس ملک کے شہریوں کو " بنیادی حقوق" ہی کے عنوان سے کچھ بنیادی حقوق بھی فراہم کیے ہیں، جو آٸین ہند کے آرٹیکل 14 سے آرٹیکل 30 میں درج ہیں۔آرٹیکل 13(2) میں ایسا کوٸ بھی قانون نافذ کرنے سے منع کیا گیا ہے، جس سے مذکورہ بالا بنیادی حقوق پر آنچ آتی ہو۔
اس سے قطع نظر، آٸینِ ہند کے نفاذ کے بعد سے اب تک کی ہماری عدلیہ کی تاریخ بھی گواہ ہے کہ جب جب بھی مذکورہ رہنما اصولوں اور بنیادی حقوق کے درمیان ٹکراؤ کی نوبت ائی ہے، ہماری عدالت عظمی نے بنیادی حقوق کو رہنما اصولوں پر ترجیح دی ہے۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے کچھ عہد آفریں اور تاریخی فیصلوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے، جن میں اسٹیٹ بینک اف مدراس بنام چمپا کام دوراٸ راجن سپریم کورٹ( 1951), کیسوا نندا بنام اسٹیٹ اف کیرالا سپریم کورٹ( 1973), منرول ملز بنام یونین اف انڈیا سپریم کورٹ( 1980) وغیرہ کی مثالیں دی جا سکتی ہیں۔ کیسوا نندا بنام اسٹیٹ اف کیرلا کی مذکورہ کیس میں سپریم کورٹ نے بے شک یہ ضرور واضح کیا ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ اگر چاہے تو رہنما اصولوں کے اطلاق کی غرض سے آٸین میں ترمیم بھی کر سکتی ہے، تاہم اس کے لیے ائین کے بنیادی ڈھانچے کا متاثر نہ ہونا شرط ہے۔ واضح ہو کہ بنیادی حقوق میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کے اراکین کی خصوصی اکثریت کی حمایت درکار ہے۔ خصوصی اکثریت سے مراد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں موجود اور ووٹنگ میں شریک دو تہائی اراکین کی حمایت نیز دونوں ایوانوں کے نصف سے زاٸد اراکین کی حمایت بیک وقت، بشمولِ منظورٸ صدرِ جمہوریہ۔۔۔۔( بمطابق آرٹیکل 368 آٸینِ ہند) ۔ ان حالات میں اگر ہماری ریاستی حکومت یہاں کے باشندوں کی فلاح و بہبود کیلۓ ائینِ ہند میں عطا کردہ ان کے موجودہ بنیادی حقوق کو دھکّا لگائے بغیر کوٸ ریاستی قانون نافذ کرتی ہے تو اس کا پر جوش استقبال سبھی فرقوں کی سماجی ذمہ داری ہوگی ۔
مذکورہ بالا مجوّزہ بل کے سرسری جائزے سے جو بات سامنے ارہی ہے وہ بادی النظر میں کچھ فرقوں کے لیے باعثِ تشویش بنی ہوٸ ہے۔ معاملاتِ وراثت و وصیت اور شادی و طلاق کے علاوہ بطور خاص لیو اِن ریلیشن شپ (بغیر شادی کے ایک ساتھ رہنا) کی بالواسطہ حوصلہ افزائی سے کچھ فرقوں کے سامنے مذہبی آزادی سے متعلق ان بنیادی حقوق پر آنچ آنےکے امکانات روشن ہو گۓ ہیں جن کی حفاظت کی ضمانت آٸینِ ہند کے ارٹیکل 25 اور ارٹیکل 26 میں دی گئی ہے۔اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جاٸے کہ آٸین میں بنیادی حقوق سے چھیڑ چھاڑ کی کوٸ گنجاٸش بھی کہیں موجود ہے،تب بھی 76 سال کی ہماری مسلسل خاموشی کم از کم اس بات کی متقاضی تو ضرور ہیکہ اس حسّاس معاملے میں عوام النّاس کی راٸے طلب کی جاٸے۔ استصوابِ راٸے عامّہ ہمارے یہاں کوٸ نٸ بات نہیں ہے۔پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ آزادی کے بعد سے اب تک قانون سازی کا جاٸزہ لینے والی اکسپرٹ کمیٹی بنام لاء کمیشن آف انڈیا باٸیس مرتبہ اپنی رپورٹ پیش کرچکی ہے، لیکن کسی ایک رپورٹ میں بھی تادمِ تحریر یکساں سول کوڈ کی سفارش نہیں کی گٸ ہے۔ اس کے برخلاف اکیسویں لاء کمیشن نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر کہا ہیکہ نہ تو یہ ہمارے ملک میں ضروری ہے، نہ اس کے نفاذ کی نصیحت کی جا سکتی ہے۔غالبا" یہی وجہ ہیکہ قومی سطح پر مرکزی حکومت نے بھی یکساں سول کوڈ کے نفاذ کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔
درجِ بالا تمام حقاٸق سے قطع نظر ، بعد از نفاذِ مجوّزہ بل، بصورتِ تصادم ،کچھ اہم موجودہ قوانین کی متنازعہ شقوں کے ختم کۓ جانے کی وارننگ بھی الگ الگ سوالات کھڑے کررہی ہے، جس کا اشارہ زیرِنظر بل کے حصہ دہم میں دیا گیا ہے۔ درجِ ذیل تین قوانین مذکورہ بالا موجودہ قوانین میں بطورِ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔
1 ہندو وراثت ایکٹ 1956
2 مسلم پرسنل لاء ( اطلاقِ شریعت) ایکٹ 1937
3 انڈین کرسچن ایکٹ 1872
بہرحال اس بارےمیں آج تفصیلی گفتگو کرنا قبل از وقت اس لیے ہوگا کہ ابھی اس بل کو قانون میں تبدیل ہونے سے پہلے کے مختلف مراحل سے گزرنا ہے۔ ہمیں امید ہے اور ہماری مودّبانہ گذارش بھی ہیکہ اس بل کو قطعی شکل دینے کے لیے جو سات رکنی ایڈوائزری کمیٹی حال ہی میں تشکیل دی گئی ہے وہ اس ریاست میں بسنے والے اکثریتی اور اقلیتی فرقے کے تمام افراد کے جذبات سے وابستہ بنیادی حقوق کا پورا پورا خیال رکھے گی نیز حسبِ حاجت صحت مند ترمیمات کے ذریعےاسے قطعی شکل عطا کرے گی۔ سپریم کورٹ کی سابق جسٹس محترمہ رنجنا دیساٸ صاحبہ اس کمیٹی کی صدر نامزد کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ بمبٸ ہاٸ کورٹ کے دو سابق جسٹِس آنریبل آر۔سی۔چوان صاحب اور ایس۔جی۔مہرے صاحب جیسے ماہرینِ قانون کی اس ایڈواٸزری کمیٹی میں شمولیت بھی ہمارے لۓ خوش آٸند ہے۔ بقول ریاستی وزیر اعلیٰ اس ایڈوائزری کمیٹی کو اپنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے چھ ماہ کی مدت دی گئی ہے تاکہ ناگپور کے سرماٸ اجلاس میں یہ بل ریاستی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جا سکے۔ وقت کی تنگی اور اس تیزگامی کو سلام، لیکن گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار ہمارے وطن عزیز کی اس اہم ریاست کے کئی گوشوں سے یہ صدائیں بھی بلند ہو رہی ہیں کہ اس اہم ایڈوائزری کمیٹی میں یہاں بسنے والے سبھی فرقوں کو مناسب نمائندگی دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ بقول مرحوم سرشار سیلانی۔۔۔۔
چمن میں اختلاطِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے۔
ہمیں ہم ہیں توکیاہم ہیں تمہی تم ہوتوکیاتم ہو
( منظور ندیم )
Comments
Post a Comment